تازہ ترین

Marquee xml rss feed

افغان حکومت کے اعتراضات اب مسترد، وزیراعظم نے افغان طالبان سے ملاقات کا عندیہ دے دیا ٹرمپ سے ملاقات کے بعد صورتحال واضح ہو چکی اس لیے اب افغان طالبان سے ملاقات ہوگی، افغانستان ... مزید-این اے 205 گھوٹکی ضمنی الیکشن، پیپلز پارٹی نے اپ سیٹ کرکے فتح حاصل کر لی حلقے کے تمام 290 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج میں پی پی امیدوار سردار محمد بخش مہر نے ... مزید-موسم پھر سے بدلنے لگا، محکمہ موسمیات کی تازہ ترین پیشن گوئی لاہور سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں منگل کی شب سے مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگا جو اگلے کئی روز تک جاری ... مزید-ٹرمپ، عمران خان ملاقات میں تاریخ رقم کر دی گئی پاکستان امریکا تعلقات کے 72 برسوں کے دوران کبھی کس امریکی صدر نے پاکستانی وزیراعظم یا صدر کیساتھ اتنی طویل پریس کانفرنس ... مزید-سچ یہ ہے کہ امریکی صدر سے ملاقات سے قبل کچھ خدشات کا شکار تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ گزشتہ روز ہوئی ملاقات خوشگوار تجربہ تھی، زندگی میں کبھی کسی نے اتنے مشورے نہیں دیے ... مزید-دورہ امریکہ: عمران خان کی شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بولا: صمصام بخاری مسئلہ کشمیر پر شاندار موقف نے بھارت کو لا جواب کر دیا،عمران خان نے ثابت کیا وہ پاکستان کے حقیقی رہنما ... مزید-ایل ڈی اے میں اشد ضرورت کے مطابق انجینئرنگ اورٹیکنیکل سٹاف کی بھرتی کی منظوری شاہکام چوک پر فلائی اوور کی تعمیراورڈیفنس روڈ تا لیبر کالونی توسیعی منصوبہ جلد شروع کرنے ... مزید-پسماندہ علاقوں خصوصاً جنوبی پنجاب کیلئے فلاح عامہ کے منصوبوں کی خود نگرانی کررہا ہوں :عثما ن بزدار تحریک انصاف کی حکومت نے وسائل کا رخ پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ بنانے ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا تحریک پاکستان کے کارکن و سابق ہاکی او لمپین خواجہ اسلم کے انتقال پر اظہار تعزیت-وفاقی دارالحکومت میں آئوٹ آف سکولز چلڈرن مہم کے تین ماہ کے دوران 7ہزار بچوں کا سکولوں میں داخلہ کرایا گیا‘ شفقت محمود بچوں میں غذائیت کی کمی کو پوراکرنے کے لئے فوڈ ... مزید

GB News

سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے تقاضے

Share Button

انسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان ثناء اللہ عباسی کی زیر صدارت پولیس ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے اجلاس میںملکی و غیر ملکی سیاحوں کی چیکنگ اور کانوائے سسٹم کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں۔ ٹورز آپریٹرز نے کہا کہ جگہ جگہ چیکنگ سے سیاح ذہنی اذیت میں مبتلا ہو رہے ہیں، گلگت بلتستان جانے کیلئے کانوائے سسٹم بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ثناء اللہ عباسی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دی جائیں، ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے صرف انٹری پوائنٹ پر چیکنگ کا ایک طریقہ کار وضع کرنا چاہتے ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ سیاحوں کے لئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیداکریں تاکہ گلگت بلتستان میں سیاحت پھلے پھولے۔گلگت بلتستان میں روزگار کا انحصار زیادہ تر ٹورازم سے وابستہ ہے اسی لئے جی بی پولیس نے ٹورسٹ پولیس متعارف کرائی ہے۔انشاء اللہ اس سے بھی ٹورازم انڈسٹری پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔سیاحت کی بہتری کیلئے جوتجاویز پیش کی گئی ہیں وہ قابل غور اور قابل عمل ہیں۔سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے انہیں پرسکون ماحول کی فراہمی بھی حکام کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔امن وامان سیاحت کیلئے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا جانا چاہیے۔سیاحوں کو اگر مشکلات پیش آئیں گی تو وہ کیسے سیاحت کے لیے ادھر کا رخ کریں گے اس تناظر میں ٹورسٹ پولیس کا قیام ایک مثبت پیش رفت ہے۔ہم جانتے ہیں کہ قدرت نے پاکستان کو قدرتی وسائل اور خوبصورت مقامات سے اس قدر نوازا ہے کہ اگر ہم ان سے مناسب طریقے سے استفادہ کریں تو ہمارے تمام معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کسی بھی دور میں اس طرف دھیان نہیں دیا۔ اگر اس حوالے سے کبھی کوئی بات ہوئی تو وہ بھی محض کاغذی منصوبہ بندی تک ہی محدود رہی۔حقیقت میں سیاحت سے اربوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں اگر ہم اپنے ان مقامات سے استفادہ کریں تو ہمیں سعودی عرب و امریکا اورچین و ملائیشیا کی ضرورت نہیں ہو گی۔ہمارے سیاحتی مقامات اپنے اندر قدرتی طور پر ایسی کشش رکھتے ہیں کہ زمانہ قدیم سے سیاحت کے شوقین افراد ان کا مشاہدہ کرنے کے لئے دور درازکے سفر اختیار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کا شمار اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے لحاظ سے دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب وسیع وعریض زرخیز میدان بھی موجود ہیں۔ قدرتی مناظر میں ساحل سمندر سے لے کر آسمان کو چھوتی برف پوش چوٹیاں، خوبصورت آبشاریں، چشمے و جھرنے، سرسبز گھنے جنگلات ، وادیاں، جھیلیں اور صحرا شامل ہیں۔یہاں رومان پرور وادی کاغان،گلیات، وادی کیلاش، وادی ہنزہ، شنگر یلا ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔دنیا کے بیشترممالک میں ایک بھی دریا نہیں بہتا جبکہ پاکستان کی سرزمین پرسترہ بڑے دریا بہتے ہیں،یہاں سبزہ زار بھی ہیں اور ریگ زار بھی، ہمارے وطن عزیز میں چاروں موسم ہیں۔اگر ان مقامات کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات دے کر فروغ دیا جائے تو یہ تہذیبیں بھی بالکل اسی طرح اربوں ڈالر منافع دیں گی جس طرح بھارت کے شہر آگرہ میں تاج محل، دلی میں قطب مینار، ہمایوں کا مقبرہ اور دیگر مقامات سے اربوں ڈالرز منافع حاصل ہو رہا ہے۔ ورلڈ ٹور آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں دنیا بھر میں سفر کرنے والے سیاحوں کی تعداد ایک ارب پچیس کروڑ سے زیادہ ہے۔اس لحاظ سے فرانس سب سے آگے ہے جہاں گزشتہ سال دس کروڑ سیاحوں نے رْخ کیا جس سے فرانس کو سیاحت کی مد میں سوارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی ہوئی۔ اسی طرح سپین، امریکا، چین، اٹلی ،میکسکو، برطانیہ، ترکی،جرمنی اور تھائی لینڈ جیسے ممالک سیاحت کے فروغ میں ہمہ وقت کوشاں ہیں اور اربوں ڈالر کا ریونیو اکٹھا کر رہے ہیں۔ جبکہ دنیا کے 34 ممالک کا بنیادی ذریعہ آمدن بھی سیاحت ہی ہے۔ہمارے پاس پاکستان میں ایک ہزار کلومیٹر سے زائد کا علاقہ ساحل سمندر پر واقع ہے، ہم گوادر اور کراچی کے درمیان میں سمندر کنارے ایک ٹورازم سٹی بنا سکتے ہیں، دنیا میں بے شمار شہر ایسے ہیں جو ٹور ازم کے نام پر آباد کیے گئے ہیں۔ لاس ویگاس اس کی ایک بڑی مثال ہے جو دنیا کے پانچ بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ اسی طرح سنگاپور، سانتامونیکا(کیلیفورنیا)، کیپ ٹائون، ہانگ کانگ، سڈنی، ہونولولو، میامی، دبئی اوربارسلونا وغیرہ جیسے شہر جو ساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے ملک کی اکانومی کے لیے گولڈن جگہوںکی حیثیت رکھتی ہیں۔ بالکل انہی شہروں کی طرز پر ٹورسٹ ساحل بنائے جا سکتے ہیں،اس کیلئے حکومت کو محض ٹرانسپورٹ سسٹم فراہم کرنا ہوگا، دنیا ان ساحلوں کو دیکھنے اور یہاں ہوٹل بنانے کے لیے خود آجائے گی۔دبئی نے بھی یہی کام کیا تھا۔ آج اگر دبئی ائیر پورٹ دنیا کا دوسرا سب سے مصروف ائیر پورٹ بن چکا ہے تو یہ یہاں کی مقامی آبادی کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاحوں کی آمدورفت کی وجہ سے ہے۔ دبئی اسلامی ریاست ضرور ہے، یہاںمذہب بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، ایک سے بڑھ کر ایک بڑی مسجد وہاں تعمیر ہے مگر وہ لوگ سیاحت کے فروغ میں دنیا کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ سیاحوں کو ان کلچر کے مطابق سہولیات دیتے ہیں،آپ دبئی کو چھوڑیں مراکو، مصر اور انڈونیشیا جیسے اسلامی ملک بھی سیاحوں کو سہولیات دینے میں کسی سے پیچھے نہیں لیکن ہم ٹور ازم کو پروموٹ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ہمارے شمالی علاقہ جات دنیا پر جنت کا نمونہ ہیں ۔ہمارے ہاں دنیا کی چھ بڑی چوٹیاں ہیں، لیکن ہم انہیں پروموٹ نہیں کر سکے۔ پورا نیپال مائونٹ ایورسٹ کی وجہ سے اربوں ڈالر کماتا ہے جبکہ ہمارے پاس ان کے برعکس سیاحتی مقامات ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن تھوڑی سی برف باری ہونے یا موسم خراب ہونے کی صورت میں شاہراہ قراقرم بند ہو جاتی ہے۔ ناران کاغان جیسے سیاحتی مقامات سردیوں کے پانچ ماہ تک بند رہتے ہیں۔ سوات ، کالام ، بحرین جیسے خوبصورت مقامات سے زمینی راستہ منقطع ہو جاتا ہے۔جبکہ یورپی ملکوں میں جہاں سب سے زیادہ برف باری ہوتی ہے لیکن وہ اس موسم کو بھی کیش کرواتے ہیں، سوئٹزر لینڈ جیسے ملک میں سولہ ہزار فٹ تک مقامات کو سہولیات سے نوازا ہوا ہے۔ اس لیے دنیا بھر سے سیاح وہاں کھنچے چلے جاتے ہیں۔ امریکا میں جہاں کہیں چھوٹا سا بھی پہاڑ ہوگا، وہاں وہ ایک ٹرین کے لیے ٹریک بنا دیا جاتا ہے، کوئی ایک اچھا سا ریسٹورنٹ یا فائیو سٹار ہوٹل بنا دیتے ہیں اور اْسی جگہ کو وہ اس طرح سے استعمال کرتے ہیں کہ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر بھی معیشت کو سپورٹ ملتی ہے۔آگرہ میں تاج محل دیکھنے کے لیے سالانہ پانچ کروڑ سیاح آتے ہیں،جبکہ آگرہ کا رقبہ ہمارے چھوٹے سے شہر قصور جتنا ہے لیکن وہاں دو سو سے زائد بڑے بڑے ہوٹلز موجود ہیں۔ ہمارے ہاں اسی طرز کے تاریخی مقامات بھی کسی سے کم نہیں ہیں،پاکستان کے صحرائوں کو کون نہیں جانتا۔ یہاں پر شکار کرنے کے لیے عربی آتے ہیں لیکن مقامی لوگوں کو علم ہی نہیں، چولستان میں سفاری جیپ ریلی، شندور جیسے مقام پر سالانہ میلہ سجتا ہے مگر ہم اسے کیش نہیں کروا سکتے۔شمالی علاقہ جات میں بہت سے غیر ملکی سیاح آتے ہیں مگر تھکا دینے والے سفر اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث انہیں مشکل پیش آتی ہے ۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے تمام وسائل اور ضروری اقدامات برئوے کار لائے جائیں تاکہ ہم اس صنعت کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت کے استحکام کو ممکن بنائیں۔

Facebook Comments
Share Button