GB News

ہم سرکاری ہسپتالوں میں بھی شوکت خانم والا کلچر لے کرآئیں گے ‘وزیر اعظم

Share Button

لاہور(آئی این پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ انشاء اللہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنائیں گے ‘ہم سر کاری ہسپتالوں کو پرائیوٹ نہیں کر نا چاہتے لیکن انکی مینجمنٹ ایسی کر نا چاہتے ہیں جہاں سرکاری ہسپتالوں میں پرائیوٹ ہسپتالوں جیسی اعلی میعار کی سہولتیں فراہم کر یں گیاور ہر قیمت میں ہسپتالوں کے میعار کو بہترکر یں گے اور وہاں بھی سزا اور جزا کا نظام لائیں گے ‘شوکت خانم میں سب مر یض وی آئی پی ہے اور ہم سرکاری ہسپتالوں میں بھی شوکت خانم والا کلچر لے کر ضرورآئیں گے ‘سر کاری ہسپتالوں کو بھی پر ائیوٹ ہسپتالوں کے میعار کے مطابق بنائیں گے ۔ وہ ہفتے کے روز شوکت خانم لاہور میں فنڈ ریزنگ کی تقر یب سے خطاب کر رہے تھے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم پاکستان کے تمام سر کاری ہسپتالوں کو بھی انٹر نیشنل معیار کے ہسپتال بننا چاہتے ہیں بد قسمتی سے کچھ لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور ہڑ تال اور احتجاج کی باتیں کر رہے ہیں میں مخالفت کر نیوالوں سے پوچھنا چاہتاہوں کہ کیا سر کاری ہسپتالوں کو پرائیوٹ ہسپتالوں کے میعار کے مطابق نہ لانا اپنے لوگوں سے ناانصافی نہیں ؟۔ انہوں نے کہا کہ سر کاری ہسپتالوں میں بھی سزا اور جزا کا نظام لائیں گے موجودہ ہسپتالوں کا نظام کر پٹ ہو چکا ہے وہاں لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں جب تک سر کاری ہسپتالوں کا میعار بہتر نہیں ہوگا غر یبوں کو صحت کی سہولتیں میسرنہیں آسکتی میں پھر کہنا چاہتاہوں کہ اچھے ڈاکٹر ز کو اچھی تنخواہیں دیں گے اورجو کام نہیں کر یں گے انکے خلاف ایکشن ہوگا اوران کوسزائیں ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں وعدہ کر تاہوں جب ہماری حکومت آئینی مدت پوری کر یں گی تو سر کاری ہسپتالوں میں بھی پرائیوٹ ہسپتالوں جیسے صحت کی سہولتیں میسر آئیں گی۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے دوا ئوں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ تک رکھنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں علاج کی سہولتوں کو معیاری اور آسان بنایا جائے، علاج معالجے کی سہولتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر نہ ہوں۔ ہفتہ کو بنی گالہ میں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم عمران خان نے ملک بھر میں صحت کی سہولتوں اوردواں کی قیمتوں کا جائزہ لیا۔اجلاس میں وزیر اعظم کو صحت کے قومی پروگرامز، ہیلتھ کارڈ اور صحت سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی، ملک بھر میں طبی سہولتوں اور دواں کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر غور کیا گیا۔اجلاس میں معاون خصوصی ظفر مرزا، سیکریٹری ہیلتھ زاہد سعید اور دیگر حکام شریک ہوئے، معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفراللہ مرزا اور صحت حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی، وزیر اعظم کو صحت سہولت کارڈز کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ملک بھرمیں نئے اسپتال، پنجاب میں ڈاکٹروں کی ہڑتال اور بورڈ آف گورنر پر غور کیا گیا۔وزیر اعظم عمران خا ن نے کہاہے کہ ہماری حکومت کاروبار کے لئے آسانیاں پید اکرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، ہماری سب سے بڑی قوت ہماری افرادی قوت ہے، صرف میٹرو بس پر 12 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ یہ پیسہ صحت اور تعلیم کے لئے مختص کیا جا سکتا تھا ، ہر ترقیاتی منصوبہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہونا چاہیے ۔ اور اسکی مدت تکمیل اور فعالیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا جائے۔ ہفتہ کووزیر اعظم عمران خا ن نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ساتھ پنجاب صوبائی کابینہ کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی ۔کابینہ اجلاس میں آئندہ مالی سال (20-2019) میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کے پاس مالی وسائل محدود ہوتے ہیں ۔ اس لئے ترقیاتی منصوبوں میں پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مختلف ماڈلز کو لاگو کیا جائے تاکہ حکومت پر بوجھ کم پڑے۔ ترقیاتی منصوبوں میں ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں۔ زارعت کے فروغ اور پیداوار میں اضافے کے لیے مخصوص پراجیکٹ شروع کیے جائیں۔

Facebook Comments
Share Button