تازہ ترین

Marquee xml rss feed

یہ تاثر قائم کر دیا گیا ہے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرو یا پھر جیل جاؤ، بلاول بھٹو کا بابر اعوان کی بریت پر ردِ عمل حکومت کا صوبوں کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں ہے، یہ صوبائی ... مزید-اگر سیلز ٹیکس واپس ہی کرنا ہے تو پھر لیتے کیوں ہیں؟ عبدالرزاق داؤد ایک دم صفر سے 17فیصد ٹیکس لگانے سے مسائل پیدا ہوں گے،ہم ہمیشہ ریونیو کے پیچھے گئے صنعتی ترقی کے پیچھے ... مزید-نیب نے بابر اعوان کو معاف نہیں کیا، ہمایوں اختر خان بابر اعوان کی بریت کا فیصلہ احتساب عدالت کا ہے، رہنما پاکستان تحریکِ انصاف-حضرو میں ماں اپنی بیٹی کی عزت بچانے کی کوشش میں جان کی بازی ہار گئی حملہ آور نے بیٹی کی جان بچانے کی کوشش کرنے والی خاتون کو چاقو کے وار کرکے شدید زخمی کیا، بعد ازاں خاتون ... مزید-چند سالوں میں پیٹرول ناقابل یقین حد تک سستا جبکہ اس کا استعمال بھی نہ ہونے کے برابر ہو جائے گا دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اب بجلی سے چلنے والی ہائبرڈ گاڑیاں تیار کر رہی ہیں، ... مزید-وزیراعلی سندھ سے برٹس ٹریڈ کمشنر فار پاکستان، مڈل ایسٹ کی وزیراعلی ہائوس میں ملاقات-گراں فروشی، ملاوٹ اور غیر معیاری اشیاکی فروخت کے خلاف کاروائی جاری رکھی جائے، وزیراعلی-لیبر تنظیموں کا اپوزیشن کی متوقع احتجاجی تحریک سے مکمل لاتعلقی کا اعلان ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کیلئے حکومت اور قومی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں ‘لیبرتنظیمیں اپوزیشن ... مزید-ناقص معاشی پالیسیوں کے ذمہ دار ہم سے 10 ماہ کا حساب مانگ رہے ہیں، جب تک معیشت بہتر نہیں ہو جاتی ہم ان سے ان کے 40 سالوں کا حساب مانگتے رہیں گے‘ ماضی میں ذاتی مفادات کے لئے ... مزید-نیب لاہور نے ہسپتالوں کے مضر صحت فضلہ سے گھریلو اشیاء کی تیاری کے حوالے سے میڈیا رپوٹس کا نوٹس لے لیا متعلقہ اداروں کے حکام بریفنگ کیلئے طلب ‘ ملوث عناصر کے خلاف ٹھوس ... مزید

GB News

گرفتاریوں کا موسم

Share Button

یوں لگتا ہے گرفتاریوں کا موسم شروع ہو چکا ہے نواز شریف کے بعد پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری’حمزہ شہباز’الطاف حسین گرفتار ہو چکے ہیں اور مزید گرفتاریوں کا عندیہ دیا جا رہا ہے جن میں تحریک انصاف کے پرویزخٹک بھی شامل ہیں۔گزشتہ روزقومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو زرداری ہائوس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔تاہم فریال تالپور کا وارنٹ گرفتاری جاری نہ ہونے کے باعث انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکا جبکہ سابق صدر کی گرفتاری کیلئے نیب نے وارنٹ گزشتہ روز جاری کردیا تھا۔نیب کی ٹیم سابق صدر کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ ‘زرداری ہاؤس’ پہنچی جہاں انہیں مزاحمت کا سامنا تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سی ای سی نے سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کو ایک آفر بھی دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام دوست بجٹ لائے ہم خود ان کا ساتھ دیں گے، ہم نے عوام کے لیے ہمیشہ جمہوری راستہ اپنایا ہے۔اگر حکومت عوام دشمن بجٹ لے کر آتی ہے تو آپ میں آپ کو دکھاؤں گا کہ احتجاج کیا ہوتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے رابطہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی مہم کا آغاز کیا جائے اور اس کے لیے تمام رہنماؤں کی اتفاق رائے حاصل کی جائے گی۔ہم جانتے ہیں کہ نیب نے اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں عبوری ریفرنس بھی دائر کر رکھا ہے۔ منی لانڈرنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اْس وقت سامنے آیا جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔ ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے جو اے ون انٹرنیشنل کے نام سے موجود تھا، مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر میں آصف زرداری کا نام شامل نہیں ہے۔آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد بلاول بھٹو کو قومی اسمبلی میں تقریر کی اجازت نہیں مل سکی۔تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش بھی کر دی۔جے آئی ٹی کے بعد ایک بار پھر سپریم کورٹ کے حکم پر نیب نے اس مقدمے کی دو ماہ تک تفتیش کی جس میں آصف زرداری اپنے بیٹے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو سمیت تفیشی افسران کے سامنے پیش ہوئے۔آصف زرداری نے تفتیشی ٹیم کے سامنے موقف اختیار کیا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں شامل نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔اس کے برعکس اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق انکوائریز سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی گئیں اور پانچ انکوائریز اور تین انویسٹی گیشنز میں مبینہ طور پر آصف زرداری کا کردار سامنے آیا ہے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ یہ ساڑھے چار ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے، اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔ اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان اکاؤنٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی۔دو نمبر طریقے سے کمایا گیا پیسہ کالا پیسہ ہوتا ہے۔ ہتھیاروں کی اسمگلنگ، منشیات کی سپلائی اور دیگر سیکڑوں غیر قانونی طریقوں سے کمائے گئے کالے پیسے کو سفید میں بدلنے کا دھندا کہلاتا ہے کہ منی لانڈرنگ، وہ ناجائز پیسہ جس کی کمائی کا طریقہ کہیں ثابت نہ کیا جاسکے، اس رقم کے حصول پر پردہ ڈالنے کا طریقہ یعنی منی لانڈرنگ بھی ایک دھندا ہے پر گندا ہے۔ ایسی دولت قانون کی نظر سے چھپائی جاتی ہے، اسی لیے ٹیکس کے نظام سے بھی اوجھل رہتی ہے۔ فرضی ناموں سے بنائی گئی جعلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری ظاہر کرکے بھی کالے پیسے کو سفید کیا جاتا ہے۔ چندے اور ٹرسٹ کے نام پر رقم کی منتقلی بھی منی لانڈرنگ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ منی لانڈرنگ کے سب سے مقبول طریقوں میں ہنڈی یاحوالے کے ذریعے بھاری رقم کی منتقلی ہے،جس میں بغیر کسی دستاویز کے پیسہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچادیا جاتا ہے،نہ حکومت اور نہ ہی مالیاتی اداروں کو اس ہیر پھیر کا علم ہوتا ہے،یہ پیسہ آگے بھی جرم کی دنیا میں چلایا جاسکتا ہے۔ منی لانڈرنگ کی ہی ایک مثال سپر ماڈل ایان علی کی ہے جو اسلام آباد ائر پورٹ پر پانچ لاکھ ڈالرز بیرون ملک لے جاتی ہوئی گرفتار کرلی گئی تھیں اور تاحال وہ ثابت نہیں کرسکیں کہ یہ رقم کیس ذریعے سے ان کے پاس آئی۔ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد بھلے ہی کافی عرصے تک قانون کی نظروں سے اوجھل رہیں،لیکن جب قانون حرکت میں آتا ہے تو لوگ، حوالے اور ہنڈی کے چکر میں حوالات پہنچ جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے اسمگلر، سیاست داں، مالیاتی ادارے ناجائز طریقے سے کمائے گئے پیسے کو قانونی شکل دینے کے لیے منی لانڈرنگ کا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ قانون کی نظروں سے اوجھل ہونے کی وجہ سے یہ غیرقانونی دولت ٹیکس حکام کی نظروں میں بھی نہیں آتی۔منی لانڈرنگ دو قسم کی ہوتی ہے۔ پہلا طریقہ ٹیکس چوری کا ہے جس میں پہلے سے چلتے ہوئے کاروبار سے ملنے والے منافع کو ٹیکس ادا نہ کرتے ہوئے اسی رقم سے کوئی جائیداد یا چلتا ہوا کاروبار خرید لیا جاتا ہے۔ ایک طرح سے یہ بھی کالے دھن کو سفید کرنے کے مترادف ہے۔ دوسرا طریقہ کرمنل پروسیجر کا ہے،اس قسم کی منی لانڈرنگ میں ملوث فرد کسی غیرقانونی اور مجرمانہ طریقے زمینوں پر قبضے، بینک ڈکیتی، قتل، اغوا برائے تاوان وغیرہ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم سے جائیداد یا کاروبار خرید لے اور پھر اسے دوبارہ فروخت کرکے حاصل کی گئی دولت کو جائیداد کی خریدوفروخت سے حاصل ہونے والی رقم قرار دے۔یہ منی لانڈرنگ کی ایک بدترین شکل ہے۔ ریاست کے نزدیک کرمنل منی لانڈرنگ، منی لانڈرنگ کا سب سے بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے،جبکہ فرضی ناموں سے بنائی گئی جعلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری، فرضی خیراتی اداروں کے نام پر چندے لینا بھی منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔منی لانڈرنگ کا سب سے مقبول اور مستعمل طریقہ ہنڈی یا حوالے کا ہے،اس طریقہ کار میں کسی کاغذی کارروائی کے بغیر بھاری رقوم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیا جاتا ہے۔ مالیاتی اداروں کے علم میں نہ ہونے کی وجہ سے اس رقم پر ٹیکس بھی حاصل نہیں ہوپاتا اور ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچتا ہے۔اس صورتحال پر قابو پانا بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان سے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کیے گئے جس سے ملکی معیشت تباہ ہوگئی اب اسی صورتحال کے تناظر میں گرفتاریاں کی جا رہی ہیں اور توقع کے ان کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔

Facebook Comments
Share Button