GB News

تحریک انصاف گلگت بلتستان سے مخلص ہے تو سات سے آٹھ ارب کے منصوبوں کی منظوری میں کنجوسی نہیں کرے گی، حفیظ الرحمن

Share Button

اسلام آباد(پ ر)وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن سے وفاقی سیکر ٹری کشمیر افئیرز و گلگت بلتستان طارق پاشا نے ملاقات کی گلگت بلتستان کے سالانہ بجٹ ، مسلم لیگ ن کی سابقہ مرکزی حکومت کی طرف سے دئے گئے پی ایس ڈی پی منصوبوں اور نئے پی ایس ڈی پی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگوملاقات میں وزیر اعلی نے وفاقی سیکرٹری سے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے گلگت بلتستان کا ترقیاتی بجٹ 7ارب سے بڑھا کر17ارب کر دیا تھا اور 149ارب کے پی ایس ڈی پی منصوبے دیئے جبکہ نئی وفاقی حکومت نے بجٹ پر کٹ لگا کر اسے 15ارب کر دیا جس سے ترقیاتی عمل متاثر ہو رہا تھا اس حوالے سے وزیر اعظم سے ملاقات میں طے ہوا تھا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں اس کا ازالہ کیا جائے گا اس یقین دہانی پر گلگت بلتستان حکومت نے 19ارب کا بجٹ تیار کیا ہے ،وزیر اعلی نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے گلگت بلتستان کو پی ایس ڈی پی میں 149ارب روپے کے منصوبے دئے جبکہ نئے مالی سال کے لئے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے صرف سات ارب کے پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کے لئے سمری ارسال کی ہے امید ہے کہ وفاقی حکومت یہ منصوبے منظور کرے گی ان منصوبوں میں شاہراہ نگر جو پورے ضلع نگر کو آپس میںجوڑے گی جبکہ شاہراہ قراقرم بند ہونے کی صورت میں متبادل شاہراہ ہوگی ،گلگت بلتستان میں سیاحت کی ترقی کے لئے اہم شاہراہ کارگاہ ایکسپریس وے ہے جو کہ گلگت کو ضلع داریل کھنبری سے ملائے گی، ،بلتستان ڈویثرن کے لئے 500بیڈ ہسپتال اور دیامر ڈویثرن کے لئے 500بیڈ ہسپتال ان دونوں ہسپتالوں کے لئے زمین صوبائی حکومت نے مہیا کر دی ہے ،اس کے علاوہ چلاس اور سکردو میں واٹر سپلائی منصوبہ اور دیامر میں ٹیکنیکل کالج کے منصوبے شامل ہیں ان منصوبوں کی لاگت سات اور آٹھ ارب کے لگ بھگ ہے ،مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان کو 149کے ارب کے منصوبے دئے ہیں تو امید ہے کہ تحریک انصاف اگر گلگت بلتستان سے مخلص ہے تو محض سات سے آٹھ ارب کے منصوبوں کی منظوری میں کنجوسی نہیں کرے گی اور فراخدلی کے ساتھ یہ منصوبے منظور کرے گی ،جس پر سیکرٹری کشمیر افئیر طارق پاشا نے کہا کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی طرف سے موصول کردہ منصوبوں کے حوالے سے سمری وزارت امور کشمیر نے پلاننگ کمیشن کو ارسال کی ہے اور وزارت امور کشمیر کی پوری کوشش ہے کہ یہ منصوبے منظور ہو جائیں اور مرکزی حکومت نے گلگت بلتستان کے سالانہ بجٹ میں جو کٹوتی کی ہے اس کا بھی ازالہ ہو اور گلگت بلتستان میں ترقی کا عمل پہلے کی طرح رواں دواں ہو،اس موقع پر وزیر اعلی نے کہا کہ اچھی بات ہے کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور کشمیر افئیزز گلگت بلتستان کے مسائل کے حل او رترقی کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں ،وزیر اعلی نے اس موقع پر سیکر ٹری کشمیر افیئر کا شکریہ ادا کیا کہ وہ گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے حوالے سے گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں ۔

Facebook Comments
Share Button