GB News

دس ملین سونامی مہم اور گلگت بلتستان

Share Button

وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم خان نے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیئے محکمہ جنگلات ، گلگت بلتستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے ،انہوں نے حسین آباد، حوطو اور سدپارہ فارسٹ پلانٹیشن کے دورہ کے موقع پر محکمہ جنگلات کی جانب سے اس سیزن میں ایک لاکھ سے زائد درخت لگانے کو سراہا۔ انہوں نے سرفہ رنگاہ ایونیو پلانٹیشن پرصحرا میں لگائے گئے ہزاروں کی تعداد میں درخت دیکھ کر بھی خوشگوار حیرت کا اظہار کیااور اسے ایک معجزہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت دس ملین سونامی مہم میں گلگت بلتستان کو سوفیصد فنڈنگ کرے گی، کیونکہ گلگت بلتستان میں پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے کہ ان کی حفاظت کی جائے۔ سات ارب روپے کی لاگت سے گلگت بلتستان میں 170ملین پودے لگائے جائیں گے۔ اس کی ادائیگی جلد یقینی بنائی جائے گی۔ہمارے ہاں جس تیزی سے درخت کاٹے جا رہے ہیں اس تناظر میں یہ ضروری ہے اس تناسب سے درخت اگائے جائیں لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ شجرکاری مہمات شروع تو بہت زوروشور سے کی جاتی ہیں لیکن لگائے گئے پودوں کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس لیے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو پاتے اور رقم کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے لیے درختوں کی کس قدر اہمیت ہے۔درختوں سے انسان کثیر زَر مبادلہ کماتا ہے۔ اچھے معاشرے میں درختوں کی بہت قدر و قیمت ہوتی ہے یہ تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور ادویات کی تیاری میں بھی ۔درخت زندگی کے ضامن ہیں بہت سے جانور سبزی خور ہوتے ہیں ان سبزی خور جانوروں کو انسان اور دیگر جاندار کھاتے ہیں اِس طرح درخت اور پودوں کے ذریعے خوراک کی ایک زنجیر وجود میں آتی ہے ۔ اِس کے علاوہ انسان ہوں یا جانور سبھی کو زندہ رہنے کے لیے آکسِیجَن کی ضرورت ہوتی ہے یہ آکسیجن درختوں اور پودون کے سوا اور کہیں سے نہیں ملتی ۔ اِس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب سے انسان نے دنیا میں آنکھ کھولی ہے درخت اِس کی اہم ترین ضروریات میں شامل رہے ہیں ۔آج ہمارے پاس درخت کم ہوتے جا رہے ہیں اِس لیے ضرورت اِس امر کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تاکہ زندگی اسی طرح رواں دواں رہے ۔ہم جانتے ہیں کہ دنیا کا اکتیس فیصد جنگلات پر مشتمل ہے معیشت دانوں کے مطابق کسی بھی ملک میں جنگلات کل رقبہ کے پچیس فیصد تک ہونے چاہیں پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ ایک اندازے کے مطابق تقریبا ساڑھے پانچ فیصد ہے جنگلات ہمارے ماحول کو آلودگی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں زمینی کٹاؤ،سیلاب گرمی سردی سے بھی محفوظ رکھتے ہیں پاکستان میں جنگلات کی رقبہ کے لحاظ سے کوئی بڑی تعداد نہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک کے ساتھ ساتھ صنعتی ملک بھی ہے اس کی پیداوار کا بہت بڑا حصہ لکڑی کی چیزیں بنا کر پورا ہوتا ہے پاکستان میں اسی نظریہ کو دیکھتے ہوئے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں درخت کاٹ کرمختلف قسم کی اشیاء کی تیاری میں لگا دیے جاتے ہیں درختوں کی روز بروز بڑھتی کٹائی ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جس رفتار سے کٹائی ہو رہی اس کے مقابلے میں پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے پاکستان میں ہر سال دو مرتبہ شجر کاری کا سیزن آتا ہے پہلا جنوری کے وسط سے شروع ہو کر مارچ کے وسط تک جبکہ دوسرا سیزن جولائی سے ستمبر کے وسط تک لیکن شجر کاری کے موسم میں اْس تعداد سے پودے نہیں لگائے جاتے جس رفتار سے درختوں کا خاتمہ کیا جاتا ہے پاکستان میں جنگلات کی بڑھتی ہوئی کٹائی کی بڑی وجہ آبادی میں اضافہ بھی ہے لوگوں کے رہنے کے لیے جنگلات کو ختم کر کے ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تعمیر ہے درخت نا صرف انسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ جانوروں اور پرندوں کے لیے بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں پاکستان میں جنگلات کے تیزی سے کٹاؤ کے نتیجے میں بے شمار جاندار ناپید ہونے کے قریب ہیں اور اسی طرح اگر ہم انسانوں کی بات کریں تو انسانی ضروریات کا بڑا حصہ جنگلات سے حاصل ہوتا ہے لیکن ملک میں درختوں کو کاٹنے کا کام تیزی سے ہونے کی وجہ سے اب ہم غذا کی کمی کا بھی باعث بن رہے ہیں۔وطن عزیز میں گزشتہ چند سالوں میں لاکھوں درختوں کو سڑکوں کی تعمیراور نئی آبادیوں کے قیام کی وجہ سے کاٹ دیا گیا لیکن اس کے مقابل نئے پودے یا درخت لگانے کی رفتار انتہائی سست اور کم رہی اتنی بڑی تعداد میں درختوں کے کٹ جانے سے درجہ حرارت میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے وطن عزیز میں چار موسم ہیں جن میں شدت آرہی ہے کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں پانچ سے چھ ہزار کے قریب درختوں کی اقسام موجود ہیں پہلے شہروں میں سڑکوں کے کنارے درختوں کی بہتات ہوتی تھی جس کی وجہ سے مسافروں خاص طور پر سڑک کے کنارے پیدل چلنے والوں کے لیے خوشگوار سفر کا احساس موجود رہتا تھا لیکن سڑکوں کو کشادہ کرنے کے چکر میں وہ درخت بھی کاٹ دیے گئے جو سڑک کی کشادگی میں کوئی رکاوٹ نہیں بن رہے تھے لیکن انتظامیہ نے سڑک کی کشادگی کا مبینہ بہانہ بنا کر درختوں کو کاٹ دیا جو کچھ بچ گئے وہ واپڈا کے حکام نے بجلی کی تاروں میں رکاوٹ کا کہہ کر کاٹ دیے اس کے علاوہ نئی نئی سوسائٹیوں کے قیام نے جہاں زیر کاشت رقبہ کو کو کم کر دیا وہیں درخت بھی کٹتے چلے گئے نئی سوسائٹیوں کے قیام سے جہاں زیر کاشت رقبے کم ہوئے ہیں وہیں درخت اور پودوں کا بھی خاتمہ ہوا۔گلگت بلتستان میں شجرکاری کے ضمن میں ضروری ہے کہ جو فنڈز مختص کیے گئے ہیں وہ فوری طور پر ریلیز کیے جائیں علاوہ ازیں یہ خیال رکھا جائے جس پارک،گلی، محلے یا خالی جگہ پر شجر کاری کرنا ہو، اس کے متعلقہ افسران سے اجازت لے لی جائے تاکہ بعد میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔مہم کو شروع کرنے کیلئے چند لوگوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں باہمی مشاورت سے منصوبہ بندی کی جائے اور شجر کاری کیلیے مخصوص دن کا تعین کیا جائے۔پھرعلاقے کو مدِنظر رکھتے ہوئے درختوں کا انتخاب کیا جائے کیونکہ درخت اپنی افزائش وساخت کے اعتبار سے مختلف زمینوں اور مختلف موسمی حالات میں مخصوص اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مختلف درخت مخصوص آب و ہوا، زمین، درجہ حرارت اور بارش میں پروان چڑھ سکتے ہیں۔شجرکاری کیلیے مقرر کردہ تاریخ سے ایک دن پہلے پودے لگانے کیلئے منتخب کی گئی جگہ کو اچھی طرح تیار کرلیجیے تاکہ اگلے دن کوئی پریشانی نہ ہو۔پودے لگاتے وقت زرعی اصولوں کو مدنظر رکھیے اور اگر ممکن ہو تو شجرکاری مہم کیلئے کسی زرعی ماہر کی رضاکارانہ طور پر خدمات ضرور حاصل کیجیے۔درخت لگاتے وقت خیال رکھاجا ئے کہ نزدیک ہی کسی شخص کو اس کا فائدہ ہو یعنی کسی دکان کے سامنے درخت لگایا جائے تو دکاندار اسے مستقبل میں بھی پانی وغیرہ دیتا رہے گا۔ مختلف کالجوں، اسکولوں اور اداروں میں پودے لگائے جائیں تاکہ بعد میں ان کے مالی، پودوں کی دیکھ بھال کرتے رہیں۔مزید براں ضروری ہے کہ طلباء و طالبات میں شجر کاری کا شعور بیدار کیا جائے ان کی ڈگریوں کو درخت لگانے سے مشروط کر دیا جائے داخلے کے وقت ہی انہیں ایک پودا لگانے اور اس کی حفاظت کی اسائنمنٹ دی جائے یوں اس کی فراغت تک وہ تناور درخت بن چکاہوگا۔اس کیلئے ایکسٹرا مارکس دینے میں بھی مضائقہ نہیں جس طرح این سی سی کی ٹریننگ پر دیے جاتے تھے۔

Facebook Comments
Share Button