GB News

گلگت بلتستان کی صوبائی کابینہ نے داریل،تانگیر،گوپس یاسین اورروندوکونئے اضلاع بنانے کی منظوری دے دی

Share Button

گلگت(پ ر)گلگت بلتستان کی صوبائی کابینہ نے داریل،تانگیر،گوپس یاسین اورروندوکونئے اضلاع بنانے کی منظوری دے دی۔کابینہ اجلاس میں رمضان المبارک میںسستے بازاروں کے قیام،مستحق افراد کے لئے امدادی پیکیجزاوریوٹیلیٹی سٹورزمیں اشیائے خورونوش سستے دام فراہم کرنے کے لئے اقدامات کی بھی منظوری دے دی گئی۔کابینہ نے متعلقہ اداروں کوہدایت کی ہے کہ گلگت بلتستان کے لئے گندم کی ترسیل میں نیٹکوکوترجیح دی جائے اور اس حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے کئے جائیں۔وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوبائی وزرا،چیف سیکرٹری سمیت تمام سرکاری محکموں کے سیکرٹریزنے بھی شرکت کی۔کابینہ نے اگلے مرحلے میں نئے اضلاع ،سب ڈویژن ، تحصیل اور نیابتوں کی تشکیل کے لیے باقاعدہ طور پر پالیسی بنانے کی بھی ہدایت دی تاکہ مستقبل میں مذکورہ انتظامی یونٹس میں اداروں کے قیام اور وسائل کی فراہمی کے لیئے قانونی روڈمیپ بنایا جا سکے اور انتظامی یونٹس کو نچلی سطح تک عوامی فلاح و بہبود کے لیے تشکیل دیا جا سکے۔ اجلاس میں گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل فرید احمد نے بتایا کہ ہنزہ میں ششپر گلیشئیر روزانہ کی بنیاد پر حرکت کر رہا ہے اور اس کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے احکامات کی روشنی میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور حکومت کے تمام متعلقہ ادارے کمیونٹی کے ساتھ بھرپور رابطے میں ہیں۔ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لئے متبادل پل ، سڑکوں اور خوراک کے متبادل اقدامات کیئے گئے ہیں۔کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔سابق وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں جی بی ڈی ایم اے کے باقاعدہ قیام کے لئے ایک ارب روپے فراہم کیے تھے، جس سے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے ادارے بھی بنائے گئے ہیں اور مشینری بھی اضلاع کو فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ بھی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرر ہی ہے، صوبائی کابینہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے وفاقی فلڈ کمیشن اور وفاقی ادارے اپنا کر دار ادا کریں تاکہ وقت سے پہلے حادثات سے نمٹا جا سکے۔ اجلاس میں کابینہ نے ڈسٹرکٹ ہنزہ میںپلاسٹک بیگ پر پابندی کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کو بھی ہنزہ کی طرح پلاسٹک بیگ فری بنایا جائے تاکہ ماحول اور سیاحت کو فروغ ملے۔ کابینہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے انتظامی نیٹ ورک میں گلگت بلتستان کو علیحدہ ریجن بنایا جائے۔ رمضان کے لیے انتظامی سیکیورٹی ، صفائی اور دیگر انتظامات کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ نے اسپتالوں میں مریضوں کے لیے افطاری بکس فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ فوڈ پیک تمام اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز کے اسپتالوں میں دینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ کابینہ نے پیشہ ور گداگروں کی گلگت بلتستان داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ پیشہ ور گداگروں کو گلگت بلتستان میں نہ لائیں۔ بصورت دیگر ٹرانسپورٹ کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ کابینہ نے ہدایت کی ہے کہ پیشہ ور گداگروں کے سہولت کاروں کو تعزیری سزاوں کے تحت جیل بھیج دیا جائے۔ گداگر ی کی بیخ کنی اور حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے تاکہ گلگت بلتستان کا امیج متاثر نہ ہو۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ اشتراک کے ایکٹ 2019 کی بھی منظوری دی گئی۔ گلگت بلتستان بورڈ آف انویسٹمنٹ ایکٹ 2019کی بھی منظوری دی گئی۔ گلگت زون 2اور 3کے ٹریٹمنٹ پلانٹ برائے گلگت سٹی کی بھی منظوری دی گئی۔ گلگت شہر میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے اگلے مرحلے کے تحت سیوریج پائپ لائن بچھانے کے لیے تمام انجینئرنگ ضروریات کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت کا سیوریج منصوبہ سابق وفاقی حکومت کا منظور شدہ منصوبہ ہے ، اس منصوبے کے تحت ٹریٹمنٹ پلانٹ صوبائی حکومت نے بنانا تھا، جو کہ صوبائی حکومت تیار کر چکی تھی۔ جبکہ سیوریج لائسنسنگ کا بجٹ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو دینا تھا۔ صوبائی کابینہ کا متفقہ اور پرزورمطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت گلگت کے اس اہم اور مفاد عامہ کے منصوبے کے فنڈز فوری جاری کرے تاکہ یہ منصوبہ بر وقت مکمل ہو سکے۔ کابینہ کے اجلاس میں ہدایت دی گئی کہ گزشتہ کابینہ اجلاس میں پوسٹوں کی اپ گریڈیشن کے فیصلے کا بلا تاخیر نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور یکم اپریل سے عملدرآمد یقین بنائی جائے۔ کابینہ اجلاس میں بتایا گیا کہ اضلاع کے قیام میں آبادی اور ضلعی ہیڈ کوارٹر سے فاصلہ اور عوام کو در پیش دیگر مسائل کو مد نظررکھاگیا ہے گو پس کی آبادی89ہزار جبکہ ہیڈ کوارٹر سے فاصلہ48کلو میٹر بنتا ہے جبکہ داریل کی آبادی 74ہزار اور ہیڈ کوارٹر سے فاصلہ75کلومیٹر،روندو کی آبادی63ہزار اور ہیڈ کوارٹر سے فاصلہ70کلو میٹر اور ضلع تانگیر کی آبادی50ہزار اور ہیڈ کوارٹر سے فاصلہ72کلومیٹر بنتا ہے۔

Facebook Comments
Share Button