تازہ ترین

Marquee xml rss feed

ضروری مرمت 26 سے 30 اکتوبر تک روزان� بجلی کی �را�می معطل ر�ے گی،کیسکو-احتساب عدالت نے جعلی �ائوسنگ سوسائٹی کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے ملزم کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی ملزم 10 سال کے لئے سرکاری ع�دے اور مراعات کیلئے نا ا�ل قرار، ... مزید-بادشا�ی مسجد کی بحالی و تزئین نو کا �یصل�،وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جامع پلان جلد تیار کرنے کی �دایت، کمیٹی تشکیل اوقا� کی اراضی واگزار کرانے کیلئے آپریشن اورداتا دربار ... مزید-وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی محمد نواز شری� کو علاج معالجے کی ب�ترین س�ولتیں �را�م کرنے کی �دایت-وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیرصدارت پنجاب کابین� کا اجلاس، پنجاب ای سٹیمپ رولز 2016 میں ترامیم کی منظوری کسی کو عوام کے معمولات زندگی میں خلل ڈالنے کی �رگز اجازت ن�یں دی ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے و�اقی وزیر قانون بیرسٹر �روغ نسیم کی ملاقات عمومی صورتحال اور وکلاء کی �لاح و ب�بود کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر تبادل� خیال-ناردرن نے بلوچستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر پ�لی پوزیشن حاصل کرلی-’’وائس آ� الحمرا ‘‘ کا �ائنل آج منعقد �وگا،ملک میں گائیکی کا مستقبل شاندار �ے،اط�ر علی خان-صدرمملکت ڈاکٹر عار� علوی کی ش�نشا� جاپان نارو �یٹوکی تاج پوشی کی تقریب میں شرکت صدر مملکت اور خاتون اول نے ش�نشا� جاپان کو مبارک باد اورش�نشا� جاپان کی طر� سے دیئے گئے ... مزید-حکو مت صوبے میں کاروباری ا�راد کی حوصل� ا�زائی ،سرمای� کاری کے �روغ کیلئے مختل� اقدامات اٹھا ر�ی �ے،اکبر ایوب خان وزیر مواصلات کے پی کے

GB News

احساس پروگرام اور غربت کا تدارک

Share Button

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت لاکھوں افراد کو غربت سے نکالیں گے۔پروگرام کے تحت محروم طبقے کو وسائل اور تربیت فراہم کی جائے گی’رواں سال کئی اقدامات کریں گے۔ پروگرام میںنوجوان خواتین کیلئے الگ کوٹہ مختص کیاجائے گا۔خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے اپنا مستقل سنوارنے اور روزگار کمانے کے طریقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔دوسرے شہریوں کی طرح خواتین کو بھی پاکستان کے شہری کے طورپر اپنے حقوق کے حصول کیلئے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ پروگرام کے تحت مخصوص اقلیتوں کے نوجوانوں کو ہنرمندی،فنی،پیشہ وارانہ اورڈیجیٹل مہارت،کاروبار اور دیگر پروگراموں کی تربیت فراہم کی جائے گی۔حکومت نے نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کے تحت ہر ماہ 80 ہزار افراد میں بلا سود قرضے تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔قرضوں کی ادائیگی کا سلسلہ رواں ماہ سے شروع ہوچکا ہے۔بلاسود قرضے 22 لاکھ 81 ہزار افراد کو فراہم کیے جائیں گے جبکہ ان قرضوں سے مجموعی طور پر ایک کروڑ 47 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق احساس پروگرام کے تحت ہرماہ نیا منصوبہ متعارف کرایا جائے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر بینظر انکم سپورٹ پروگرام بی آئی ایس پی کی چیئرمین بھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سماجی اقتصادی سروے جاری ہے اور مکمل ہونے کے بعد ہی غربت کی شرح کا تخمینہ لگایا جا سکے گا۔حکومت کی پہلی ترجیح سماجی تحفظ ہے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے یقین دلایا کہ غربت کے خاتمے کے پروگرام پرمکمل شفافیت کے ساتھ عملدرآمد کیاجائے گا۔خیال رہے کہ احساس پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 42 ارب 65 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سے وفاقی حکومت اپنے وسائل سے پانچ ارب روپے فراہم کرے گی جبکہ انٹرنیشنل فنڈ فار ایگری کلچر ڈیولپمنٹ آئی ایف اے ڈی 13 ارب روپے اور ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک 23 ارب 35 کروڑ دے گا۔آئی ایف اے ڈی نے ستمبر 2017 میں نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کی منظوری دی تھی جس پر مکمل عملدرآمد 2023 تک ممکن ہو سکے گا۔موجودہ حکومت کو معاشرے کے محروم طبقوں کا خیال ہے اوراس نے بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہیں بھی قائم کی ہیں۔ اداروں میں اچھے نظم و نسق کے لیے تجاویز پر مبنی 30 نکاتی مسودہ تیار ہے اور اسے جلد میڈیا کے سامنے لایا جائے گا۔اس ضمن میںاقوام متحدہ کو رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو احساس پروگرام کے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ غربت ختم کرنے کے پروگرام کے تحت مزید افراد کو بلا سود قرضہ فراہم کیا جائے گا جبکہ ووکیشنل اور اسکل ٹریننگ بھی دی جائے گی۔درحقیقت احساس پروگرام ان افراد کیلئے شروع کیا گیا ہے، جو بیروزگار اور مستحق ہیں، ان افراد کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ کم آمدنی والوں کو معاشی ترقی کا حصہ بنایا جائے گا۔اس پروگرام کے تین بنیادی نکات ہیں جن میں بلاسود قرضے،ووکیشنل اور اسکلز ٹریننگ اور جائیداد کی منتقلی شامل ہے۔ اس پروگرام کے تین اہم حصے بھی ہیں جن میں ذرائع کا بہترین استعمال، شراکت داری کے ذریعے مدد کی فراہمی اور حکومتی سرپرستی میں تعاون شامل ہے۔اس پروگرام کے تحت 42.65 ارب روپے کے فنڈز جمع کئے گئے ہیں۔ ایشیئن ڈولپمنٹ بینک، انٹرنینشل فنڈ فار ایگری کلچر، وفاقی حکومت وپنجاب حکومت نے اپنے بجٹ میں اس پروگرام کی لیے رقم مختص کی ہے۔نشاندہی کرکے اس پروگرام کومزید کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں غربت کم کرنے کیلئے بنائے گئے فنڈ سے احساس پروگرام شروع کیا جائے گا۔ بائیس دیگر این جی اوز کی مدد سے بلا سود قرضوں کی فراہمی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے اخوت تنظیم مائیکرو فنانسنگ کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم ہے جو بلا سود قرضے دینے میں مہارت رکھتی ہے۔اس مقصد کے تحت اگلے چار سال تک ہر ماہ 80 ہزار بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ قرض کی لاگت 20 ہزار سے 75 ہزار روپے کے درمیان ہوگی۔ اس پروگرام سے ساڑھے 14 لاکھ افراد فیضیاب ہونگے۔یہ پروگرام شفاف،احتسابی عمل اور بھرپور نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت عوامی ذرائع کا مناسب استعمال ہوگا۔ اس پروگرام میں ایسے لوگوں کو فوقیت دی جائے گی جو حقیقتا مستحق ہونگے۔یہ درست ہے کہ بہت سے لوگوں کی زندگی میں چھوٹے قرضوں سے انقلاب آسکتا ہے اور مقصد کے لئے بے روزگارافراد کیلئے پروگرام لایا گیا ہے، جس کے تحت حکومت ہر ماہ لوگوں کو بلاسود قرضے فراہم کرے گی۔اس سے لاکھوں افراد ہنر کی تعلیم سے مستفید ہونگے، جبکہ غربت کے خاتمے کے پروگرام میں این جی اوز کو بھی شامل کیا گیا ہے، پروگرام کے تحت مستحق افراد کو قرضے ملیں گے، عوام کی فلاح و بہبود کیلئے شروع کیے گئے پروگرامز کے جلد عام آدمی کی زندگی پر مثبت اثرات نظر آئیں گے، لوگوں کو معاشی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے گا۔عوام کی ترقی اور فلاح کیلئے تین ارب روپے کے بلا سود قرضے دیئے گئے۔ اس پروگرام کی بنیاد ایسے لوگوں کیلئے رکھی گئی ہے جن کے پاس نوکریاں نہیں،پروگرام شروع کرنے کا بنیادی مقصد عام آدمی کی معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے احساس پروگرام کا سب سے نمایاں پہلو آئین کے آرٹیکل ڈی38 میں تبدیلی لانا ہے۔یہ ایک پالیسی ہے جس میں تبدیلی لا کر اسے بنیادی انسانی حقوق کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ جس سے عوام کو خوراک اور رہائش کی بنیادی سہولیات مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہو گا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں حکومت کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔وزیراعظم احساس پروگرام کے تحت خواتین کو بھی ہنر مند بنانے کی سعی کی جا رہی ہے اس مقصد کے لیے ساٹھ سے زائد غریب، بیوہ اور نادار خواتین میں چھوٹے قرضوں کی صورت میں این آر ایس پی آفس میں چیک تقسیم کئے گئے۔احساس پروگرام کے تحت ملنے والے 25 سے 40 ہزار روپے تک کے قرضوں سے خواتین چھوٹے پیمانے پر گھروں میں، ٹیلرنگ، بیوٹی پارلر سمیت چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرسکیں گی، جس سے انہیں معاشی مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم احساس پروگرام کے ذریعے ملنے والی رقم سے وہ بھی باعزت روزگار کماسکیں گی۔احساس پروگرام کے ذریعے ملنے والے قرضوں کی فراہمی بلاسود ہے، جو ایک سال کے دوران بارہ اقساط میں واپسی کرنا ہوگا، خواتین بینک سے قرضہ بھی حاصل کرسکیں گی اور واپسی کی قسطیں بھی بینک کے ذریعے ادا ہوں گی۔چھوٹے پیمانے پر قرضوں کی فراہمی سے خواتین ناصرف خود کفیل ہوسکیں گی بلکہ مردوں کے شانہ بشانہ گھریلو اخراجات میں ہاتھ بھی بٹا سکیں گی۔ بلاسود قرضوں کا اجراء ایسا اقدام ہے جس کی افادیت سے انکار نہیں لیکن سرکاری امور میں اتنی پیچیدگیاں مشکلات اور تاخیرہر روز کا تجربہ ہے جس کی مثال ایک دریا عبور کرنے جیسی ہے۔ بلا سود قرضوں کی فراہمی احسن اقدام ہے ہمارے تئیں حکومت ناتجربہ کار ہاتھوں میں رقم دینے کی بجائے قرض لینے والے نوجوانوں کو اس رقم کے درست استعمال اور کاروبار میں لگانے کی تربیت اور رہنمائی کا بھی اہتمام کرے اور نوجوانوں کوقرضدار بنا کر قرضوں کی واپسی کے قابل نہ رہنے کے امکان کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ قرضے کی رقم کی واپسی اور اس سے فائدہ اٹھانا اپنی جگہ ایک مشکل کام رہا ہے اور ماضی میں اس قسم کی سکیمیں لاحاصل رہی ہیں جس کے اعادے کو روکنے کیلئے اقدامات پر توجہ دی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ نوجوان قرض کی رقم سے فائدہ اٹھائیں اور یہ رقم ضائع نہ ہو۔

Facebook Comments
Share Button