تازہ ترین

Marquee xml rss feed

سندھ میں فاروڈ بلا ک بنایا گیا توبدمزگی پیدا ہوگی، ڈاکٹرشاہد مسعود سندھ میں فاروڈ بلاک کوعوام قبول نہیں کریں گے ، کیونکہ وہی 20 کرپٹ لوگ ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ ... مزید-گرمی کی شدت اور ہیٹ ویو کے پیش نظر ضلعی سطح پرہیٹ اسٹروکس/ ویو کیمپس لگائے جائیں۔آئی جی سندھ-عالمی یوم امن پرپاکستان میں قیام امن کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دینے والے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،خرم شیر زمان-شیخ رشید کا بلاول بھٹو کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کا دلچسپ انداز " ہیپی برتھ ڈے مائی لو"۔ شیخ رشید نے صحافیوں کے بھی قہقہے لگوا دئیے-عالمی برادری امن کا آغازمسئلہ کشمیرکے حل سے کرے، بلاول بھٹو عالمی تنازعات کے حل کیلئے سفارتکاری اورمذاکرات پرانحصار بڑھانا ہوگا، دنیا انسانی ذات کے لیے قدرت کی گود ... مزید-میئر کراچی کیلئے نیب کا شکنجہ تیار ،وسیم اختر کو آئندہ ہفتے طلب کئے جانے کا امکان محکمہ بلدیات میں کرپشن اور سرکاری خزانے کی لوٹ مار میں ملوث کے ایم سی کے 75افسران کیخلاف ... مزید-سندھ حکومت کو گرانا آسان کام نہیں ہے، قمر زمان کائرہ آپ سندھ حکومت کو نہیں گرا سکتے، سندھ حکومت کو گرانا آپ کے بس کا روگ نہیں، کرپشن توبہانہ ہے سندھ حکومت نشانہ ہے۔سینئر ... مزید-کیپٹن (ر) صفدر کی عبوری ضمانت میں 12اکتوبرتک توسیع-سعودی عرب امت مسلمہ کا مرکز ہے،وزیر اعظم عمران خان کی سعودی قیادت سے ملاقاتوں کا محور مسئلہ کشمیر رہا، ہندوستان نے کشمیر کے حوالے سے جو حقائق چھپا رکھے ہیں وزیر اعظم ... مزید-ڈاکٹرز مریضوں کے ساتھ شفقت و ہمدردی کا سلوک،معالج کی حیثیت سے علاج کے ساتھ بیماریوں کی روک تھام اور صحت کی نگہداشت پر زیادہ توجہ مرکوز کریں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ... مزید

GB News

مالی سال 20ـ2019 کیلئے 70کھرب 22ارب روپے کا بجٹ پیش ،مزدور کی کم از کم تنخواہ 17 ہزار 500 روپے مقرر، تنخواہوں میں 5سے 10فیصد اضافہ

Share Button

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے مالی سال 20ـ2019 کے لئے بجٹ پیش کردیا،بجٹ کا کل حجم70کھرب 22ارب (7022ارب) روپے ہے جو گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے جس میں خسارے کا تخمینہ 3137 ارب لگایا گیا ہے۔11کھرب کے نئے ٹیکس عائدکئے گئے ہیں۔ بجٹ میں مختلف ڈیویٹوں اور ٹیسکوں میں اضافہ اور ردوبدل کیا گیاہے جس کے نتیجے میں چینی، خوردنی تیل، گھی ،گوشت،گاڑیاں، مشروبات،پنیر، سیمنٹ،سریا، گاڑیاں، فریج ،اے سی،زیورات، سگریٹ، سی این جی ،ایل این جی اور دیگر اشیا مہنگی ہوگئی ہیں چینی کی فی کلو قیمت میں تین روپے اضافہ کیا ہوگا اسی طرح سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ڈیڑھ سے بڑھا کر دو فیصد کی جارہی ہے،جبکہ موبائل فون،ادویات،کاغذ،کھاد،ریسٹورنٹس اور بیکری کی اشیا ،بسکٹ،انٹرنیٹ سروس،آٹو پارٹس ،فرنیچر،فوم ،اسلحہ ،اور دیگر اشیا سستی ہوجائیں گی ،زراعت کے لئے بجلی کی قیمت کم کردی گئی ہے ،ریئل سٹیٹ کے شعبے کے لئے آسانی پیدا کی گئی ہے اور نان فائلرز کو پچاس لاکھ تک کے گھر خریدنے کی اجازت مل گئی ہے ،غریب افراد کے لئے راشن کارڈ سکیم شروع کی جارہی ہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وظیفے میں پانچ سو روپے کا اضافہ کیا جارہا جس کے بعد ماہانہ رقم 5500روپے ہوجائے گی ،مزدور کی کم از کم تنخواہ 17 ہزار 500 روپے مقرر کرد ی گئی ہے تنخواہوں میں 5سے 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے،گریڈ ایک سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافے کی تجویزہے ، جبکہ پینشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے ،ماہانہ 50 ہزار تنخواہ پر ٹیکس کی تجویزہے، وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6 ہزار 717 ارب روپے لگایا گیا ہے ،ترقیاتی بجٹ کے لیے 1800 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،داسو ہائیڈرو منصوبے کیلئے 55 اور مہمند ڈیم کے لیے 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،ایف بی آر کے ریونیو کیلئے 5 ہزار 550 ارب روپے کا چیلنجنگ ہدف مقررکیا گیا ہے ،جی ایس ٹی کی شرح 17 فیصد برقرار رکھی جائے گی،زرعی شعبے کے لیے 12 ،کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45.5 ارب رکھے گئے ہیں،منگل کو قومی اسمبلی میں وزیرمملکت ریونیوحماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگیا ہے، آئی ایم ایف کے بورڈ کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد شروع ہوجائے گا، اس پروگرام میں ہونے کی وجہ سے کم سود پر 2 سے 3 ارب ڈالر کی اضافی امداد بھی میسر ہوگی، مالیاتی نظم و ضبط اور بنیادی اصلاحات کے لیے حکومت کی سنجیدگی نظر آئے گی جس سے عالمی سرمایہ کاروں کاا اعتماد حاصل ہوگا اور معیشت کو استحکام حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ بناتے وقت حکومت کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح اور خوشحالی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 20ـ2019 کے بجٹ کے لیے ہم نے بیرونی خسارے میں کمی کا ہدف رکھا ہے اور درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے سے بیرونی خسارے کو کم کیا جائے گا، جس کا مقصد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 ارب ڈالر سے کم کرکے 6.5 ارب ڈالر تک کیا جائے گا، برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت خام مال اور انٹرمیڈیٹ اشیا کے ڈیوٹی اسٹرکچر کے حوالے سے سپورٹ کرے گی، ٹیکس ریفنڈ کا نظام بہتر بنائے گی، مقابلے کی سستی بجلی اور گیس فراہم کرے گی، آزادانہ تجارتی معاہدوں کو دیکھا جائے گا اور پاکستان کو بین الاقوامی کڑی کا حصہ بنایا جائے گا، ایف بی آر کے ریونیو کے لیے 5 ہزار 550 ارب روپے کا چیلنجنگ ہدف رکھا گیا ہے۔حکومتی اخراجات میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں اس پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ بنیادی خسارہ 0.6 فیصد تک رہ جائے، سول و عسکری حکام نے اپنے اخراجات میں مثالی کمی کا اعلان کیا ہے۔وزیر مملکت نے بتایا کہ بجٹ 20ـ2019 میں ہماری بنیادی اصلاح ٹیکس میں اضافہ ہوگا، پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد سے بھی کم ہے جو خطے میں سب سے کم ہے، صرف 20 لاکھ لوگ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں، جن میں 6 لاکھ ملازمین ہیں، صرف 380 کمپنیاں کْل ٹیکس کا 80 فیصد سے بھی زیادہ ادا کرتی ہیں جبکہ کْل 3 لاکھ 39 ہزار بجلی و گیس کے کنیکشنز ہیں اور اس میں 40 ہزار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں، اسی طرح کْل 31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں، بینکوں کے مجموعی طور پر 5 کروڑ اکاؤنٹ ہیں جس میں 10 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس کے علاوہ ‘ایس ای سی پی’ میں رجسٹرڈ ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف 50 فیصد ٹیکس ادا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس وصولی کم ہے، بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس میں حصہ نہیں ڈالتے، نئے پاکستان میں اس سوچ کو بدلنا ہوگا، جب تک ٹیکس نظام میں بہتری نہیں لائیں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، تاریخی طور پر ہم نے صحت، تعلیم، پینے کے پانی، شہری سہولیات اور لوگوں سے متعلق چیزوں پر مطلوبہ اخراجات نہیں کیے، اب ہم اس مقام پر آگئے ہیں کہ ہمیں قرضوں اور تنخواہوں کی ادائیگیوں کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے، اس صورتحال کو بدلنا ہوگا۔وزیر مملکت نے کہا کہ کمزور طبقوں کے تحفظ کے حوالے سے 4 مختلف تجاویز کا ذکر کروں گا، بجلی کے صارفین میں 75 فیصد ایسے ہیں جو ماہانہ 300 یونٹ سے کم استعمال کر رہے ہیں حکومت انہیں خصوصی تحفظ فراہم کرے گی، اس مقصد کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے غربت کے خاتمے کے لیے ایک علیحدہ وزارت قائم کی ہے جو ملک میں سماجی تحفظ کے پروگرام بنائے گی اور ان پر عملدرآمد کرے گی، احساس پروگرام سے مدد حاصل کرنے والوں میں انتہائی غریب، یتیم، بے گھر، بیوائیں، معذور اور بے روزگار افراد شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ مستحق افراد کو صحت مند خوراک فراہم کرنے کے لیے ایک نئی ‘راشن کارڈ اسکیم’ شروع کی جارہی ہے، جس کے تحت ماؤں اور بچوں کو خصوصی صحت مند خوراک دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ 80 ہزار مستحق افراد کو ہر مہینے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے، 60 لاکھ خواتین کو ان کے اپنے سیونگ اکاؤنٹس میں وظائف کی فراہمی اور موبائل فون تک رسائی دی جائے گی، 500 کفالت مراکز کے ذریعے خواتین اور بچوں کو فری آن لائن کورسز کی سہولت دی جائے گی، معذور افراد کو وہیل چیئر اور سننے کے لیے آلات فراہم کیے جائیں گے۔حماد اظہر نے کہا کہ تعلیم میں پیچھے رہنے والے اضلاع میں والدین کو بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے خصوصی ترغیب دی جائے گی، جبکہ عمر رسیدہ افراد کے لیے احساس گھر بنانے کا پروگرام شروع کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کو فی سہ ماہی 5000 روپے نقد امداد دی جاتی ہے جس کے لیے 110 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، افراط زر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سہ ماہی وظیفے کو بڑھا کر 5500 مقرر کیا گیا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ غریبوں کی نشاندہی کے لیے سماجی اور معاشی ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے جو مئی 2020 تک مکمل ہوگا، اس دوران 3 کروڑ 20 لاکھ گھرانوں اور 20 کروڑ آبادی کا سروے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 50 اضلاع میں ‘بی آئی ایس پی’ سے بچیاں 750 روپے وظیفہ حاصل کرتی ہیں، اس پروگرام کو مزید 100 اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے اور بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 سے بڑھا کر 1000 تک کی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت غریب افراد کو صحت کی انشورنس فراہم کی جاتی ہے، مستحق افراد کو صحت کارڈ فراہم کیے جاتے ہیں جن سے وہ ملک بھر سے منتخب 270 ہسپتالوں سے 7 لاکھ 20 ہزار روپے کا سالانہ علاج کروا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پاکستان کے 42 اضلاع میں 32 لاکھ خاندانوں کو صحت انشورنس کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، اگلے مرحلے میں اسے ڈیڑھ کروڑ پسماندہ خاندانوں تک توسیع دی جائے گی، اس پروگرام کا اطلاق تمام اضلاع بشمول تھرپارکر اور خیبر پختونخوا کے خاندانوں پر ہوگا۔آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں حکومت صحت، تعلیم، غدائیت، پینے کے صاف پانی کے لیے 93 ارب روپے مختص کرے گی، کم آمدن والے افراد کو سستے گھر بنا کر دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اس کے علاوہ موسمی تبدیلی کی تلافی کے لیے بلین ٹری سونامی، کلین اور گرین پاکستان پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کریں گے کہ قیمتوں میں کم سے کم اضافہ کیا جائے لیکن اگر عالمی منڈیوں میں قیمتیں بڑھنے سے ہمیں قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صارفین کو تحفظ دیا جائے، قیمتوں میں استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے، مالیاتی پالیسی اور مانیٹری پالیسی کے ذریعے قیمتوں میں اضافے کا مقابلہ کریں گے جس کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک سے قرض حاصل کیا جاتا ہے اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اب یہ سہولت استعمال نہیں ہوگی، افراط زر کے لیے ہمارا وسط مدتی ہدف 5 سے 7 فیصد ہے، بدعنوانی کے مقابلے کے لیے پرعزم ہیں، اداروں کو خودمختاری دیں گے اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کریں گے، 20ـ2019 معیشت کے استحکام کا سال ہوگا۔حماد اظہر نے کہا کہ اس سال قومی ترقیاتی بجٹ میں 1863 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 950 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں،ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات میں پانی کا نظام، معلومات پر مبنی معیشت کا قیام، بجلی کی ترسیل و تقسیم کو بہتر بنانا، کم لاگت میں بجلی کی پیداوار، سی پیک، انسانی و سماجی ترقی میں سرمایہ کاری اور متعلقہ شعبوں میں پبلک۔ پرائیویٹ پارٹنر شپ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ آبی وسائل کے بہتر استعمال کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام کی توجہ بڑے ڈیموں اور نکاسی آب کے منصوبوں پر مرکوز ہے اس مقصد کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں، دیامر بھاشا ڈیم کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے 20 ارب روپے اور مہمند ڈیم کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سڑک اور ریل سے متعلق کچھ منصوبے سی پیک کا حصہ ہوں گے، اس مقصد کے لیے 200 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جن میں سے 156 ارب روپے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے، حویلیاں ـ تھاکوٹ شاہراہ کے لیے 24 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں، پشاور ـ کراچی موٹر وے کے سکھرـملتان سیکشن کے لیے 19 روپے تجویز کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سوات ایکسپریس وے کو توسیع دی جائے گی، سمبڑیالـکھاریاں موٹروے تعمیر کی جائے گی اور میانوالی سے مظفرگڑھ تک ٹووے کیا جائے گا۔حماد اظہر نے کہا کہ توانائی کے لیے 80 ارب روپے تجویز کیے جارہے ہیں، داسو پن بجلی منصوبے کیلئے 55 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے جارہے ہیں جبکہ صحت، تعلیم، ترقیاتی اہداف کا حصول، موسمیاتی تبدیلی اہم ترجیحات ہیں۔حماد اظہر نے کہا کہ زراعت صوبائی محکمہ ہے تاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اس میں ترقی کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4 ارب روپے سے کوئٹہ ڈیولپمنٹ پیکج کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے، یہ رقم 30 ارب روپے کے پانی اور نکاسی کے منصوبوں سے الگ ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45.5 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔روزگار کے لیے وزیر اعظم کے ’50 لاکھ گھر پروگرام’ سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہوگا اور بے روزگاروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اس کے لیے زمینیں حاصل کرلی گئی ہیں اور سرمایہ کاری کے انتظامات مکمل کیے جارہے ہیں، یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلے گا، پہلے مرحلے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے 25 ہزار اور بلوچستان میں 1 لاکھ 10 ہزار ہاؤسنگ یونٹ کا افتتاح کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ نئے کاروبار کے لیے سستے قرضے کی اسکیم کے تحت 100 ارب روپے دیئے جائیں گے۔صنعتی شعبے کے لیے مراعات اور سبسڈی دی جارہی ہیں جس میں بجلی اور گیس کے لیے 40 ارب کی سبسڈی، برآمدی شعبے کے لیے 40 ارب روپے کا پیکج اور حکومت طویل المدتی ٹریڈ فنانسنگ کی سہولت برقرار رکھے گی۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ رواں سال زرعی شعبے میں 4.4 فیصد کمی ہوئی ہے، اسے واپس اوپر اٹھانے کے لیے صوبائی حکومتوں سے مل کر 280 روپے کا 5 سالہ پروگرام شروع کیا جارہا ہے، اس پروگرام کے تحت پانی سے زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے پانی کا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا اور اس کے تحت 218 ارب روپے کے منصوبوں پر کام ہوگا، گندم، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے 44.8 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کیکڑے اور ٹھنڈے پانی کی ٹراؤٹ مچھلی کی فارمنگ کے منصوبوں کے لیے 9.3 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، گھریلو مویشی کے پالنے کے لیے 5.6 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ زرعی ٹیوب ویلوں پر 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ فراہم کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے کسانوں سے 10 ہزار روپے ماہانہ بل وصول کیا جاتا ہے اور 75 ہزار تک کا اضافی بل صوبائی اور وفاقی حکومتیں برداشت کرتی ہیں، چھوٹے کسانوں کے فصل خراب ہونے کی صورت میں نقصان کی تلافی کے لیے انشورنس اسکیم متعارف کرائی جارہی ہے جس کے لیے 2.5 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں اصلاح کے لیے ایک پروگرام پیش کیا جارہا ہے جس کے تحت رواں سال ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں اور چند چھوٹے بجلی گھروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے 2 ارب روپے حاصل ہوں گے، موبائل فون کے لائسنس سے ایک ارب روپے تک جمع ہونے کی توقع ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ بجلی کا گردشی قرضہ 1.6کھرب روپے، گیس کا گردشی قرضہ 150 ارب روپے ہے، گردشی قرضوں کے لیے بجلی اور گیس کے ٹیرف پر نظرثانی کی گئی، بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف مہم کا آغاز کرکے 80 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں اور حکومتی اقدامات کی وجہ سے گردشی قرضوں میں اضافہ 38 ارب روپے ماہانہ سے سے کم ہوکر 24 ارب رہ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انضمام شدہ قبائلی علاقوں کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 152 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے جس میں 10 سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے جس کے لیے وفاقی حکومت 48 ارب روپے دے گی، یہ 10 سالہ پیکج 1 کھرب روپے کا حصہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہیا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ پاک۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ہماری مستقل ترجیح ہے جس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں نئے شعبے شامل کیے گئے ہیں جن میں اقتصادی ترقی، زراعت اور خصوصی معاشی زونز بنانے کے ذریعے صنعتی ترقی کا حصول شامل ہے، جبکہ ریلوے کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے رقم مختص کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے، اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور معاشی نقصان ہوتا ہے، تجارت پر منحصر منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا نظام تجویز کیا جارہا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی بنانے کی وسیع تر خودمختاری دی جارہی ہے، جبکہ حکومت کو رقوم کمرشل بینکوں میں رکھنے کی ممانعت کردی گئی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین اور پینشنرز کے لیے سول گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس، 17 سے 20 تک کی تنخواہوں میں 5 فیصد اور 21 اور 22 کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر یہ قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی حکومت کے تمام سول اور فوجی پینشرز کی کْل پینشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معذور ملازمین کا اسپیشل کنوینس الاؤنس 1 ہزار سے بڑھا کر 2 ہزار کیا جارہا ہے جبکہ وزرا، وزرائے مملکت، پارلیمانی سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری، جوائنٹ سیکریٹری کے ساتھ کام کرنے والے اسپیشل پرائیوٹ سیکریٹری، پرائیوٹ سیکریٹری اور اسسٹنٹ پرائیوٹ سیکریٹری کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔ 1600 سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی، خام مال کے ضمن میں مستثنیٰ کی جارہی ہے، جس سے تقریباً 20 ارب روپے کا ریونیو کا نقصان ہوگا لیکن صنعتی ترقی کے بدلے میں بہت زیادہ فوائد کی توقع ہے، حکومت کسٹمز ٹیرف کے اصلاحاتی منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کے شعبہ اہم ہے اور حکومت کی پالیسی ہے کہ اس شعبے کو ٹیکسٹائل مشینری کے پارٹس اور ا?لات پر ڈیوٹی سے چھوٹ دے کر معاونت فراہم کی جائے گی، اسی طرح لچکدار دھاگے اور بغیر بنے کپڑے پر ڈیوٹی بھی کم کی جائے گی۔بجٹ تجاویز کے دوران ان کا کہنا تھا کہ غیر روایتی برآمدات میں اضافے کے لیے لکڑی کے فرنیچر اور ریزر کی پیداوار میں استعمال ہونے والی کچھ اشیا پر ڈیوٹی کم کی جاسکتی ہے، مقامی جنگلات کو بچانے اور فرنیچر کنندگان کی حوصلہ افزائی کے لیے لکڑی پر ڈیوٹی 3 فیصد سے کم کرکے صفر فیصد اور لکڑی کے مصنوعی پینلز پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کرنے کی تجویز ہے، اسی طرح ریزر کے برآمد کنندگان کے لیے اسٹیل کی پٹیوں پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گھریلو اشیا کی صنعت، پرنٹنگ پلیٹ کی صنعت، سولر پینلز کے اسمبلرز اور کیمیکل انڈسٹری کے مداخل کی لاگت کو کم کرنے کے لیے ان کے مداخل پر ڈیوٹیز جیسا کہ گھریلو اشیا کے پارٹس/اجزا ایلومینیم کی پلیٹوں، دھاتی سطح والی اشیا اور ایسٹک ایسڈ پر ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے، بڑے پیمانے کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی غرض سے تیل صاف کرنے والے ہائیڈرو کریکر پلانٹس کی تنصیب کے لیے استعمال ہونے والے پلانٹ اور مشینری پر ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لیے ممنوعہ ریگولیٹری ڈیوٹیز کے استعمال درآمدات تو کم ہوئیں لیکن ان میں کچھ اشیا ٹرانزٹ ٹریڈ میں چلی گئیں اور پھر انہیں واپس اسمگل کیا گیا، لہٰذا تجویز ہے کہ ٹائر، وارنش اور خوراک کی صنعت میں خوراک کی تیاری کے حوالے سے ڈیوٹی کے ڈھانچے کو منطقی بنایا جائے تاکہ ان اشیا کو اسمگلنگ میں منتقل ہونے سے بچایا جائے اور ضائع محصولات کو حاصل کیا جائے۔حماد اظہر نے کہا کہ دوائیوں کی قیمتوں میں کمی کی غرض سے ادویات کی پیداوار میں استعمال ہونے والے خام مال کی 19 بنیادی اشیا کو 3 فیصد درآمدی ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لیے برآمدی سہولیات کی مختلف اسکیموں کو سادہ اور خودکار بنایا جارہا ہے تاکہ انسانی عمل دخل کم سے کم ہو اور تیز رفتاری سے کام انجام ہو، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مالی سال 19ـ2018 کے 11 ماہ کے دوران خام مال کی درآمد پر برآمدات کو سہولیات فراہم کرنے کی مختلف اسکیموں کے تحت برآمد کنندگان کو ڈیوٹی کی مد میں 124 ارب روپے کی رعایت دی گئی۔وزیر مملکت نے کہا کہ برآمد کنندگان کے وقت کی بچت کے لیے تجویز ہے کہ ان کی طرف سے فراہم کی جانے والی اشیا اور پیداوار کی شرح کو حتمی تصدیق کی شرح کے ساتھ عارضی طور پر قبول کیا جائے اور ان کے آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے اور بری شہرت کا باعث ہے، نیز اس سے معاشی نقصان بھی ہے، تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے ایک مکمل نیا نظام تجویز دیا جارہا ہے، منی لانڈرنگ اور کرنسی کی اسمگلنگ کے خلاف قانونی اقدامات کے لیے ایک نیا ڈائریکٹوریٹ آف کراس بارڈر کرنسی موومنٹ قائم کیا جارہا ہے۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کے خلاف اقدام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کراچی، پشاور، کوئٹہ میں اس کی روک تھام کے لیے علیحدہ ڈائریکٹوریٹس قائم کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بعض سخت فیصلے کرنے پڑے، اس حقیقت کا احساس کرتے ہوئے کہ درآمدات کے مرحلے پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں کیے جانے والے کسی بھی اضافے کا صارفین کا بوجھ پڑتا ہے، ہم نے درآمدی مرحلے کے حوالے سے محصولات کے ضمن میں کم از کم اقدامات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تجویز کیا جارہا ہیکہ اضافی کسٹم ڈیوٹی کی شرح موجودہ ڈیوٹی سے بالترتیب 2 فیصد سے 4 فیصد، 16 فیصد اور 20 فیصد کے ٹیرف سلیب پر 7 فیصد اضافہ کیا جائے جو بنیادی طور پر لگڑری آئٹمز اور فنشڈ گڈز پر مشتمل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت ایل این جی کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہے چونکہ ایل این جی نے فرنس آئل کی جگہ لے لی ہے جس پر 7 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے اس لیے اب ایل این جی کی درآمد پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔حماد اظہر کا کہنا ہے کہ حکومت نے غریب طبقے کی بڑی اکثریت کے فائدے کے لیے محصولات جمع کرنے کی غرض سے جنرل سیلز ٹیکس کے ریٹ کو 17 فیصد سے آگے بڑھانے کا آپشن اختیار نہیں کیا۔وزیر مملکت نے کہا کہ اس وقت اینٹوں کے بھٹوں سے 17 فیصد کے ریٹ سے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس کے ریٹ کو 17 فیصد سے کم کرکے صلاحیت اور جگہ کے حساب سے طے کیا جائے، یہ دیہی علاقے کی صنعت ہے جہاں دستاویزی تقاضے کو پورا کرنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ کھانے اور دیگر اشیا خورو نوش کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیا جیسا کہ آٹا، گوشت، سبزیاں وغیرہ کو دستاویزی شکل میں لانا مشکل ہے، اس کاروبار سے وابستہ افراد میں ٹیکس چوری کا رجحان بڑھتا ہے، اس لیے ٹیکس حکام کی جانب سے تجویز ہے کہ ریسٹورنٹس اور بیکری میں فراہم کی جانے والی اشیا پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 17 فیصد سے کم کرکے 7.5 فیصد کیا جائے جس میں ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔حماد اظہر نے کہا کہ اس وقت خشک دودھ کے متعدد اقسام کے لیے سیلز ٹیکس کے نرخ یکساں نہیں ہیں، اس لیے ایک جیسی مصنوعات پر ٹیکس کی مختلف شرح عائد ہیں، اس فرق کو ختم کرنے کے لیے تجویز ہے کہ دودھ اور کریم ،خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر یکساں 10 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔وزیر مملکت نے کہا کہ ‘پی ایم سی’ اور ‘پی وی سی’ کی افغانستان برآمدات پر پابندی کے خاتمے کے لیے تجویز ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو زیرو ریٹ پر اشیا برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، اس اقدام سے مندرجہ بالا اشیا کی ملک میں مقامی طور پر پیداوار کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت متعدد اشیا پر معیاری سیلز ٹیکس کے علاوہ 2 فیصد اضافی ٹیکس بھی عائد ہے جیسا کہ بجلی اور گیس کے آلات، فوم، کنفیکشنری، اسلحہ اور ایمونیشن، لبریکنٹس، بیٹریاں، آٹو پارٹس، ٹائرز/ ٹیوبز وغیرہ شامل ہیں۔حماد اظہر نے کہا کہ ٹیکس کی مکمل پوٹینشل کے ساتھ وصولی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تجویز ہے کہ ان اشیا (ماسوائے آٹوپارٹس) کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تیسرے شیڈول( ریٹیل پرائس ٹیکسیشن ) میں منتقل کردیا جائے۔وزیر مملکت نے کہا کہ آٹو پارٹس جو کہ درمیانی نوعیت کی حامل ہیں اور صنعتوں میں استعمال ہوتی ہیں، تجویز ہے کہ ان پر عائد اضافی ٹیکس کو واپس لیا جائے تاکہ مقامی صنعت کی لاگت پیداوار میں کمی آئے۔ان کا کہنا تھا کہ فاٹا اور پاٹا کے انضمام کے بعد سپلائز کے حوالے سے استثنیٰ میں 5 سال کی توسیع دی گئی تھی تاکہ معاشی سرگرمیاں بڑھیں، تجویز ہے کہ صنعتی خام مال اور پلانٹ و مشینری کی درآمد پر بھی ٹیکس استثنیٰ کو ان علاقوں میں وسعت دی جائے۔حماد اظہر نے کہا کہ ان علاقوں میں تمام گھریلو، کاروباری صارفین اور 31 مئی 2018 سے پہلے قائم ہونے والی صنعتوں کو بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کے لیے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے، اس استثنیٰ کا اطلاق ان علاقوں میں واقع اسٹیل ملوں اور گھی کی ملوں پر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کاروباری درآمدات پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے ٹیکس کے بوجھ میں غیر ضروری طور پر اضافہ ہوگیا ہے، اس لیے تجویز ہے کہ موبائل فونز کی درآمد پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس ختم کردیا جائے، اس سے موبائل فونز کی درآمد پر عائد ٹیکس میں کمی آئے گی۔وزیر مملکت نے کہا کہ اس وقت ویلیو ایڈیشن ٹیکس سے استثنیٰ او ایم سیز کی طرف سے درآمد کی جانے والی صرف ان اشیا پر موجود ہے جن کی قیمتیں ریگولیٹ کی جاتی ہیں، تجویز ہے کہ او ایم سیز کی طرف سے درآمد کی جانے والی تمام پیٹرولیم مصنوعات جیسے فرنس آئل پر بھی استثنیٰ دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے سیلز ٹیکس قانون میں کئی سطحوں پر مشتمل ٹیکسیشن اور اس کے تحت قانون سازی کی شمولیت سے یہ ایک پیچیدہ شکل اختیار کرچکا ہے، اس کے بغور مطالعے کے بعد اسپیشل پروسیجر رولز کو ختم کرکے سیلز ٹیکس ایکٹ کا حصہ بنایا جارہا ہے، اسی طرح سے چند بے حد ضروری ایس آر اوز کو چھوڑ کر تمام ایس آر اوز اور ایس ٹی جی اوز کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس آر او 1125 ون کے ذریعے 5 پانچ برآمدی شعبوں یعنی ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹس، کھیلوں کے سامان اور سرجیکل سامان کی پیداوار اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیا پر سیلز ٹیکس کو صفر کیا گیا تھا، جس کا مقصد ریفنڈ کی ادائیگی میں تاخیر کا خاتمہ کرنا تھا۔وزیر مملکت نے کہا کہ زیرو ریٹنگ کی وجہ سے ملکی پیداوار اور صنعت کا ایک بڑا حصہ ہونے کے باوجود ان اشیا کی ملکی فروخت میں ٹیکس کی مقدار صرف 6 ارب روپے ہے جو کہ 1200 ارب روپے کی پیداوار کا ایک فیصد بھی نہیں، تیار شدہ اشیا پر کم شرحوں سے بھی محصولات کو نقصان پہنچ رہا ہے، ان نقائص کو دور کرنے اور محصولات کی مد میں ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔حماد اظہر نے کہا کہ اس حوالے سے تجاویز ہیں کہ ایس آر او 1125 کو منسوخ کردیا جائے، اس طرح 17 فیصد معیاری شرح کو بحال کردیا جائے، ٹیکسٹائل اور چمڑے کی تیار شدہ اشیا اور تیار شدہ کپڑے کی مقامی سپلائز پر سیلز ٹیکس کو 17 فیصد تک بڑھا دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تاہم ایسے پرچون فروش جو رئیل ٹائم میں اکاؤنٹنگ کا انتخاب کریں گے انہیں ریٹ میں رعایت دی جاسکتی ہے جو 15 فیصد تک ہوسکتی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ یوٹیلیٹیز کی مد میں زیرو ریٹنگ کا خاتمہ کیا جائے اور ان شعبوں میں سیلز ٹیکس کے ری فنڈ کو خود کار بنایا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ادا کیا گیا سیلز ٹیکس فوری طور پر ری فنڈ نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ری فنڈ پیمنٹ آرڈر ( آر پی او) کو فوری طور پر ادائیگی کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھیجا جائے گا، جہاں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ برآمدات کی رقم کی وصولی کے ساتھ ہی اس ری فنڈ کو ادا کردیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ روئی کو اس وقت سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، تجویز ہے کہ اس پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔وزیر مملکت نے کہا کہ اس وقت اسٹیل کے شعبے سے سیلز ٹیکس بجلی کے بلوں پر 13 روپے فی کلو واٹ ہار کے حساب سے اکٹھا کیا جارہا ہے، بلٹ کے لیے استعمال ہونے والے اسکریپ پر 5600 فی میٹرک ٹن کے حساب سے سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو ایڈجسٹیبل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شپ بریکرز کے لیے درآمد کیے جانے والے جہاز سیلز ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں، تاہم جہاز توڑ کر حاصل کی جانے والی شپ پلیٹس پر 9600 فی میٹرک ٹن کے حساب سے ٹیکس نافذ ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں قائم اسٹیل انڈسٹری سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے اور دیگر علاقوں کے اسٹیل یونٹس ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔وزیر مملکت نے کہا کہ ان پیچیدہ قوانین سے چھٹکارا پانے اور اس شعبے سے پوٹینشل ریونیو حاصل کرنے کے لیے تجویز ہے کہ اسپیشل پروسیجر کا خاتمہ کیا جائے اور ان اشیا کو نارمل ٹیکس قانون کے تحت لایا جائے، بیلٹ، راڈز، شپ پلیٹس اور دیگر ایسی اشیا پر سیلز ٹیکس کی صورت میں 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے، ان اشیا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے سے فروخت پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جارہا ہے اور بجلی کے استعمال کی بنیاد پر پیداوار کے حوالے سے کم سے کم معیارات کا تعین کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اوگر کی جانب سے سی این جی کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کے بعد سے سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اس تناسب سے ٹیکس کی شرحوں کوریشنالائز نہیں کیا گیا اس لیے تجویز ہے کہ سی این جی ڈیلرز کے لیے ویلیو ریجن ون کے لیے 64.80 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 74.04 روپے فی کلوگرام اور ریجن ٹو کے لیے 57.69 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 69.57 روپے فی کلوگرام کردیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ واضح رہے کہ اس اقدام سے سی این جی کی قیمت میں بہت معمولی اضافہ ہوگا کیونکہ سی این جی کی مارکیٹ قیمت اس رقم سے کہیں زیادہ ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے لیے ریٹیلرز کو مختلف سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، سطح نمبر ایک کے ریٹیلرز کو 17 فیصد یا ٹرن اوور کا 2 فیصد، سطح نمبر 2 کے ذریعے ٹیکس کا نفاذ، تجویز ہے کہ ٹرن اوور ٹیکس کا خاتمہ کردیا جائے حماد اظہر نے کہا کہ سطح نمبر ون کے ریٹیلرز کو ایف بی آر کے آن لائن سسٹم سے منسلک کردیا جائے گا، نظام سے منسلک دکانوں سے اشیا کی خریداری اور انوائسز طلب کرنے پر 5 فیصد تک سیلز ٹیکس کی واپسی کی صورت میں فائدہ دیا جائے گا، ایسی دکان جس کا سائز 1000 مربع فٹ یا اس سے زائد ہوگا اسے بھی سطح ون کے ریٹیلرز میں شامل کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت چینی پر 8 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، اس شعبے میں وسیع معاشی مواقع موجود ہیں لیکن یہاں سے جمع ہونے والا ٹیکس صرف 18 ارب روپے ہے جو کہ اس کی حقیقی پیداوار سے بہت کم ہے، ٹیکس میں خلا کو کم کرنے اور اس کے ریٹ کو دیگر اشیا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تجویز ہے کہ چینی پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصد کیا جائے۔وزیر مملکت نے کہا کہ ریٹ میں اس اضافے کے اثر سے صارفین کو جزوی طور پر بچانے کے لیے تجویز ہے کہ چینی کو ان اشیا سے نکال دیا جائے جن کو غیر رجسٹرڈ افراد کو فروخت سے اضافی 3 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، اس اقدام سے چینی کی قیمت میں صرف 3.65 روپے فی کلو اضافہ ہوگا۔چکن مٹن اور بیف کی اشیا کی کھپت میں اضافہ دیکھا گیا، اس پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔کاٹیج انڈسٹری کو حاصل استثنیٰ کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہورہا ہے جس کی دوبارہ تشریح کی تجویز ہے، یکم جولائی 2019 سے کاٹیج انڈسٹری سے مراد وہ صنعت ہوگی جو رہائشی علاقوں میں قائم ہو، جہاں زیادہ سے زیادہ مزدور کام کرتے ہوں اور سالانہ ٹرن اوور 20 لاکھ روپے سے زائد نہ ہو۔سونے چاندی، ہیرے اور زیورات کی بنائی پر سیلز ٹیکس پر کم شرح سے ٹیکس نافذ کیے جانے کی تجویز ہے۔سنگ مرمر کی صنعت میں فروخت پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.25 روپے فی یونٹ ہے اور تجویز ہے کہ اس شعبے پر بھی 17 فیصد فی یونٹ کی شرح نافذ کی جائے۔آئی سی ٹی قانون میں شامل ہونے والی دفعات، تجویز ہے کہ ایسی خدمات جو صوبائی قوانین میں قابل ادا ئیگی ٹیکس ہیں اور وہ آئی سی ٹی قوانین میں شامل نہیں انہیں بھی آئی سی ٹی قوانین میں شامل کیا جائے۔ایسی خدمات جن پر پہلی ہی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ ہے انہیں آئی سی ٹی قانون میں شامل نہیں کیا جائے گا تاکہ دہرے ٹیکس سے بچا جاسکے۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کاروبار میں آسانی کے لیے اقدامات، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 58 سے ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ کمپنی کے لیے ادا شدہ ٹیکس کمپنی سے وصول کرسکے، سیلز ٹیکس کے پروسیجر کو آسان بنایا جارہا اور نادرا کے ای سروسز سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن ممکن بنائی جاسکے۔ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لیے ڈی رجسٹریشن کے حوالے سے قواعد میں ترمیم کی جارہی ہے، اس پروسس کے دوران گوشوارے فائل کرنا ضروری نہیں اور اس کے احکامات پر درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے۔

Facebook Comments
Share Button