GB News

قومی اسمبلی ، تاریخ میں پہلی بار پرائیوٹ ممبر بل پر26ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور

Share Button

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک+نیوزایجنسیاں) قومی اسمبلی میں تاریخ میں پہلی بار پرائیوٹ ممبر بل پر26ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔آئینی ترمیم کے حق میں288ارکان نے ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے بل کی مخالفت نہیں کی ۔بل کے تحت آئندہ مردم شماری تک سابقہ فاٹا کی قومی اسمبلی میں 12 نشستیں دوبارہ بحال کر دی گئیں ہیں جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کیلئے سابقہ فاٹا کی نشستیں 16سے بڑھا کر24 کر دی گئی ہیں، بل کے تحت بل کے نفاذ کے بعد 18ماہ کے دوران الیکشن کروائے جائیں گے۔ قومی اسمبلی سے منظور ی کے بعد 26ویں آئینی بل سینیٹ میں پیش کیا جائیگا ،سینیٹ کی منظوری کے بعد صدر مملکت عارف علوی کے دستخط سے بل آئین کا حصہ بن جائیگا۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔ جس میں آزاد رکن محسن داوڑ نے26ویں آئینی ترمیم کا بل (دستور ترمیمی بل 2019)پیش کرنے کیلئے تحریک پیش کی، سپیکر نے تحریک پر رائے شماری کروائی، جس پر 278ارکان نے بل پیش کرنے کی تحریک کے حق میں ووٹ دیا،جبکہ تحریک کی مخالفت میں کسی رکن نے ووٹ نہ دیا، آئینی بل کی شق 2اور شق 3 میں بل کے محرک محسن داوڑ اور وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کی ترامیم کو بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، سپیکر نے آئینی بل کی شق وار منظوری کروائی ، بل کی شق 2 کے حق میں 281 اور شق 3کے حق میں 282ارکان نے کھڑے ہو کر ووٹ دیئے، بل کی شق وار منظوری کے بعد بل کی حتمی منظوری کیلئے ایوان کی تقسیم کا طریقہ کار اپنایا گیا۔سپیکر اسد قیصر نے ایوان میں ارکان کو بل کی حتمی رائے شماری کے طریقہ کار سے متعلق ارکان کو آگاہ کیا اور ہدایت کی کہ بل کے حق میں ووٹ ڈالنے والے ارکان ان کی دائیں جانب موجود لابی میں جائیں جبکہ بل کی مخالفت کرنے والے ارکان انکی بائیں جانب موجود لابی میں جائیں، ایوان کی تقسیم کے ذریعے بل پر رائے شماری کے بعد سپیکر اسد قیصر نے آئینی ترمیم کے نتائج کا اعلان کیا ، بل کے حق میں 288ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں کسی رکن نے ووٹ نہ دیا۔پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار نجی آئینی ترمیمی بل کو حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔بل کی حتمی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں کے پی میں ضم ہونے والے سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع کی موجودہ 12نشستیں برقرار رہیں گی ۔ سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع خیبرپختونخوا اسمبلی میں صوبائی نشستوں کی تعداد اضافے کے بعد 24ہوجائے گی۔بل کے نفاز کے بعدالیکشن کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ18ماہ کے دوران کروائے جائیں گے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے۔ وزیراعظم فاٹاکے عوام چاہتے ہیں وہ بھی مین اسٹریم میں ہوں، فاٹاکے عوام کے چاہتے ہیں ان کی بھی آواز ہو اور سنی بھی جائے، فاٹا سے متعلق بل پر تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے، اتفاق کرنے پر تمام جماعتوں کو مشکور ہوں۔وزیراعظم کا کہنا تھا فیصلہ کیاتھا تمام صوبے این ایف سی میں3 فیصد فاٹا کو دیں گے، صوبوں کو اس میں کچھ تحفظات کم ہوں گے کیونکہ مالی مسائل ہیں،لیکن سابقہ فاٹا میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے باعث بہت نقصان ہوا، فاٹامیں ترقیاتی منصوبے کیلئے بڑی رقم کی ضرورت ہے۔عمران خان نے کہا خیبرپختونخوا کے ترقیاتی فنڈ سے فاٹاکے ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں ہوسکتے، تمام صوبوں سے درخواست کی کہ فاٹا کیلئے ترقیاتی منصوبوں کی رقم میں حصہ ڈالیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بہت بڑا حادثہ تھا، مشرقی پاکستان کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی، ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، کسی کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان ان کوحق نہیں دے رہا اورجب کوئی علاقہ پیچھے رہ جائے تو ہم سب کو مل کر اٹھنا چاہیے۔ پسماندہ علاقوں کو ترقی دے کرمرکزی دھارے میں لایا جائے، پاکستان کے دشمن احساس محرومی کو منفی مقاصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا کے عوام نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے، فاٹا کی آوازاب ہر جگہ سنی جائے گی، فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے وہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی بڑھائی جارہی ہیں، فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، تمام جماعتیں فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے متفق ہیں۔

Facebook Comments
Share Button