GB News

جودہ بگاڑ کو سدھارنے میں وقت لگے گا، صدرعارف علوی

Share Button

اسلام آباد(آئی این پی)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں صدارتی نظام کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام پر کوئی بحث نہیں کی جارہی ،پارلیمانی نظام انتہائی مستحکم ہے،ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ سے بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں، 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات دیئے جاچکے ہیں وہ واپس نہیں لئے جاسکتے،پاکستان اس نظام کا عادی ہوچکا ہے، اسلئے صدارتی نظام کے موضوع پر بحث تو کی جاسکتی ہے لیکن اسے نافذ کرنا بعید از قیاس ہے،موجودہ اعداد و شمار کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے،حکومت مصنوعی طریقے سے معیشت کو نہیں چلانا چاہتی، اسلئے موجودہ بگاڑ کو سدھارنے میں وقت لگے گا، ہم آئی ایم ایف سے بھی معاہدہ طے کرنے جارہے ہیں ،چین میں مسلمانوں کے روزہ رکھنے پر پابندی کے حوالے سے خبروں کا اجرا محض پروپیگنڈا ہے، چینی صدر شی چن پھنگ کی شخصیت سے بہت زیادہ متاثر ہوں،پاکستان چینی صدر شی چن پھنگ سے بہت کچھ سیکھنے کا خواہشمند ہے، پاکستان میں گرفتار کئے گئے چینی باشندوں سے پاک چین دوستی میں کوئی فرق نہیں آئے گا، دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کیا جائے، چینی حکومت جرائم کے خاتمے کیلئے پاکستان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہے، گوادر کی بندرگاہ سے وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کی جنوبی ممالک تک رسائی میں مدد حاصل ہوگی، خطے میں قیام امن کے حوالے سے چین اور روس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔جمعہ کوچا ئنہ ریڈ یو انٹر نیشنل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات دیئے جاچکے ہیں وہ واپس نہیں لئے جاسکتے،پاکستان کا آئین پارلیمانی نظام کے اعتبار سے تشکیل دیا گیا ہے اور پاکستان اس نظام کا عادی ہوچکا ہے، اسلئے صدارتی نظام کے موضوع پر بحث تو کی جاسکتی ہے لیکن اسے نافذ کرنا بعید از قیاس ہے۔ملک میں جاری موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ اعداد و شمار کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی مخدوش صورتحال میں دوست ممالک نے پاکستان کی مدد کی ہے جن میں چین ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت مصنوعی طریقے سے معیشت کو نہیں چلانا چاہتی، اسلئے موجودہ بگاڑ کو سدھارنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم آئی ایم ایف سے بھی معاہدہ طے کرنے جارہے ہیں ۔ صدر مملکت نے اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے جب ہم اپنی معیشت کو مستحکم کریں تو ماضی کے بوجھ کی قیمت آج ادا کرنے پر مجبور ہوجائیں۔چین کے سنکیانگ ویغور خوداختیار علاقے میں مسلمانوں کے روزہ رکھنے پر پابندی کے حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونیوالی خبروں پرگفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ چین میں مسلمانوں کے روزہ رکھنے پر پابندی کے حوالے سے خبروں کا اجرا محض پروپیگنڈا ہے، روزہ رکھنے سے روکنا محض ایک مفروضہ ہے۔ چین ایک اہم ملک ہے جو خود محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنی اقلیتوں کا خیال رکھے ۔ ایسی پابندیوں کے بارے میں خبروں کا اجرا محض پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے اندرونی معاملات پر امن انداز میں حل کرنا چاہتا ہے اور پاکستان اس میں چین کی ہر طرح سے مدد کیلئے تیار ہے۔

Facebook Comments
Share Button