GB News

وزیراعلی کا وزیراعظم کو یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء کی فراہمی کا مراسلہ

Share Button

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعظم پاکستان اورایم ڈی یوٹیلٹی سٹورز کو خصوصی مراسلہ تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے یوٹیلٹی سٹورز میں روزہ داروں کیلئے سبسڈائزڈ اشیاء میسر نہیں لہٰذا گلگت بلتستان کے یوٹیلٹی سٹورز کیلئے فوری طورپر اشیاء کی ترسیل یقینی بنائی جائے۔ پہلی مرتبہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں تمام یوٹیلٹی سٹورز خالی ہیں۔ وفاقی حکومت روزہ داروں کی مشکلات کا احساس کرے۔انہوں نے کہاقبل ازیں وفاقی حکومت نے روزہ داروں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے یوٹیلٹی سٹورز کی تمام اشیاء پر سبسڈی دی تھی اور گلگت بلتستان کے تمام یوٹیلٹی سٹورز میں ضروری اشیاء موجود تھیں۔ اس دفعہ تبدیلی سرکار نے تمام یوٹیلٹی سٹورز کو اشیاء فراہم نہیں کیںجس سے روزہ داروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔گلگت بلتستان کے یوٹیلٹی سٹورز پر اشیاء کی عدم دستیابی پریشان کن ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔ گلگت بلتستان کے یوٹیلٹی اسٹورز میں خالی ریک سستی اشیاء کے لیے یوٹیلٹی اسٹورز کا رخ کرنیوالے شہریوں کا منہ چڑارہے ہیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی کی فراہمی معطل ہے،عام بازاروں میں چینی کی قیمت 75روپے کلو تک پہنچ چکی جبکہ وفاقی حکومت نے64روپے کلو قیمت پر یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے چینی فراہم کرنے کا اعلان کیا تاہم رمضان کے چھ روزے گزرنے کے باوجود اسٹورز پر چینی دستیاب نہ ہوسکی۔سبسڈی شدہ قیمت پر اشیاء خوردونوش کی خریداری کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز کا رخ کرنے والے شہریوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے شہریوں کے مطابق وہ پانچ روز سے یوٹیلٹی اسٹورز کے چکر لگارہے ہیں لیکن چینی دستیاب نہیں ہے اسی طرح شہر کے دیگر اسٹورز پر بھی خوردنی تیل، مونگ کی دال، آٹا، چاول اور چائے کی پتی اور خشک دودھ دستیاب نہ ہونے کی شکایات عام ہیں۔خریداروں نے یوٹیلٹی اسٹورز پر بدانتظامی کی بھی شکایت کی اور بتایا کہ اشیاء پر قیمتوں کے ٹیگ نہیں لگے ہوئے،یوٹیلٹی اسٹورز پر خریداری کے لیے آنے والے شہری مطلوبہ اشیاء نہ ملنے پر مایوس ہیں۔رمضان میں کثرت سے استعمال ہونے والی اشیاغائب ہیں عام بازاروں میں بھی گراں فروشی عروج پر ہے اس لیے یوٹیلٹی اسٹور سے ریلیف ملنے کی توقع تھی تاہم یہاں بیشتر ریک خالی پڑے ہیں تیل کے غیرمعروف برانڈز فروخت کیے جارہے ہیںجبکہ کولڈ ڈرنک کا انبار لگا ہوا ہے۔کون نہیں جانتا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن سیاسی مداخلت اور بد انتظامی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی میں وزارت صنعت و پیداوار نے ایک رپورٹ جمع کرائی تھی جس کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو اپنی بقا کیلئے متعدد چیلنجز درپیش ہیں، سیاسی مداخلت اور بدانتظامی نے ادارے کو تباہ کردیاہے۔پہلی بار مشکلات کے شکارادارے یوٹیلٹی اسٹورزکارپوریشن نے چندہ مہم شروع کی۔رمضان المبارک میں دوارب روپے کا ریلیف دینے کافیصلہ توکیا لیکن ساتھ ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے غریبوں کے رمضان پیکج کیلئے پندرہ پندرہ ڈالرزکاچندہ بھی مانگ لیا۔اس ادارے نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں، ایک دور ایسا بھی آیا کہ سینکڑوں ملازمین کو ایک مہینے کا مختصر نوٹس دیکر نوکری سے فارغ کردیا گیا، جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں یہ ادارہ اپنے عروج پر پہنچ گیا۔یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی شاخیں کراچی کے ساحل سے خنجراب اور گلگت بلتستان کے دور دراز دیہاتوں تک پھیلی ہوئی ہیں، یہ واحد نیم حکومتی ادارہ ہے جس نے پاکستان کے دور دراز اور دیہی علاقوں کے عوام کو ناصرف معیاری اشیائے خور و نوش سستے داموں فراہم کیں بلکہ استعمال کا شعور بھی دیا،کروڑوں کی تعداد میں غریب عوام اس ادارے سے مستفید ہورہے ہیں۔عام طور پر یوٹیلٹی اسٹورز کا رخ وہ لوگ کرتے ہیں جو انتہائی غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اکثر یوٹیلٹی اسٹورز کے دروازے پر لوگوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں جو فی اشیاء اپنے پانچ روپے بچانے کیلئے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں اور سستی چینی، گھی ومشروبات حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد خوشی خوشی گھروں کو لوٹتے ہیں۔پچھلے ایک سال سے یوٹیلٹی اسٹورز مالی مشکلات سے دوچار ہے، اربوں روپے کا سالانہ کمانے والا ادارہ اب چند لاکھ روپے کی سیل تک محدود ہوچکا ہے، ماضی میں اس ادارے نے سالانہ 4، 4 ارب روپے ٹیکس کی مد میں حکومتی خزانے میں جمع کروائے۔ مالی بحران کی وجہ 2013ء کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سبسڈی کی عدم ادائیگی ہے، یوٹیلٹی اسٹورز نے مہنگی اشیائے خور و نوش خرید کر سستی فروخت کیں، حکام کے مطابق وفاقی حکومت یوٹیلٹی اسٹورز کی 30 ارب روپے کی مقروض ہے، ان مراکز میں کام کرنیوالے مزدوروں کی یونین نے اکتوبر 2018ء کو اسلام آباد میں 30 ارب روپے کی فراہمی اور دیگر مطالبات کی منظوری کیلئے حکومت کے خلاف دھرنا دیا، جس پر وفاق نے تمام مطالبات جائز قرار دیتے ہوئے فی الفور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس پر دھرنا ختم ہوا لیکن بد قسمتی سے حکومتی اعلانات پر عملدارآمد نہیں ہوا۔حکومت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو اپ گریڈ کرنے کے دعوے کررہی ہے لیکن عملی طور پر اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا، پچھلے ایک سال سے اسٹوروں پر اشیائے خور و نوش کی قلت ہے، حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی اسٹورز کیلئے دو ارب روپے کے رمضان پیکیج کا اعلان کیا گیا، جسے عوام تک شفاف طریقے سے پہنچانے کیلئے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ۔دوسری جانب یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی حالت یہ ہے کہ اسٹورز خالی پڑے ہیں، چند کمپنیوں کے علاوہ تمام کمپنیوں نے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر سامان کی سپلائی بند کردی ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز حکام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور چودہ ارب روپے جاری کرے تاکہ کمپنیوں کے بقایا جات ادا کرنے کے بعد رمضان کیلئے خریداری کی جائے اور عوام الناس کو سستی اشیائے خورد ونوش کی فراہمی ممکن ہوسکے۔یوٹیلٹی اسٹورز حکام کے مطابق اس وقت ملک بھر میں موجود مراکز میں صرف دو ارب کا سامان موجود ہے جبکہ اس میں کم از کم 25 ارب روپے کا سامان ہونا چاہئے جس کے بعد ہی عوام کو بہتر طور پر ریلیف مل سکے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو دو ارب کی سبسڈی دینا ممکن ہی نہیں رہے گا۔تبدیلی سرکار یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو مالی بحران سے نکالنے اور روزہ داروں کو رمضان المبارک میں ریلیف دینے میں بالکل سنجیدہ نہیں، اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ رمضان میں بھی ان سٹورز پر اشیاء کے ریک خالی پڑے ہیں اور یوٹیلٹی اسٹورز نے خریداری ہی نہیں کی۔اس تمام صورتحال میں یوٹیلٹی اسٹورز کے ملازمین سخت مایوس ہوچکے ہیں اور انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان بھی کیاتھا، اگر حکومت نے اس وقت بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو بیک وقت رمضان المبارک کے مہینے میں حکومت عوام اور ملازمین کیلئے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔حکومت اگر فوری طور پر دس ارب روپے ریلیز کردے تو رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں ملک کے تمام یوٹیلٹی مراکز کو سامان سے بھرا جاسکتا ہے۔حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو اشیائے خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی کا بندوبست کرے اور اس کے لیے عوام ہی کے ٹیکسوں سے انہیں بھاری سبسڈی فراہم کرے۔وزیراعظم پر لازم ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے کر متعلقہ حکام کو بہتری کے احکامات جاری کریںاور یوٹیلٹی سٹورز پر فوری طور پہ مطلوبہ اشیاء کی ضروری مقدار میں فراہمی کو یقینی بنانے کا اہتمام کریں۔

Facebook Comments
Share Button