GB News

تھر کوئلے کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا، اب منصوبے کو کامیاب بنائیں گے، وزیراعظم

Share Button

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تھر کا کوئلہ ملک کا ایک اہم اثاثہ ہے، اس کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا، تھر کے کوئلے کو برے کار لانے سے ملکی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی، وفاقی حکومت قومی مفاد کے حامل تھر منصوبے کو کامیاب بنانے میں ہر ممکنہ مدد فراہم کرے گی۔ جمعہ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت تھر کوئلے کے ذخائر اور انکے استعمال سے متعلق اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داد، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ترجمان ندیم افضل چن، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، سیکرٹری پاور عرفان علی، سی ای اوحبکو خالد منصور، سی ای او تھل نووا پاور سلیم اللہ میمن، منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آئی بی شاہ جہاں مرزا و دیگر شریک تھے ۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ تھر کول فیلڈمیں دنیا کا ساتواں بڑا کوئلے کا ذخیرہ پایا جاتا ہے جوکہ ایک اندازے کے مطابق آئندہ دو سو سالوں کے لئے ایک لاکھ میگا واٹ بجلی بنانے کے کام آ سکتا ہے، تھر میں کوئلے کے 175ارب ٹن ذخائر پچاس ارب ٹن تیل اور دو ہزار ٹریلین کیوسک فٹ گیس کے برابر توانائی کے حامل ہیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ تھر کول بلاک ٹو کو برے کار لانے کے پہلے مرحلے پر کام مکمل ہو چکا ہے جب کہ دوسرے مرحلے میں کام جاری ہے، ان مختلف مراحل میں تھر کوئلے کو استعمال کرتے ہوئے بجلی کے کارخانے لگائے جا رہے ہیں تاکہ ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے موجود کوئلے کو برے کارلایا جائے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بلاک ٹو سے 2025 تک پانچ ہزار میگا واٹ بجلی آئندہ پچاس سالوں تک پیدا کی جا سکتی ہے۔ وزیرِ اعظم کو سندھ اینگروکول مائننگ کمپنی کی جانب سے تھر میں کان کنی کے منصوبے،تھر فانڈیشن کے تحت تعلیم، صحت، تھر کے مکینوں کو ہنر سکھانے، تھر میں شجر کاری جیسے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی ۔

Facebook Comments
Share Button