GB News

قومی اسمبلی میں ہنگامہ، مائیک نہ ملنے پر اپوزیشن کا احتجاج، سپیکر ڈائس کا گھیرائو

Share Button

قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن نے اپوزیشن پارلیمانی رہنمائوں کی تقاریر سے قبل وفاقی وزیر مراد سعید کو مائیک دینے پر شدید احتجاج کیا اور اسپیکر کی ڈائس کا گھیرائوکیا۔ سپیکر اسد قیصر اور مسلم لیگ (ن)کے شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔خواجہ آصف نے کہا کہ اگر ہمیں نہیں بولنے دیا جائے گا تو ہم اس ایوان کو نہیں چلنے دیں گے،جس پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ آپ مجھے ڈکٹیٹ نہ کریں اور مجھ پر دبائو نہ ڈالیں،مراد سعید کے بعد ہی آپ کو بولنے کی اجازت دئوں گا اس سے پہلے کسی بھی صورت میں مائیک نہیں دئوں گا۔بعد ازاں خواجہ محمد آصف کو سپیکر نے بولنے کیلئے مائیک دیا تو خواجہ آصف نے احتجاجاً تقریر کرنے سے انکار کر دیا ۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ بلاول اس لئے چیخ رہا ہے کہ وہ این آر او چاہتا ہے،حادثاتی اور پرچی کے ذریعے پارٹی چیئرمین بننے والے کی قابلیت کیا ہے؟کرپشن کی بات کرو تو یہ لوگ چور مچانہ شروع کر دیتے ہیں، لمبی تقریریں کرتے ہیں جب جواب کا وقت آتا ہے تو سننے کی ہمت نہیں ہوتی،ہمیں بولنا نہ دیا گیا تو آج کہ بعد اس ایوان مین اپوزیشن کو بھی بولنے نہیں دیں گے۔وفاقی وزیر نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قابلیت کیا ہے ان کو کیا سمجھ ہے انہوں نے دیکھا کیا ہے، ایک پرچی لہرا کر آگیا اور چیئرمین بن گیا کیا یہ مذاق ہے۔ ایان علی اور بلاول بھٹو کو ایک ہی جگہ سے پیسہ آتا ہے یہ ہمارا قصور نہیں۔ اپوزیشن والے ایک ایک گھنٹہ تقریر کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔مراد سعید کی تقریر کے دوران اسپیکر اپوزیشن ارکان کو خاموش ہونے اور انہیں اپنی جگہ پر بیٹھنے کا کہتے رہے لیکن ارکان ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اسپیکر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں 10منٹ کا وقفہ کردیا۔بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہو تو سپیکر نے خواجہ محمد آصف کوبولنے کیلئے مائیک دیا تو خواجہ آصف نے احتجاجاً تقریر کرنے سے انکار کر دیا ، اس دوران حکومتی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا اور کہا کہ اگر ہمیں بولنے نہیں دیا گیا تو یہ بھی اس ایوان میں نہیں بول سکیں گے،جس پر سپیکر نے اجلاس (آج)جمعہ کی صبح 10بجے تک ملتوی کر دیا۔پا کستان مسلم لیگ ن نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا، جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت ایوان کے چلنے سے خائف ہے، ہم نے کسی کو گالی نہیں دی، ہم بجلی، گیس، مہنگائی، معیشت اور بے روزگاری پر بات کرنا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف کے پاس پاکستان کو گروی رکھا گیا، ہم اس پر بات کرنا چاہتے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اسپیکر اپنے رویے سے اپنا اعتماد کھو چکے ہیں، ہم بھیک نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں،انہو ں نے کہا کہ اسپیکر نے بلاول بھٹو کو تین بار ٹوکا اور ان کے الفاظ حذف کیے، خواجہ آصف کو بھی بات نہیں کرنے دی گئی،انہوں نے کہا کہ کس نے اسپیکر کو خواجہ آصف کو بات نہ کرنے دینے کا اختیار دیا، اسپیکر سے درخواست ہے کہ آپ پر پریشر ہے اس لیے استعفی دے دیں،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آپ پر وزیر اعظم دبا ئو ڈالتا ہے تو آپ مستعفی ہو جائیں، یہ ٹریلر ہے اگر بات نہ کرنے دی گئی تو فلم چلے گی، بلاول نے اخلاق سے گری کوئی بات نہیں ، سپیکرقومی اسمبلی کو عزت عمران خان نے نہیں اپوزیشن نے دی ،پاکستان کو آئی ایم ایف کے آگے گروی رکھا جا رہا ہے جو قبول نہیں،رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف نے کہا کہ ٹیکس بچانے والوں کی سرپرستی کرنے والے کو حکومت میں اہم عہدے پر لگا دیا گیا ہے، ہم اس غلامی اور حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نجی بل آنا تھا تو ہم نے مشاورت میں بھرپور تعاون کیا، اپوزیشن کو مہنگائی پر بات نہیں کرنے دی جائے گی تو ایوان نہیں چلنے دیں گے۔

Facebook Comments
Share Button