تازہ ترین

GB News

پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی سے بھارت کا چند گھنٹے بعد ہی یوٹرن

Share Button

پاکستان کے ساتھ مذاکرات پرآمادگی سے بھارت چندگھنٹوں میں ہی پیچھے ہٹ گیا۔بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اور وزیر خارجہ جے شنکر نے وزیر اعظم عمران خان اورشاہ محمود کے تہنیتی خط کے جواب میں خطوط بھجوائے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت امن اور ترقی کے لئے پاکستان سمیت تمام ممالک سے جامع مذاکرات کے لئے تیار ہے۔ بھارت کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندرا مودی اور جے شنکر کو الگ الگ خط لکھے تھے۔وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو دوبارہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ خطے میں ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان امن و استحکام سے خطے میں ترقی آسکتی ہے۔جواب میںنریندرا مودی اور جے شنکر کی جانب سے بھجوائے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت خطے کے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کا خواہاں ہے، بھارت نے ہمیشہ عوام کی ترقی اور امن کو ترجیح دی ہے، امن اور ترقی کے لئے بھارت پاکستان سمیت تمام ممالک سے جامع مذاکرات کے لئے تیار ہے، مذاکرات میں دہشت گردی کے معاملے پرخصوصی توجہ ہونی چاہیے۔بھارتی وزیراعظم کے خط کی خبرجب پاکستانی میڈیا میں آئی تو اس کے چندگھنٹے بعدبھارتی وزارت خارجہ نے مذاکرات پرآمادگی کی تردیدکردی۔بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اس سلسلے میں کیے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مروجہ سفارتی روایت کے تحت وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پاکستانی ہم منصبوں کی جانب سے موصول ہونے والے تہنیتی پیغامات کا جواب دیا۔ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے جوابی خط میں لکھا کہ دہشت، تشدد اور عداوت سے پاک اعتماد کی فضا قائم کرنا نہایت ضروری ہے اور وزیر خارجہ نے بھی تشدد اور دہشت کے سایے سے محفوظ ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔اس پر ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ان خطوط میں مذاکرات کے حوالے سے کوئی بات کی تو ترجمان دفتر خارجہ نے تردید کرتے ہوئے کہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔

Facebook Comments
Share Button