GB News

بلتستان یونیورسٹی:میرٹ کی یقین دہانی

Share Button

یونیورسٹی آف بلتستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے کہا ہے صوبائی حکومت نے15سو کنال اراضی بلتستان یونیورسٹی کو فراہم کی ہے اگلے تین سال میں بلتستان یونیورسٹی کے انفراسٹرکچر کو مکمل کرنے کی بھر پور کوشش کرینگے بلتستان یونیورسٹی میں خالصتا میرٹ پر تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں گی۔یونیورسٹی آف بلتستان کو ایک اعلی معیار ی اور علاقے کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والا ادارہ بنانے کے لئے تمام تر اقدامات کئے جا رہے ہیں ہماری پوری کوشش ہے کہ پورے پاکستان سے قابل اور ماہر افراد کا ایک دستہ بنائیں جو یونیورسٹی آف بلتستان کو کامیاب بنانے میں اپنا کر دار ادا کر سکے انہوں نے کہا کہ بلتستان یونیورسٹی میں نظام اس قسم کا بنایا گیا ہے کہ جس میں میرٹ کی حکمرانی یقینی ہے بلتستان یونیورسٹی سے مختلف شعبوں میں ٹیکنیکل پروگرامز کے خصوصی کورسز کروائی گے تاکہ بہترین ہنر مند افراد پیدا ہوسکیں بلتستان یونیورسٹی میں میوزیم بنائیںگے جو گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کی مقامی ثقافت کی عکاسی کرے گا۔جامعہ بلتستان میں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے کی یقین دہانی خوش کن ہے اگر تعلیمی ادارے ہی میرٹ کی پامالی کے مرتکب ہوں گے تو بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟میرٹ کی بالادستی پہ بارہا بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن میرٹ کی پامالی کے جن کو بوتل میں بند نہیں کیا جا سکا میرٹ کی بالادستی کے شور میں بڑے دھڑلے سے میرٹ کو پامال کیا جاتا ہے اور وہ لوگ اہم پوسٹوں پہ براجمان ہو کر اہل افراد کا منہ چڑاتے ہیں جن کی نااہلی اظہر من الشمس ہوتی ہے ایسے میں اگر میرٹ پہ عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے تو اسے حسن ظن رکھتے ہوئے خوشگوار ہوا کے جھونکے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔یہ یقین دہانی میرٹ کی بالادستی سے مایوس و ناامید لوگوں کیلئے امید کی کرن ہے اور اگر حقیقی معنوں میں اس پہ عمل کرنے کے اقدامات اٹھا لیے جاتے ہیں تو یہ گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ یہاں کے نوجوانوں کا مقدر بدلنے کی بھی راہ ہموار کر سکتا ہے’اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قانون کی پامالی اور میرٹ کا فقدان ہی ہمارا اصل مسئلہ ہے، میرٹ اور قانون کو بالادستی حاصل ہو جائے تو ہر شہری کو سب کچھ حاصل ہو جائے، جسے جس کام کے لئے منتخب، بھرتی کیا جاتا ہے وہ وہی کام نہیں جانتا البتہ کام دکھانا خوب جانتا ہے،یہاں تو سیاست میں بھی میرٹ نظر نہیں آتا،عوام کو خوشحالی ملتی تو آج حکمرانوں کی بھی وہ حالت نہ ہوتی جو انہوں نے بنالی،درحقیقت احتساب ہی قوموں کو راہ پر ڈالتا ہے، اگر یہ نہ ہو تو صرف چند لوگوں کے پاس دولت بے حساب اور احتساب نایاب ہو جاتا ہے۔جس معاشرہ سے قانون،میرٹ اور محنت رخصت ہو جائیں وہ اک ایسے جسم کی مانند رہ جاتا ہے جس کے اہم ترین اعضانکال لئے گئے ہوں۔کچھ عرصہ قبل آرمی چیف بھی اپنے خطاب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ قانون اور میرٹ کی حکمرانی پر یقین رکھیں اور شارٹ کٹس سے بچیں قیادتیں سیاسی ہوں یا مذہبی اور فکری قانون، میرٹ اورمحنت کی حکمرانی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں’جس معاشرے میں اوپر سے لیکر نیچے تک کرپشن ہی کرپشن ہو وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتااور اگرآگے بڑھنا ہے تو میرٹ ہی ہمارا خاصہ ہونا چاہیے۔مگریہاں نہ تو مختلف کھیلوں میں منتخب نمائندوں کی سلیکشن میں میرٹ کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی میرٹ پر کھلاڑیوں کا چنائو ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ قومی کھیل ہاکی، فٹ بال اور دوسرے کھیل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ملک میں تعلیم کے معیار سے کون واقفیت نہیں رکھتا ، تعلیم کا گرتا معیار بھی اقرباپروری کا شکار ہوچکا ہے۔اگر آج 70سال بعد بھی ہم میرٹ کا خیال نہیں رکھیں گے تو سی پیک جیسے بڑے پراجیکٹس کابھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر میرٹ قائم ہوجائے تو تعلیم کا شعبہ بھی ترقی کے زینے پار کرتا ہے اور جب تک لوگوں کی تربیت نہ ہویا تعلیم یافتہ نہ ہوں وہ ترقی نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں تعلیم کا مقصد نوکری حاصل کرنا ہے۔ بلاشبہ ملازمت کا حصول تعلیم کے بغیر ممکن نہیں لیکن ملازمتوں کی منڈی میں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بڑی بڑی ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں اور حکمرانوں کے سفارش یافتہ جہلااعلی عہدوں پر متمکن ہو کر میرٹ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ جس ملک میں کلچر یہ ہو اس کے مستقبل کے بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ کیا اس حقیقت سے نابلد ہے کہ تعلیم کا کیا حشر ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کا کتنے فی صد حصہ زیور تعلیم سے آراستہ ہے اور معیار تعلیم کیا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات سے ایلیٹ واقف ہیں لیکن اس کا مفاد اسی میں ہے کہ غریب طبقات کے بچے تعلیم سے محروم رہیں۔ہمارے ملک میں سیاست اور حکمرانی پراشرافیہ اسی لیے ہی قابض ہے کہ عوام کی بھاری اکثریت ناخواندہ ہے اور سیاست دان اس علم اور شعور سے نابلد عوام کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں اور یہی ہو رہا ہے، جس طرح صنعتی علاقوں میں ٹھیکیداری نظام نافذ ہے اور مزدوروں کے حقوق پامال کر کے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے، اسی طرح سیاست میں بھی ٹھیکیداری نظام چل رہا ہے حالانکہ ملک کی معیشت بالکل بیمار نہیں کپڑے، پھلوں، سبزیوں الیکٹرانک اشیاء اور برتنوں کی دکانیں ہر طرح کی چیزوں سے بھری ہوئی ہیں ‘ہوٹلوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیںہم تو صرف نالائق قیادت کے ڈسے ہوئے ہیں جو تنکوں کو اکٹھا کر کے آشیانہ بنانے کی صلاحیت تو دور کی بات ہے بنے ہوئے آشیانے سے بھی آئے دن تنکے توڑ کر باہر پھینک رہے ہیں۔ہر جماعت میرٹ کی دھجیاں اڑاتی نظر آتی ہے، مایوسی کے بادل ہر طرف چھائے نظر آتے ہیںاس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ میرٹ کی حکمرانی قائم ہو تاکہ ہمارا نوجوان مایوسی کی طرف نہ بڑھ سکے اور ایسا سسٹم رائج ہو کہ عوام کو اس پر مکمل اعتماد ہو تاکہ ہر شخص اس میرٹ کا بھی احترام کرے اور ملکی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرتا رہے۔کامیابی وکامرانی کیلئے تعلیم، صحت ، میرٹ اور امن کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ان میں بھی سب سے زیادہ اہمیت تعلیم اور میرٹ کو حاصل ہے۔ پاکستان کی طرح ملائیشیا بھی کبھی تعلیمی اور معاشی انحطاط کا شکار تھا۔ملائیشیا ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے مختصر مدت میں عدیم المثال ترقی کی۔ آج ملائیشیا کو دنیا کی تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی معاشی طاقت تصور کیا جاتا ہے۔ملائیشیا کی معاشی ترقی اور مضبوط و مستحکم نظام کے پیچھے ایک بڑی وجہ معیار تعلیم ، میرٹ اور بہتر شرح خواندگی ہے۔میرٹ اور تعلیم کے فروغ کے بغیر ترقی وخوشحالی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ اس نے ملائیشیا میں تعلیمی اداروں کو اپنے ایجنڈے اور معیشت کا اہم عنصر بنایا اور ملک میں تعلیم کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرلیا۔ تعلیم کے بل بوتے پرملائیشیا کی بے مثال ترقی اور اقتصادی خوشحالی نے دنیا بھر کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہمارا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے لیکن اس وقت پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں اور ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھررہے ہیں یہ کس کی ذمہ داری ہے حکومت اپنی ذمہ داری بطریق احسن نبھاتی تو آج بیروزگاری کا یہ عالم دیکھنے میں نہ آتا اور نوجوانوں کی صلاحیتیں بے کار نہ ہوتیں اور وہ معاشرے کی بگاڑ کا باعث قرار نہ پاتے’ان حالات میں اگر ہم تیزی سے ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا’نوجوانوں میں پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ کرنا ہو گا’اہل افراد کو ہر صورت ان کا مقام دینا ہوگا اور نااہلوں سے معاشرے کو نجات دلانا ہو گی تبھی ہم سرخروئی کے زینوں پہ چڑھ سکیں گے۔

Facebook Comments
Share Button