تازہ ترین

GB News

اپیلٹ کورٹ میں47 غیر قانونی بھرتیوں اور ترقیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

Share Button

سپریم اپیلیٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان 47غیرقانونی بھرتیوںاور ترقیوں کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیا،بار ایسوسی ایشن کی درخواست میں وزارت امورکشمیر ،گلگت بلتستان کونسل،رجسٹرار سپریم اپیلیٹ کورٹ ،آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور مبینہ طورپر بھرتی ہونے والے افراد سمیت 54لوگوں کوفریق بنایاگیا ہے مبینہ طورپرغیرقانونی بھرتی ہونے والے جن افراد کو فریق بنایاگیاہے ان میں اپیلیٹ کورٹ کے سیکرٹری عثمان بشیرجنجوعہ ،گریڈ 18کے پرنسل سٹاف آفیسر نبیل ادریس، گریڈ 18کے اسسٹنٹ رجسٹرار مظہر حسین،گریڈ 18کے پروٹوکول آفیسر کاشف نواز عباسی ،گریڈ 18کی ڈی ڈی آئی ٹی ثمینہ اکبر ،گریڈ 17کی سپرنٹنڈنٹ ثنا زہرا،گریڈ 17کے سپرنٹنڈنٹ سید محمد ابرار شاہ ،گریڈ 17کے اکاونٹنٹ محبت جمال ،گریڈ 17کے پی اے اطہر محمود،گریڈ 16کے سٹینو گرافر محمد آصف ،گریڈ 16کے اسسٹنٹ جنید اکبر ،گریڈ 16کے اسسٹنٹ اکائونٹس آفیسر وجاہت حسین ،گریڈ 15کے پی اے شاہد حسین ،گریڈ 15کے پی اے قاضی وسیم ،گریڈ 14کے سٹینو گرافر مہتاب احمد گریڈ 16کے سٹینو ٹائپسٹ شاہ خالد،گریڈ 11کے ایل ڈی سی عمر خطاب،گریڈ 11کے ایل ڈی سی محمدعاصم ،ڈرائیور محمد سیف شاہ ،ڈرائیور ابرار مسیح ،ڈرائیور عمران جیمز ،ڈرائیور محمد نذیر ،چوکیدار ارشد محمود ،نائب قاصد ماجد محمود،نائب قاصد شاہ جہاں ،کک نذیر الہٰی،سویپر اکرم جیمز،سویپر روہال،سویپر زہیب آفتاب مسیح ،سویپر پیٹرس ،سویپر شفقت مسیح ،نائب قاصد نذیر رفیق،نائب قاصد امجد خان،سویپر ذیشان مسیح،سویپر عنان پھول مسیح ،ٹیلی فون آپریٹر آصف خان،ڈرائیور صابر ،ڈرائیوراسد اللہ ،گریڈ ون رضوان رزاق ،گریڈ ون محمد ایاز ،گریڈ ون عبدالواجد اور محمد ریاض ،جان رابرٹ ،ایل ڈی سی فواد یونس ،نائب قاصد اسرار احمد اور نائب قاصد اسد علی شامل ہیں ،بار کا موقف ہے ان تمام افراد کو غیر قانونی طورپربھرتی کیاگیا اور بعض کو خلا ف ضابطہ ترقیاں دی گئیں اس سے پہلے سابق چیف جج اپیلیٹ کورٹ رانا شمیم پر الزام تھا کہ انہوںنے 37غیر قانونی بھرتیاں کیں اورکئی افراد کو راتوں رات غیرقانونی طورپرترقیاں دیں۔دوسری جانب گلگت میں سپریم اپیلیٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر شوکت علی خان ایڈووکیٹ ،وائس پریزیڈنٹ علی ،شیرولی ایڈووکیٹ ،جنرل سیکرٹری محمد حسین شہزاد نے حلف برادری کے موقع پر میڈیا بریفنگ میں اس بات کی تصدیق کی کہ بار کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف سپریم کورٹ میںپٹیشن دائر کردی گئی ہے ۔وکلاء رہنمائوں کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں عدالتی بحران ہے اپیلیٹ کورٹ ججز سے خالی ہے جبکہ اے ٹی سی نمبر 2اورنیب کورٹ میں بھی کوئی جج نہیں،اپیلیٹ کورٹ کے سابق چیف جج نے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ کورٹ میں کوئی بھی ایک غیرقانونی بھرتی نہیں ہوگی لیکن انہوںنے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے بعد میں اس کے خلاف وکلاء نے آواز اٹھائی تو چیف جج نے ان کے لائسنس معطل کردیے ۔ساتھ ہی انہوںنے غیر قانونی طورپر لائسنس بھی جاری کئے انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان میں کوئی اصول نہیں ہے ایسے لوگوں کو اپیلیٹ کورٹ کا چیف جج بنادیاگیا جو ایک پراسیکیوٹر سے زیادہ کچھ نہیں تھے ،اپیلیٹ کورٹ کو مجسٹریٹ کورٹ بنادیاگیا ،ایک سوال کے جواب میں وکلاء کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں ایک ہی سپریم کورٹ ہونی چاہیے جب یہاں سپریم اپیلیٹ کورٹ ہے تو پھر سپریم کورٹ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔انہوںنے کہا کہ یہاں ایک ایسا چیف جج بھی رہا ہے جنہوںنے ایک بھی کام نہیں کیا ان کا کام روزانہ صرف 3اخبار پڑھنا ہوتا تھا ،رانا شمیم ایک پراسیکیوٹر سے زیادہ کچھ نہیں تھا تاہم نواز عباسی نے کورٹ کو بنایا اور فیصلے بھی دیے انہوںنے تھوڑا بہت کام بھی کیا ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔

Facebook Comments
Share Button