GB News

ماضی میں روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا گیا جس کے نتائج آج بھگت رہے ہیں، وزیر خارجہ

Share Button

ملتان ( آئی این پی+آن لائن ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کا مالیاتی ڈھانچہ ہلا کر رکھ دیا ، ملکی مالیاتی خسارہ انتہائی حد تک بڑھایا گیا ، سوچنا ہوگا کہ حکومت کو آئی ایم ایف جانے کی ضرورت کیوں پڑی، کوشش تھی کہ آئی ایم ایف میں جائے بغیر معاملات چلائے جائیں ، ماضی میں روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا گیا جس کے نتائج آج بھگت رہے ہیں ۔ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے ہم بھارت کی طرح غیر ذمہ ارانہ گفتگو نہیں کرنا چاہیے ۔اتوار کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کا مالیاتی ڈھانچہ ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ملکی مالیاتی خسارہ انتہائی حد تک بڑھ چکا تھا ۔ سوچنا ہوگا کہ آئی ایم ایف میں جانے کی کیوں ضرورت پیش آئی ۔ حکومت نے کوشش کی کہ آئی ایم ایف میں جائے بغیر معاملات چائے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا گیا جس کے نتائج اب بھگت رہے ہیں ۔ کوئی شک نہیں کہ مشکل مالی خالات سے گزر رہے ہیں ۔ کوشش کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے جتنا ریلیف لے سکیں لیں ۔ سوچنا ہوگا کہ دہشتگردی کے واقعات میں تیزی کیوں آرہی ہے ۔ پاکستان بھارت کی طرح غیر ذمہ دارانہ گفتگو نہیں کرنا چاہتا ۔ 26 مئی کو چین کے نائب صدر پاکستان کا دورہ کریں گے، زرعی ترقی کے معاہدے کئے جائیں گے ۔ کوشش کے باوجود ہمیں آئی ایم ایف کے جانا پڑا ۔ مالیاتی خسارہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں تھیں ۔ (ن) لیگ میں تیل پر 56 فیصد جی ایس ٹی تھا ہم نے 17 فیصد کیا ۔ ڈالر کو مصنوعی طور پر نیچے رکھ کر وقتی طور پر کام چلایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں پاکستان میں استحکام دیکھنا نہیں چاہتیں نہ چاہتیں ہیں کہ سی پیک منصوبہ آگے بڑھے ۔ ہم بھارت کی طرح غیر ذمہ دارانہ گفتگو نہیں کرنا چاہتے ۔ پاکستان بلا تحقیق بات نہیں کرتا ٹھوس شواہد ہونگے تو نشاندہی کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن جنوبی پنجاب صوبہ نہیں چاہتی جنوبی پنجاب اور بہاولپور کی عوام کو تقسیم کر رہے ہیں ہم کل قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ کا بل پیش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی دارالعوام ، عالمی اداروں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھارت کے کنٹرول سے نکل رہی ہے ۔ بھارت میں بی جے پی آئے یا کانگریس دونوں میں 19 بیس کا فرپ ہے حالات ایسے ہی رہے ہیں ۔ بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے ۔

Facebook Comments
Share Button