GB News

عوام ہی کیوں مشکلات برداشت کریں؟

Share Button

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں احساس ہے کہ اس وقت ہمارے لوگ مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، قرضے اتارنے کے لیے قوم کو مشکلات سے گزرنا پڑے گا۔ صحت کے شعبے میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے، چاہتے ہیں کہ غریب عوام کے گھر میں جب بیماری ہو تو اسے کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں بھی ضرورت ہوگی نئے اسپتال بنائیں گے، عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو قرضے دے کر انہیں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع دے گی اور اسی طرح ہم دیہات میں گائے بھینس دے کر گھرانوں کو خوشحال بنائیں گے۔ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے سر پر چھت ہو، ہم نے غریب عوام کے لیے سستے گھر کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جس کا جلد آغاز ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں احساس ہے کہ اس وقت ہمارے لوگ مہنگائی کی وجہ سے مشکل میں ہیں، مہنگائی ہونے کی وجہ قرضے ہیں اور ہمارے پاس دو ہی آپشن تھے کہ ہم یا تو مزید قرضے بڑھنے دیں یا قیمتیں بڑھائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے قرضے اتارنے کے لیے نظام ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور قرضوں کے اترنے تک قوم کو مشکل وقت برداشت کرنا ہوگا۔قوموں پر اچھے برے وقت آتے رہتے ہیں ملک بھی جلد مشکلات سے نکل آئے گا۔
وزیراعظم کی باتوں سے اتفاق کیا جا سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ہمیشہ عوام ہی کیوں مشکلات برداشت کریں۔ مشکل دن کاٹنا ان ہی کی قسمت کیوں بنا دیے گئے ہیں۔جن جماعتوں نے اقتدار میں آ کر قرضے لیے انہیں کیوں گرفت میں لا کر ان کا حساب نہیں لیا جاتا حکومت کو کس نے احتساب سے روکا ہے اور حکومت کیوں اپنے اخراجات کم نہیں کرتی۔ اگر عوام مشکل برداشت کر سکتے ہیں تو حکام بالا کیوں نہیں۔ کیوں یہ اعلان نہیں کیا جاتا کہ عوام کے ساتھ ساتھ اراکین اسمبلی بھی مشکل برداشت کریں گے اور حالات کی درستگی تک قومی خزانے سے نہ تنخواہ لیں گے نہ ہی دیگر اخراجات بلکہ یہ اخراجات وہ اپنی جیب سے دیں گے۔دوسری جانب ملکی حالات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف چھ ہفتوں کی ضمانت کی مدت پوری کرنے کے بعد واپس کوٹ لکھپت جیل پہنچ چکے ہیں پارٹی نے ایک جلوس کے ہمراہ انہیں واپس جیل پہنچایا جاتی عمرہ سے لے کر کوٹ لکھپت تک کے سفر میں وہ دو گھنٹے سے زائد عرصہ تک گاڑی میں سوار رہے جس سزا یافتہ مریض کے بارے میں میڈیا پروپیگنڈہ کے ذریعے مسلسل یہ تاثر دیا گیا کہ اگر اسے جلد از جلد علاج کیلئے بیرون ملک نہ بھیجا گیا وہ مریض ہشاش بشاش اس تمام دورانیہ میں گاڑی کے اندر موجود رہا اور اس نے تھکاوٹ کی بھی شکایت نہ کی۔شہباز شریف کی عبوری ضمانت پر رہائی اور جیل میں واپسی کے واقعات نے ان کی سیاست اور شخصیت پر منفی اثرات مرتب کئے عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے سے پہلے انہوں نے سپریم کورٹ میں ضمانت میں توسیع اور علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت کیلئے درخواستیں دائر کیں عدالت نے یہ درخواستیں اس دورانیہ سے بھی کم عرصہ میں مسترد کردیں جس میں انہوں نے جاتی عمرہ سے جیل تک جلوس کی قیادت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ چھ ہفتوں کی ضمانت انہیں علاج کیلئے دی گئی تھی مگر اس دوران انہوں نے علاج نہیں کرایا محض ٹیسٹ کروانے پر یہ مدت ضائع کردی قانونی ماہرین کے مطابق چھ ہفتوں کی مدت جس طرح ضائع کی گئی اس سے عدالت کے اس فیصلے کو نقصان پہنچایا گیا جس کے تحت سپریم کورٹ نے غیر معمولی فیصلے کے تحت انہیں عبوری ضمانت دی گئی دوسرے لفظوں میں مخصوص مقاصد کیلئے عدالت عظمےٰ کے فیصلے کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی نتیجہ یہ نکلا کہ عدالت نے ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی سزا معطل کی درخواست بھی مسترد کی اور سپریم کورٹ کا بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ بھی برقرارہا۔غور طلب بات یہ ہے کہ جب نواز شریف جیل واپسی کا سفر طے کرتے ہیں کارکنوں کی تعداد دو ہزار تھی یا ڈیڑھ ہزار اس اعتبار سے یہ مایوس کن شو تھا کہ پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں ارکان قومی اسمبلی کی نمایاں تعداد رکھنے والی مسلم لیگ (ن) کو تو لاکھ دو لاکھ افراد جمع کرنے تھے یہ مایوس کن تعداد واضح کرتی ہے کہ مریم نواز کے اس ٹویٹ کو کارکنوں نے اہمیت نہ دی جس میں ان سے کہا گیا تھا کوٹ لکھپت چلو اس سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوگئی کہ کارکن مریم نواز کی کال کو اہمیت نہیں دیتے۔دوسری طرف نواز شریف کی صحت کے بارے میں تشویشناک ہونے کا میڈیا پروپیگنڈہ بھی بری طرح دم توڑ گیا عدلیہ پر بھی سب کچھ واضح ہوگیا نواز شریف کو عبوری ضمانت اور جیل واپسی کے سارے عمل نے بہت سا سیاسی نقصان پہنچایا اور بے نقاب کیا۔ننھی پوتیوں سے ملاقات کے بہانے پاکستان سے لندن جانے والے شہباز شریف نے لندن جاکر بیماری کا ڈرامہ رچایا اگر وہ یہاں سے روانگی کے وقت ہی یہ بتا دیتے کہ ان کی صحت خراب ہے انہوں نے اپنے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ہے اس لئے جارہے ہیں تو صورتحال کچھ اور ہوتی مگر ننھی پوتیوں سے ملنے کے بہانے گئے اور وہاں قیام کی مدت بڑھا دی انہوں نے رانا تنویر حسین کو اپنی جگہ قومی اسمبلی میں پی اے سی کا سربراہ بنایا خواجہ محمد آصف کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کا پارلیمانی لیڈر نامزد کیا ان کے یہ دووں فیصلے اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ ان کے جلد واپسی کے ارادے نہیں ہیں لیکن جب پیپلز پارٹی نے رانا تنویر حسین کی نامزدگی پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس معاملے میں اس سے مشاورت نہیں کی گئی تو شہباز شریف پریشان ہوگئے پیپلز پارٹی کا اعتراض وزنی تھا اس کا کہنا ہے کہ پی اے سی کی سربراہی رسمی طور پر ہی سہی ارکان کے فیصلے کے تحت ہوتی ہے پارٹی سربراہ کسی کو نامزد کردے تب بھی کمیٹی کے ارکان اپنا سربراہ منتخب کرتے ہیں شہباز شریف نے کس اختیار کے تحت رانا تنویر حسین کو نامزد کیا یہ عہدہ مسلم لیگ (ن) کی ملکیت نہ تھا کہ اس پر جسے چاہے بٹھا دے وزیر اعظم عمران خان نہ صرف اپوزیشن کے دبائو میں ہیں بلکہ انہیں اندر سے بھی تنقید کا سامنا ہے تحریک انصاف اور اسکی اتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی کے اجلاس میں انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ایک دوسرے ممبر نے اعتراض کیا کہ ٹیکنو کریٹس کو منتخب ارکان پر اہمیت دی جارہی ہے جبکہ پارٹی کے جو ارکان الیکشن میں ہار گئے تھے انہیں بھی عہدے دئیے گئے ہیں یہ منتخب ارکان کے ساتھ ناانصافی ہے ان اعتراضات پر تحریک انصاف کے تمام ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجائے گویا انہوں نے ناقدین کے موقف کی حمایت کی وزیر اعظم عمران خان اس معاملے میں اپنے ارکان کو مطمئن کرنے کیلئے مضبوط استدلال نہ پیش کرسکے۔آصف زرداری کے خلاف نیب کے ریفرنس جس انداز سے بڑھتے جارہے ہیں اسی تناسب سے بلاول زرداری کے حکومت مخالف لہجے میں بھی شدت پیدا ہورہی ہے تاہم ان کے تقریر نویس بسا اوقات ان کی تقریر میں ایسی باتیں لکھ دیتے ہیں جوحقائق سے دور ہوتی ہے بلاول چونکہ تاریخ سے نابلد ہیں وہ من وعن پڑھ دیتے ہیں جس کے بعد تجزیہ کار ان کی تقریر کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔حکومت نے پہلے 22مئی کو بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا اب جون کے دوسرے ہفتے میں بجٹ پیش کرے گی تاریخ میں تبدیلی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں ہے مشیر خزانہ بجٹ تو بنائیں گے لیکن غیر منتخب ہونے کی حیثیت سے بعض حلقوں کے مطابق پیش نہیں کرسکیں گے ان کی جگہ کوئی دوسرا منتخب ممبر یہ بجٹ پیش کرے گا۔

Facebook Comments
Share Button