GB News

اپوزیشن لیڈرکیپٹن(ر)محمد شفیع کی ثوبیہ مقدم سے ملاقات

Share Button

اپوزیشن لیڈرگلگت بلتستان اسمبلی کیپٹن (ر) محمدشفیع نے رکن اسمبلی ثوبیہ مقدم سے ملاقات کی۔ملاقات میں ثوبیہ مقدم کواصول موقف پرڈٹ جانے پرمبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں آپ جیسے اصول پرست اور حق پرست رہنماؤں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے عوام الناس کی فلاح و بہبود اور اپنے علاقے کی وسیع تر مفاد میں آواز حق بلند کرتے ہوئے زاتی مفادات کو پس پْشت ڈال کر، کٹھ پتلی، ڈمی اور لوٹ کھسوٹ والے اقتدار سے بغاوت کرکے عوامی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا۔ گلگت بلتستان کے عوام اور اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ممبران آپ کے ساتھ اظہار ہمدردی اور آپ کے اصولی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے آپ کے ساتھ دینے کا عزم اور اعادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے اور چہرہ ہے۔ ترقی یافتہ دیامر دراصل ترقی یافتہ گلگت بلتستان ہے۔ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت نے بھی دیامر کونظراندازکیا۔ جس کی زندہ جاوید مثال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے اپنے چار سالہ دور اقتدار اور وفاق میں اْن کی اپنی پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود ایک بھی میگا پراجیکٹ دیامر کے لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے فیڈرل پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کروایا حالانکہ وہ کھربوں کے پراجیکٹس کا ذکر کرتے نہیں تھکتے۔ صوبائی اے ڈی پی میں بھی ان چار سالوں میں کوئی ایک بھی میگا پراجیکٹ اربوں کی مالیت کا دیامر کے کسی بھی علاقے میں نہیں رکھا گیا ہے سوائے جھوٹے اعلانات اور میٹھے دعوؤں کے۔ اپوزیشن لیڈر ہونے کے ناطے وزیر اعلٰی گلگت بلتستان کی دیامر کے حقوق کی جنگ لڑنے والی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش کو ہم سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آواز نہ صرف دیامر کی تھی بلکہ گلگت بلتستان کی 52 % خواتین کی آواز تھی۔ گلگت بلتستان کے تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں اور قائدین نے اس غیر آئینی اور جھوٹ پر مبنی برطرفی کے اقدام کی پْر زور مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلٰی سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ نے جو الزامات لگا کر برطرف کیا ہے گلگت بلتستان کی قوم کو ثبوت دیں بصورت دیگر گلگت بلتستان کے ہر کونے سے گو حفیظ گو کی آوازیں بہت جلد بْلند ہونا شروع ہونگی۔ ثوبیہ جے مقدم نے دیامر کے عوام کیلئے ہمدردی اور اْن کی محرومیوں کی آواز بننے پر اپوزیشن لیڈرکا شکریہ ادا کرتے ہوئے دیامر کے حقوق کیلئے اپنی اعلان کردہ ”تحریک حصول حقوق دیامر” پر قائد حزب اختلاف سے مشاورت کی اور اْن کو اعتماد میں لیا۔

Facebook Comments
Share Button