تازہ ترین

Marquee xml rss feed

سندھ میں فاروڈ بلا ک بنایا گیا توبدمزگی پیدا ہوگی، ڈاکٹرشاہد مسعود سندھ میں فاروڈ بلاک کوعوام قبول نہیں کریں گے ، کیونکہ وہی 20 کرپٹ لوگ ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ ... مزید-گرمی کی شدت اور ہیٹ ویو کے پیش نظر ضلعی سطح پرہیٹ اسٹروکس/ ویو کیمپس لگائے جائیں۔آئی جی سندھ-عالمی یوم امن پرپاکستان میں قیام امن کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دینے والے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،خرم شیر زمان-شیخ رشید کا بلاول بھٹو کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کا دلچسپ انداز " ہیپی برتھ ڈے مائی لو"۔ شیخ رشید نے صحافیوں کے بھی قہقہے لگوا دئیے-عالمی برادری امن کا آغازمسئلہ کشمیرکے حل سے کرے، بلاول بھٹو عالمی تنازعات کے حل کیلئے سفارتکاری اورمذاکرات پرانحصار بڑھانا ہوگا، دنیا انسانی ذات کے لیے قدرت کی گود ... مزید-میئر کراچی کیلئے نیب کا شکنجہ تیار ،وسیم اختر کو آئندہ ہفتے طلب کئے جانے کا امکان محکمہ بلدیات میں کرپشن اور سرکاری خزانے کی لوٹ مار میں ملوث کے ایم سی کے 75افسران کیخلاف ... مزید-سندھ حکومت کو گرانا آسان کام نہیں ہے، قمر زمان کائرہ آپ سندھ حکومت کو نہیں گرا سکتے، سندھ حکومت کو گرانا آپ کے بس کا روگ نہیں، کرپشن توبہانہ ہے سندھ حکومت نشانہ ہے۔سینئر ... مزید-کیپٹن (ر) صفدر کی عبوری ضمانت میں 12اکتوبرتک توسیع-سعودی عرب امت مسلمہ کا مرکز ہے،وزیر اعظم عمران خان کی سعودی قیادت سے ملاقاتوں کا محور مسئلہ کشمیر رہا، ہندوستان نے کشمیر کے حوالے سے جو حقائق چھپا رکھے ہیں وزیر اعظم ... مزید-ڈاکٹرز مریضوں کے ساتھ شفقت و ہمدردی کا سلوک،معالج کی حیثیت سے علاج کے ساتھ بیماریوں کی روک تھام اور صحت کی نگہداشت پر زیادہ توجہ مرکوز کریں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ... مزید

GB News

وزیراعظم کا قرضوں کی تحقیقات کیلئےاعلیٰ سطحی کمیشن بنانے کا اعلان

Share Button

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ 10 سال کی کرپشن کا پتہ لگانے کے لیے اپنی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اب تک ان پر ملک کو بحران سے نکالنے کا دباؤ تھا لیکن اب وہ ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے 8 سال کے دور میں 2 ارب ڈالرز کا غیرملکی قرضہ بڑھا لیکن آصف زرداری اور نواز شریف کے ادوار میں بیرونی قرضہ 41 ارب سے97 ارب ڈالر ہوگیا جب کہ ان دس سالوں میں ملکی قرضہ چھ ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ انکوائری کمیشن کے ذریعے ان 10 سالوں میں لیے گئے قرضے کی تحقیقات کی جائے گی جس میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن کے ذریعے پتا لگائیں گے، یہ 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ کیسے چڑھا، قوم کو پتا ہونا چاہیے کہ انہوں کے ملک کےساتھ کیا کیا، میری جان بھی چلی جائے ان چوروں کو نہیں چھوڑوں گا، پاکستانی قوم کا مجھ پر اعتماد ہے، ایف بی آر کو ٹھیک کروں گا۔

پاکستان میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اتنے بڑے برج جیل میں ہوں گے

ان کا کہنا ہے کہ جب سے اقتدار ملا ہے تو پہلے دن سے مخالفین کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ بڑے بڑے برج جو آج جیل کے اندر ہیں، یہ تبدیلی ہے، پاکستان میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اتنے بڑے برج جیل میں ہوں گے، یہ ہے قانون کی بالادستی جو آہستہ آہستہ نظر آرہی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیب میرے نیچے نہیں، آج کی عدلیہ آزاد ہے، نیب کا چیئرمین ہمارا لگایا ہوا نہیں بلکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے اپوزیشن نے مجھے پارلیمنٹ میں تقریر نہیں کرنے دی، اپوزیشن پر کیسز میں نے نہیں بنائے، آصف زرداری کے خلاف میگا منی لانڈرنگ کا کیس (ن) لیگ نے بنایا، شہبازشریف کے خلاف بھی کیس ہم نے نہیں بنایا۔

اپوزیشن چاہتی ہے ان کو این آر او دیا جائے

ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے خلاف کیسز پی ٹی آئی نے نہیں بنائے پھر شور کیوں مچاتے ہیں؟ اپوزیشن چاہتی ہے ان کو این آر او دیا جائے، دو این آر اوز کی قیمت ملک نے ادا کی، ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے، میثاق جمہوریت سے دونوں جماعتوں نے طے کیا تھا ایک دوسرے کومدت پوری کرنے دیں گے اور دونوں نے کھل کر کرپشن کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج شور مچ رہا ہے کہ زرداری جیل میں ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی اکٹھی ہوگئی، ن لیگ نے اپنے دور میں آصف زرداری کو جیل میں ڈالا تھا، ان دونوں کی حکومتیں کرپشن کی وجہ سے ختم ہوئیں۔

ایک خاتون پانچ لاکھ ڈالرز باہر لے جاتے ہوئے پکڑی گئی

انہوں نے کہا کہ 2008 کے بعد ملک پر جو قرضہ چڑھا، اس کی وجہ دونوں جماعتوں کی کرپشن ہے، دونوں جماعتوں نے کرپشن کرکے پیسا ہنڈی کے ذریعے باہر بھجوایا، ن لیگ نے 10 سال میں چار کمپنیوں سے تیس کمپنیاں بنائیں، زرداری کی ایک سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ سامنے آئی، ایک خاتون پانچ لاکھ ڈالرز باہر لے جاتے ہوئے پکڑی گئی، وہ 75 مرتبہ باہر جاچکی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے 8 سال کے دور میں 2 ارب ڈالرز کا غیرملکی قرضہ بڑھا لیکن ان دونوں کے ادوار میں بیرونی قرضہ 41 ارب سے97 ارب ڈالر ہوگیا جب کہ ان دس سالوں میں ملکی قرضہ چھ ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے ہوا۔

 ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں ورنہ 30 جون کے بعد بے نامی اثاثے اور اکاؤنٹس ضبط ہوجائیں گے

وزیر اعظم کا خطاب میں کہنا تھا کہ شبرزیدی سے مل کر ایف بی آر کو ٹھیک کروں گا، خودار قوم بننا ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ لوگوں سے پیسے مانگتے پھریں لہٰذا سب کو مل کو ملک کو مشکل وقت سے نکالنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں ورنہ 30 جون کے بعد بے نامی اثاثے اور اکاؤنٹس ضبط ہوجائیں گے، چند مہینے مشکل ہیں اس کے بعد پاکستان اوپر اٹھے گا اور سرمایہ کاری ہوگی۔

نیا پاکستان ریاست مدینہ کے اصولوں کے تحت بنے گا

بجٹ کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے پہلا بجٹ پیش کیا، یہ بجٹ نئے پاکستان کے نظریے کی عکاسی کرےگا اور نیا پاکستان ریاست مدینہ کے اصولوں کے تحت بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست جدید ریاست تھی، مدینےکی ریاست کے اصول مغربی ممالک میں ہیں، مدینے کی ریاست کے اصول برابری کی بنیاد پر بنے تھے، مدینہ کی ریاست کی وجہ سے مسلمانوں نے دنیا کی امامت کی۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے 70 کھرب 22 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا ہے۔

تقریباً 50 فیصد خسارے کے اس بجٹ میں 11 کھرب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں جن سے چینی، کوکنگ آئل، سیگریٹ، گیس اور گاڑیوں سمیت متعدد اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔

وفاقی بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کیلئے 55 کھرب 55 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف رکھا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 25 فیصد یعنی 11 کھرب 20 ارب روپے زیادہ ہے۔

اس سلسلے میں گزشتہ برس کی نسبت بلاواسطہ ٹیکس کی مد میں 3 کھرب 46 ارب روپے اور 7 کھرب 73 ارب روپے بلواسطہ ٹیکس کی مد میں بڑھائے گئے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ 20-2019 کے وفاقی بجٹ میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 4 کھرب 77 ارب روپے کے اضافی سیلز ٹیکس، 3 کھرب 63 ارب روپے کے اضافی انکم ٹیکس، 2 کھرب 65 ارب روپے کی اضافی کسٹمز ڈیوٹیاں اور 99 ارب روپے کی اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیاں عائد کی جائیں گی۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں گھی، خوردنی تیل ، چینی ، دودھ ، خشک دودھ ، کریم مہنگی کر دی گئی، سیمی پراسیس اور پکے ہوئے چکن، مٹن، بیف، مچھلی پر بھی سیلز ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ گاڑیاں ، سیمنٹ ، ماربل، ایل این جی، سی این جی اور سگریٹ بھی مہنگے کر دیے گئے۔

پھلوں کے جوس، سیرپس، اسکوائشز، کولڈ ڈرنکس پر ٹیکس بڑھا نے کی تجویز جبکہ سونا ، چاندی اور ہیروں کی درآمد پر بھی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔

Facebook Comments
Share Button