تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پاکستان میں فحش ویب سائٹس دیکھنے کی رجحان میں کمی واقع پاکستان میں فحش مواد اپ لوڈ ہونے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے کے رجحان میں بھی واضح کمی ہوئی ... مزید-علیم خان پھر سے پنجاب کی کابینہ میں واپسی کیلئے تیار تحریک انصاف کے سینئر رہنما کو جلد پنجاب کی کابینہ میں شامل کر لیا جائے گا، ممکنہ طور پر سینئر وزیر کی وزارت ہی سونپی ... مزید-مجھے اپنی عزت کا بھی خیال ہے، میرا مزاج ایس نہیں ہے کہ زیادہ شور شرابا کر سکوں اب جو وزارت سونپی گئی ہے اس کیلئے مشاورت نہیں کی گئی، تاہم وزیراعظم کا فیصلہ قبول کرتا ہوں: ... مزید-نامور وکیل کی مشرف کے خلاف غداری کیس میں پیش ہونے سے معذرت-مریم صفدر کے ہوتے ہوئے شر یف فیملی کو کسی د شمن کی ضرور ت نہیں‘ شہباز شریف ساتھی کی گرفتاری پربو کھلاہٹ کا شکار ہو کر بیان بازی کرر ہے ہیں ، غلام محی الدین دیوان-وزیر اعظم قوم کو بتائیں کہ وہ کیا ایجنڈا لیکر امریکہ جارہے ہیں،سینیٹرسراج الحق ایجنڈا افغانستان سے امریکی افواج کی بحفاظت واپسی کا ہے یا قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ ... مزید-عوام سے جینے کا حق چھیننے کے بعد اب کفن اور قبر پر ٹیکس لگا کر موت بھی مہنگی کر دی گئی ہے ، سینیٹر سراج الحق اس وقت میں ملک میں جھوٹوں کی حکومت ہے ،جماعت اسلامی اقتدار ... مزید-ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالرز جرمانے کا معاملہ، اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، چین پاکستان کی مدد کیلئے میدان میں آگیا چین ریکوڈک منصوبے کا کنٹرول خود سنبھال کر چلی اور کینیڈا ... مزید-رینجرز کی شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 5 ملزمان گرفتار-دائودی بوہرہ جماعت کے سربراہ ڈاکٹر سیدنا مفدل سیف الدین کراچی پہنچ گئے

GB News

میں پرانی سیاست اور منافقوں کے اشاروں پر نہیں چل سکتی، ثوبیہ مقدم

Share Button

گلگت(پ ر) برطرف صوبائی وزیر ثوبیہ جے مقدم نے کہا ہے کہ دیامر کی محرومیوں، وزیر اعلٰی کی عدم دلچسپی، جھوٹے وعدوں اور ہوائی اعلانات کے خلاف اعلان بغاوت کرنے کی مجھے سزا دینے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار کی کُرسی کو ٹھوکر مار کر جمہور اور جمہوری اصولوں کی بالادستی قائم کی ہے۔ میری یہ قربانی دیامر باالخصوص اور گلگت بلتستان باالعموم کے آنے والی نسلوں کیلئے ہے۔ میں نے دیامر کی 70 سالہ محرومیوں کی آواز بن کر وزارت کو جوتی کی نوک پر رکھ کر یہ پیغام دیا ہے کہ میں گلگت بلتستان کی خواتین اور نوجوان نسل کو باوقار، بااختیار اور باعزت دیکھنا چاہتی ہوں۔اگر میرا قصور یہ ہے اور اسی گناہ کی مجھے سزا دی گئی ہے تو میں یہ جُرم بار بار کروں گی بلکہ مرتے دَم تک کرتی رہوں گی۔ میں ایک نوجوان عوامی لیڈر ہوں اور گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کی اُمیدیں ہم سے وابستہ ہیں۔ میری سیاست عوام کیلئے ہے۔ میں پُرانی سیاست اور منافقوں کے اشاروں پر نہیں چل سکتی، شُکر الحمداللہہ کرپٹ اور مافیاز کا حصّہ نہیں بنی۔ پچھلے ایک سال سے کہتی آئی ہوں کہ میں کٹھ پُتلی وزارتوں کے قائل نہیں ہوں۔ مجھے عوام کی خدمت اور عزت چاہیئے۔ میرا مقصد اور تھیم پاکستان، گلگت بلتستان اور عوام ہیں۔ میرا سوال حفیظ الرّٰحمان صاحب سے ہے، قاری صاحب!”مجھے کیوں نکالا”؟میرا قصور کیا ہے۔ میرے حلقے کے لوگ، ضلع دیامر اور گلگت بلتستان کے عوام کو جواب چاہئے۔؟؟آپ کو جواب دینا ہوگا اور انشائاللّٰلہ جی بی کے غیور عوام آپ سے جواب لے کے رہیں گے۔ آپ نے مجھے عورت اور کمزور سمجھ کر وار کیا ہے۔ عورت ماں، بہن اور بیٹی کے روپ میں سب سے طاقتور ہوتی ہے اور گلگت بلتستان کے غیور عوام اور دیامر کے قبائل آپ سے آپ کی اس ناانصافی اور زاتی عناد کا بدلہ لیں گے۔اجازت کے بغیر بیرون ملک کے دورے کرنے کا مجھ پر جھوٹا اور من گھڑت الزام لگا کر وزیر اعلیٰ نے اپنی زہنی پستی کا اظہار کیا ہے اور تمہاری پست سوچ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب کُھل کر آئی ہے۔ جھوٹے اور من گھڑت الزام لگا کر وزارت اعلٰی کے منصب پر رہنے کا اخلاقی جواز آپ کھو چُکے ہو ۔ہم آپ کے استفعٰی کا مطالبہ کرتے ہیں اور تم عزت دار ہیں تو استفعٰی دیں۔ حفیظ الرّٰحمان صاحب آپ نے پچھلے مہینے میں چلاس کے پولو میچ کے شائقین سے اپنے خطاب میں داریل اور تانگیر کے اضلاع کا اعلان کیا تھا اور ایک مہینہ میں نوٹیفکیشن کا وعدہ کیا تھا۔ اب ایک مہینہ ہو چُکا ہے، کہاں گیا آپ کا وعدہ اور نوٹیفکیشن؟دیامر کے عوام آپ سے پوچھ رہے ہیں اور منتظر ہیں۔میں تحریک حمایت مظلومین کے قائدین خصوصًا آغا راحت الحسینی اور دیگر اکابرین کا جنہوں نے کل کی اپنی احتجاجی ریلی میں دیامر کے حقوق کیلئے بھرپور آواز اُٹھا کر میرے مؤقف کی تائید کی اور میرے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی بھی کُھل کر مزمت کی۔ میں اپنی طرف سے اور دیامر کے عوام کی طرف سے ریلی کے شُرکاء اور قائدین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ آئندہ بھی دیامر کی محرومیوں اور حقوق کے حصول تک آپ اپنی مدد اور تائید جاری و ساری رکھیں گے۔

Facebook Comments
Share Button