تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پاکستان میں فحش ویب سائٹس دیکھنے کی رجحان میں کمی واقع پاکستان میں فحش مواد اپ لوڈ ہونے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے کے رجحان میں بھی واضح کمی ہوئی ... مزید-علیم خان پھر سے پنجاب کی کابینہ میں واپسی کیلئے تیار تحریک انصاف کے سینئر رہنما کو جلد پنجاب کی کابینہ میں شامل کر لیا جائے گا، ممکنہ طور پر سینئر وزیر کی وزارت ہی سونپی ... مزید-مجھے اپنی عزت کا بھی خیال ہے، میرا مزاج ایس نہیں ہے کہ زیادہ شور شرابا کر سکوں اب جو وزارت سونپی گئی ہے اس کیلئے مشاورت نہیں کی گئی، تاہم وزیراعظم کا فیصلہ قبول کرتا ہوں: ... مزید-نامور وکیل کی مشرف کے خلاف غداری کیس میں پیش ہونے سے معذرت-مریم صفدر کے ہوتے ہوئے شر یف فیملی کو کسی د شمن کی ضرور ت نہیں‘ شہباز شریف ساتھی کی گرفتاری پربو کھلاہٹ کا شکار ہو کر بیان بازی کرر ہے ہیں ، غلام محی الدین دیوان-وزیر اعظم قوم کو بتائیں کہ وہ کیا ایجنڈا لیکر امریکہ جارہے ہیں،سینیٹرسراج الحق ایجنڈا افغانستان سے امریکی افواج کی بحفاظت واپسی کا ہے یا قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ ... مزید-عوام سے جینے کا حق چھیننے کے بعد اب کفن اور قبر پر ٹیکس لگا کر موت بھی مہنگی کر دی گئی ہے ، سینیٹر سراج الحق اس وقت میں ملک میں جھوٹوں کی حکومت ہے ،جماعت اسلامی اقتدار ... مزید-ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالرز جرمانے کا معاملہ، اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، چین پاکستان کی مدد کیلئے میدان میں آگیا چین ریکوڈک منصوبے کا کنٹرول خود سنبھال کر چلی اور کینیڈا ... مزید-رینجرز کی شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 5 ملزمان گرفتار-دائودی بوہرہ جماعت کے سربراہ ڈاکٹر سیدنا مفدل سیف الدین کراچی پہنچ گئے

GB News

سپریم کورٹ،آئینی حقوق عملدرآمدکیس،فریقین کونوٹس جاری،ایک ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت

Share Button

اسلام آباد(جنرل رپورٹر+آن لائن)سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کی نظرثانی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔پیر کو سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست پر سماعت قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے کی دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کا حکم دیا تھا تاہم اس پرعملدرآمد کیلئے مزید وقت درکار ہے جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ آپ نے جو تجویز جمع کرائی تھی کہ پارلیمنٹ کے ذریعے فیصلے پر عملدرآمد کروایا جائیگا اس کا کیا بنا ؟جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ دی گئی تجویز پر عملدرآمد کیلئے وقت درکار ہے اس موقع پر گلگت بلتستان بار کونسل کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ حکومت عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کے بجائے سابق انتظامی حکم کے تحت مزید ایک جج کی تعیناتی عمل میں لائی ہے غیر مقامی جج ہمیں منظور نہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ معاملے پر فریقین کو نوٹس جاری کررہے ہیں تاکہ سب کا موقف سامنے آسکے۔ وزارت امور کشمیر نے عدالت سے 2ہفتے کی مہلت مانگی تو گلگت بلتستان بارکونسل نے موقف اختیار کیا کہ ہم اتنے دور سے آئے ہیں دو دو ہفتے تک انتظار نہیں کرسکتے،عدالت نے بار کونسل کے مطالبے پر 2کی بجائے ایک ہفتے کیلئے سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے ،واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 14فروری 2019کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائرکی تھی ،وزارت امورکشمیر نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ہم آرڈر کی بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے فیصلے پر عملدرآمد کروانا چاہتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام اب کسی آرڈر کو ماننے کیلئے تیارنہیں ہیں ۔وفاقی حکومت نے اپنی درخواست میں بعض ترامیم بھی تجویزکی تھی جس کے تحت آرڈر 2019کے آرٹیکل 103کے تحت جی بی میں سپریم کورٹ کے دائرہ کارپر نظرثانی کے ساتھ ساتھ جوڈیشل کمیشن میں بھی بعض تبدیلیاں تجویز کی تھیں۔ساتھ ہی آرڈر 2019کے آرٹیکل 124کے تحت کسی بھی ترمیم کے لئے سپریم کورٹ کی اجازت مشروط کرنے کی شق میں بھی ترمیم کرنے کی تجویز دی تھی۔ سپریم کورٹ نے 17جنوری 2019کو گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس کا فیصلہ دیا تھا اور وفاق کو عملدرآمد کیلئے 2ہفتے کی ڈیڈ لائن دی تھی عدالتی ڈیڈ لائن 2فروری کو ختم ہوگئی دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے پورے 2ہفتے بعد نظرثانی کی درخواست دائر کردی دوسری جانب عدالتی فیصلے کو 4ماہ گزرنے کے باوجود بھی عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا ۔ادھر وفاقی حکومت نظرثانی اپیل کے ذریعے آرڈر 2019کی بعض اہم ترین شقوں میں تبدیلی چاہتی ہے ،وزارت امور کشمیر گلگت بلتستان میں سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو بھی ختم کرنا چاہتی ہے لیکن گلگت بلتستان وکلا اس مجوزہ ترمیم کے خلاف ہیں وکلا کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کا دائرہ کار ہمارا شروع سے ہی مطالبہ تھا اگر اس کو ختم کیاگیا تو مذاحمت کریں گے۔

Facebook Comments
Share Button