GB News

آرڈر دو ہزار اٹھارہ کالعدم ہوچکا، سمریاں 2019 کے تحت بھیجی جائیں، متحدہ اپوزیشن

Share Button

متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان اسمبلی کیپٹن(ر) محمد شفیع، جاوید حسین،نواز خان ناجی،عمران ندیم،کاچو امتیاز، حاجی رضوان اور بی بی سلیمہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بینچ کے فیصلے کے بعد آرڈر 2018 کالعدم ہو چکا ہے۔ گلگت بلتستان میں اب تک سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونا عدالتی حکم کی توہین ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان گلگت بلتستان میں اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے تمام ریاستی اداروں کو احکامات بھی جاری کرے سوچی سمجھی سازش کے تحت آرڈر 2018 کے تحت سمریاں بھیجی جا رہی ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ گلگت بلتستان میں اب آرڈر 2019 نافذ ہو چکا ہے اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا تو عوام کو سڑکوں پر لائینگے۔انہوں نے مذید کہا ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان اور ان کی کابینہ کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنا اور آرڈر 2018 کے تحت سمریاں بھیجنا عدالتی فیصلے کی توہین ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کو چاہیئے کہ وہ اس سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود تمام ریاستی اداروں کو احکامات جاری کرے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا تو عوام کو سڑکوں پر لانے پر مجبور ہونگے۔ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں فوراً گلگت بلتستان میں آرڈر 2019 کو نافذ کیا جائے اور تمام سمریاں اور فیصلے آرڈ 2019 کے تحت بھیجی جائیں ۔

Facebook Comments
Share Button