GB News

پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر آئی ایم ایف سے ڈیل تسلیم نہیں کریں گے، بلاول

Share Button

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زردزاری حکومت پر ایک بار پھر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمپائر کی انگلی پر ناچنے والی حکومت سے تنقید برداشت نہیں ہوتی، آئی ایم ایف نے حکومتی اداروں پر قبضہ کر لیا ہے، یہ پی ٹی آئی کی نہیں پی ٹی آئی ایم ایف کی حکومت ہے،آئی ایم ایف سے ہونے والی ڈیل کو اسمبلی سے منظور کروایا جائے،اگر ایسا نہ ہوا تو عوام اور پیپلزپارٹی اس ڈیل کو تسلیم نہیں کرے گی۔ حکومت سینسر شپ اور نیب گردی کے بجائے اپنا کام کرے، عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہیں، یہ صرف اور صرف حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہو رہا ہے،پاکستان اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی وجہ سے صوبے دیوالیہ ہو رہے ہیں،نیب گردی کی وجہ سے کوئی بزنس مین پاکستان میں کاروبارکرنے کو تیار نہیں،بیوررکریٹ نیب گردی کی وجہ سے کام نہیں کر رہے،اسلئے ہم کہتے ہیں کہ نیب گردی اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے،یہ حکومت مارتی ہے اور رونے بھی نہیںدیتی۔ جنوبی پنجاب میںہمارے ورکر احتجاج کر رہے تھے لیکن ظالم حکومت نے ایف آئی آر کاٹی گئیں۔ وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے۔پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لاہور کے دل داتا دربار پر دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے اس دن وزیراعظم اسمبلی تشریف لائے، دعا میں حصہ لیا،ہم سوچ رہے تھے کہ وزیراعظم عوام کو یقین دلائیں گے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اقدامات اٹھارہے ہیں،نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہو رہا ہے ، وزیراعظم قوم سے خطاب کرکے کہیں گے کہ آپکا تحفظ ہماری ترجیح ہے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا ۔ حکومت دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہیں کررہی، حکومت کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروانا چاہیے اور کالعد م تنظیموں کو فی الفور فارغ کرکے پیغام دیا جائے حکومت سنجیدہ ہے۔پیپلزپارٹی نے اپنا موقف دہرایا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جائے اور ان وزیروں کو جن کا تعلق دہشت گردوں سے ہے ان کو فارغ کیا جائے۔

Facebook Comments
Share Button