تازہ ترین

Marquee xml rss feed

پاکستان میں فحش ویب سائٹس دیکھنے کی رجحان میں کمی واقع پاکستان میں فحش مواد اپ لوڈ ہونے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے کے رجحان میں بھی واضح کمی ہوئی ... مزید-علیم خان پھر سے پنجاب کی کابینہ میں واپسی کیلئے تیار تحریک انصاف کے سینئر رہنما کو جلد پنجاب کی کابینہ میں شامل کر لیا جائے گا، ممکنہ طور پر سینئر وزیر کی وزارت ہی سونپی ... مزید-مجھے اپنی عزت کا بھی خیال ہے، میرا مزاج ایس نہیں ہے کہ زیادہ شور شرابا کر سکوں اب جو وزارت سونپی گئی ہے اس کیلئے مشاورت نہیں کی گئی، تاہم وزیراعظم کا فیصلہ قبول کرتا ہوں: ... مزید-نامور وکیل کی مشرف کے خلاف غداری کیس میں پیش ہونے سے معذرت-مریم صفدر کے ہوتے ہوئے شر یف فیملی کو کسی د شمن کی ضرور ت نہیں‘ شہباز شریف ساتھی کی گرفتاری پربو کھلاہٹ کا شکار ہو کر بیان بازی کرر ہے ہیں ، غلام محی الدین دیوان-وزیر اعظم قوم کو بتائیں کہ وہ کیا ایجنڈا لیکر امریکہ جارہے ہیں،سینیٹرسراج الحق ایجنڈا افغانستان سے امریکی افواج کی بحفاظت واپسی کا ہے یا قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ ... مزید-عوام سے جینے کا حق چھیننے کے بعد اب کفن اور قبر پر ٹیکس لگا کر موت بھی مہنگی کر دی گئی ہے ، سینیٹر سراج الحق اس وقت میں ملک میں جھوٹوں کی حکومت ہے ،جماعت اسلامی اقتدار ... مزید-ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالرز جرمانے کا معاملہ، اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، چین پاکستان کی مدد کیلئے میدان میں آگیا چین ریکوڈک منصوبے کا کنٹرول خود سنبھال کر چلی اور کینیڈا ... مزید-رینجرز کی شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 5 ملزمان گرفتار-دائودی بوہرہ جماعت کے سربراہ ڈاکٹر سیدنا مفدل سیف الدین کراچی پہنچ گئے

GB News

وفاقی کابینہ نے ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی

Share Button

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں )وفاقی کابینہ نے ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا،30جون2019تک اثاثے ظاہر کرنے والوں پر5فیصد،30ستمبر تک اثاثے ظاہر کرنے والوں کے لیے10فیصد اور31 دسمبر تک اثاثے ظاہر کرنے والوں کے لیے20فیصد ٹیکس کی تجویز ہے، اسکیم کا اطلاق بے نامی بینک اکا ونٹس پر بھی ہوگا ، اس کے تحت بے نامی اکا ونٹس کی ٹرانزیکشن یکم جولائی2017سے30جون 2018 تک کی ٹرانزیکشنز کا اطلاق ہوگا۔ منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ایمنسٹی اسکیم پر بریفنگ دی گئی اور کابینہ نے اتفاق رائے سے اس کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ سے منظور کی گئی ایمنسٹی اسکیم کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ایمنسٹی اسکیم کا آرڈیننس جاری کریں گے۔ 30 جون 2019 تک اثاثے ظاہر کرنے والوں پر 5 فیصد، 30 ستمبر تک اثاثے ظاہر کرنے والوں کے لیے 10 فیصد اور 31 دسمبر تک اثاثے ظاہر کرنے والوں کے لیے 20 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے۔ غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے والوں کو”پاکستان بنا”سرٹیفیکیٹ میں سرمایہ کاری کی سفارش کی گئی جب کہ غیر ملکی اثاثے پاکستان واپس لانے کی بھی تجویز شامل ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی ٹیکس ایمنسٹی دینے کی سفارش ہے جب کہ 30 جون تک پراپرٹی ڈیکلیئر کرنے والوں پر ایک فیصد، 30 ستمبر تک پراپرٹی ڈیکلیئر کرنے والوں کے لیے 2 فیصد اور 31 دسمبر تک پراپرٹی ڈیکلیئر کرنے والوں کے لیے 4 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے۔ اسکیم کا اطلاق بے نامی بینک اکا ونٹس پر بھی ہوگا جس کے تحت بے نامی اکا ونٹس کی ٹرانزیکشن یکم جولائی 2017 سے 30 جون 2018 تک کی ٹرانزیکشنز کا اطلاق ہوگا،ان ڈیکلیئر سیلز ظاہر کرنے پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ سال 2000 کے بعد سرکاری عہدہ رکھنے والے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے اور یہ اسکیم تمام افراد اور کمپنیوں پر لاگو ہوگی، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم عدالتوں میں زیر التوا کیسز کے لیے نہیں ہوگی۔ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے ٹیکس ایمنسٹی سکیم ( اثاثہ جات ڈیکلریشن سکیم) کا مقصد بے نامی اثاثہ جات رکھنے والوں کو اثاثے وائٹ کرنے کا آ خری موقع فراہم کرنا ہے ورنہ اس کے بعد قانون کی سختی کا سامنا کرنا پڑے گا، سکیم کے تحت 3جون تک لوگوں کو شامل ہونے کے لئے موقع ہو گا، سکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ لے سکتا ہے ، سکیم میں پبلک آفس ہولڈرز شامل نہیں ہوسکتے،سکیم کے تحت پاکستان کے اندر اثاثے ڈیکلر کرنے کی صورت میں 4فیصد ٹیکس عائد ہوگا ، رئیل اسٹیٹ کے اثاثوں کی ویلیو ایف بی آر کی ویلیو سے ڈیڑھ گنا زیادہ پررجسٹرڈ کی جائے گی،بیرون ملک سے اثاثہ جات ظاہر کر کے پاکستان لانے کی صورت میں 4فیصد ٹیکس عائد ہوگا جبکہ بیرون ملک اثاثے ظاہر کر کے بینکوں میں رکھنے کی صورت میں 6فیصد تک ٹیکس ادا کرنا ہوگا ،سکیم کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے نہ کہ ریونیو اکٹھا حاصل کرنا ہے، اس کا مقصد بے نامی اثاثوں کو کیسے معیشت کے اندر لایا جائے ، اس کے بعد اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کو قانون کی سختیوں کو سامنا کرنا ہوگا، آئی ایم ایف معاہدے کے تحت جو اقدامات کرنے جا رہے ہیں وہ پاکستان کے مفاد میں ہیں ، بجلی کے300یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ان کیلئے بجٹ میں 216ارب رکھے ہیں ، کمزور طبقے کو سپورٹ کرنے کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس پروگرام کے تحت بجٹ 100ارب سے بڑھا کر 180ارب کیا جائے گا ، کمزور طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جائے گا ، محصولات کو بڑھانے کیلئے آئندہ بجٹ میں تاریخی انداز میں فیصلے کئے جائیں گے۔ منگل کو ایف بی آ ر میں وزیر مملکت خزانہ حماد اظہر ، چیئرمین ایف بی آ ر شبر زیدی کے ہمر اہ پر یس کانفر نس کرنے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آج کابینہ نے اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا ہے ، اس کا مقصد یہ ہے کہ اثاثوں کو کیسے معیشت کے اندر لایا جائے اور وائٹ کرنے کا موقع دیا جائے مثبت ریونیو اکٹھا کرنا نہیں ہے۔مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے ، ڈیڈ اثاثوں کو معیشت میں ڈالنا کر فعال بنایا جائے ، سکیم کو سمجھنے میں اور عمل درآمد کے لئے آسان اور حقیقی رکھا ہے۔ اس کے پیچھے جو فلسفہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ڈریاجائے بلکہ لوگوں کو قانونی معیشت میں شامل کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ، 3جون تک لوگوں کو شامل ہونے کے لئے موقع ہو گا ، سکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ لے سکتا ہے ، سکیم میں پبلک آفس ہولڈرز شامل نہیں ہوسکتے ، سکیم تمام اثاثے شامل ہیں جو پاکستان یا پاکستان سے باہر ہوں ، 4فیصد ٹیکس دے کر اثاثے ڈکلیئر ہو سکیں گے ،شرط یہ ہے کہ پاکستان کے بینکس اکائونٹس میں رکھے جائیں ، رئیل اسٹیٹ کے اثاثوں کی ویلیو ایف بی آر کی ویلیو سے ڈیڑھ گنا زیادہ رجسٹرڈ کی جائے گی ،بیرون ملک سے اثاثہ جات ظاہر کر کے پاکستان لانے کی صورت میں 4فیصد ٹیکس عائد ہوگا جبکہ بیرون ملک اثاثے ظاہر کر کے بینکوں میں رکھنے کی صورت میں 6فیصد تک ٹیکس ادا کرنا ہوگا ، بے نامی قانون کے تحت اگر کوئی اثاثہ ظاہر نہیں کرتا تو اس اثاثے کو ضبط کیا جا سکتا ہے ، بے نامی اثاثے رکھنے والوں کو اپنی پراپرٹی وائٹ کرنے کیلئے یہ آخری موقع ہے ورنہ بعد میں قانون کی سختی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات8ماہ سے چل رہے ہیں ،معاہدے کی آئی ایم ایف بورڈ منظوری دے گا ، آئی ایم ایف معاہدے کے تحت جو اقدامات کرنے جا رہے ہیں وہ پاکستان کے مفاد میں اور پاکستان کی ضرورت ہیں ، سرکاری اداروں کا خسارہ کم کرنا ، ایکسپورٹ کو بڑھانا ، قرضوں کو کم کرنے ، مالی ڈسپلن قائم کرنے یہ سب ہمارے اپنے مفاد میں ہے ، لوگوں کو خدشہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد مہنگائی ہوگی اور قیمتیں بڑھیں گی ، بجلی کی 300یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ان کیلئے بجٹ میں 216ارب رکھے ہیں ، کمزور طبقے کو سپورٹ کرنے کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس پروگرام کے تحت بجٹ 100ارب سے بڑھا کر 180ارب کیا جائے گا ، کمزور طبقے پر گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی ، ترقیاتی بجٹ کو بڑھایا جائے گا ، کمزور طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جائے گا ، محصولات کو بڑھانے کیلئے آئندہ بجٹ میں تاریخی انداز میں فیصلے کئے جائیں گے ، نئے چیئرمین کو ایف بی آر میں تبدیلیوں کا مکمل اختیا رہو گا ۔مشیر خزانہ نے کہا کہ بیرون ممالک ڈیڑھ لاکھ اکائونٹس کی تفصیلات حاصل کر لی ہیں اگر وہ اثاثے ظاہر نہیں کریں گے تو یہ معلومات استعمال کر کے بے نامی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے ، پاکستان شروع سے ہی برآمدات بڑھانے میں ناکام رہا ۔ وزیر مملکت خزانہ حماد اظہر نے کہا کہ یہ سکیم ماضی کی سکیم سے مختلف ہے ، ماضی کی سکیموں میں ٹیکس فائلر بننے کی شرط نہیں تھی ، کالے دھن کو اب پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے استعمال کرانا چاہتے ہیں ، صوبائی ریونیو اتھارٹیزسے بات چیت کی گئی ہے وہ رئیل اسٹیٹ کی ڈی سی ریٹ کو مارکیٹ ویلیو کے قریب لائیں گے ۔حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ 70صوبوں کو جاتا ہے، اس لئے آئی ایم ایف سے ملے تا کہ فنانشل ڈسپلن لایاجائے۔شبر زیدی نے کہا کہ بہت بڑا طبقہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، اثاثہ ڈیکلیریشن کا قانون معیشت کیلئے اہم ہے، میڈیا بطور پارٹنر اس کی کامیابی کیلئے کام کریں۔

Facebook Comments
Share Button