GB News

گلگت بلتستان میںکوئی بھی ٹھیکہ مسلم لیگ ن کے علاوہ کسی اور کیلئے حرام ہوگیا ،امجد ایڈووکیٹ

Share Button

گلگت(نمائندہ خصوصی)پیپلزپارٹی کے صوبائی صدرامجدحسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ غذرپھنڈر میں22کلومیٹر روڈمنصوبے میں وزیراعلیٰ کابھائی صوبائی ووزیرفداخان اورایک اورٹھیکیدار کوزبردستی شامل کرنے کے لئے دبائوڈالاجارہاہے۔ کے پی این سے گفتگومیں امجدایڈووکیٹ کاکہناتھا کہ18کروڑروپے لاگت کے اس منصوبے کے ٹینڈرمیں ایک کنٹریکٹر پری کوالیفائی ہوا ہے ٹھیکیدار نے جوائنٹ وینچرکرکے این آئی ٹی بھی جاری کردیا ہے اب چیف انجینئرایکسئین کے ذریعے دبائوڈال رہے ہیں کہ صوبائی وزیر، وزیراعلیٰ کے بھائی اورلیگی ٹھیکیدار کوبھی شامل کیاجائے۔گلگت بلتستان میںکوئی بھی ٹھیکہ مسلم لیگ ن کے علاوہ کسی اور کے لئے حرام ہوگیا ہے۔چیف انجینئرریاست کے اداروں کے سربراہوں کے نام پر دھمکیاں دے کرٹھیکے تقسیم کررہے ہیں سوال یہ ہے کہ جب چیف انجینئرریاستی اداروں کوٹھیکوں کی بندربانٹ میں براہ راست ملوث کررہا ہے تو خاموش کیوں ہے؟۔ہمیں معاملے پروضاحت چاہئے۔انہوں نے کہا کہ4سال سے چیف انجینئر کاتبادلہ نہیں ہوا حالانکہ دیگرافسران کاایک ہی دن میں دو دوتبادلے ہوئے انہیں کیوں مسلط رکھا ہوا ہے؟چیف انجینئرنے گزشتہ روزایک ٹھیکیدارکواپنے غنڈے بھیج کرتشددکانشانہ بھی بنایا یہ ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال گلگت کی سڑکوں کی مرمت کے نام پر40کروڑروپے اداہوئے۔وزیراعلیٰ نے خودبلڈوزپرچڑھ کر افتتاح کیا ایک سال بعد وہی سٹرکیں کھنڈرات بن گئیں۔ 40کروڑ روپے کہاں خرچ ہوئے کس کی جیب میں گئے؟سپریم ایپلٹ کورٹ کی عمارت کامنصوبہ12 کروڑروپے کاتھا بعدمیں48کروڑ روپے تک پہنچادیا گیا ۔ یہاں کوئی تحقیقاتی ادارے کرپشن کوسپورٹ کررہے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button