تازہ ترین

Marquee xml rss feed

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات دونوں رہنماوں کے درمیان ملاقات امریکی صدارتی محل وائٹ ہاوس میں ہوئی، پرجوش انداز میں ایک دوسرے ساے مصافحہ بھی ... مزید-وزیراعظم کی جانب سے امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے بعد کشمیر میں بھی عمران خان کے چرچے عمران خان پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی، علی گیلانی-وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو دورہ پاکستان کی باقاعدہ دعوت دے دی ڈونلڈ ٹرمپ نے بنا کسی اعتراض کے دورہ پاکستان کی دعوت فوری قبول کر لی، دورے سے متعلق معاملات بعد ... مزید-امریکہ صدر امریکہ سے زیادہ پاکستانی رپورٹرز کو پسند کرنے لگے میں یہاں کچھ پاکستانی رپورٹرز کی موجودگی چاہتا تھا مجھے وہ اپنے ملک کے رپورٹرز سے زیادہ پسند ہیں، امریکی ... مزید-افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے پاس وہ پاور ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے، پاکستان ماضی میں ... مزید-امریکی صدر نے وزیراعظم عمران خان کیلئے الیکشن مہم چلانے کی خواہش کا اظہار کردیا ہم دونوں اپنے ملکوں کی نئی قیادت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں، عمران خان کے پاس وقت ہے ... مزید-بھارت نے امریکہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالث بننے کی درخواست دینے کی تردید کر دی وزیراعظم نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کبھی ثالث بننے کی درخواست ... مزید-امریکی صدر سے ملاقات کے بعد عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق وزیراعظم کا بڑا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر بھی بات ہوگی: عمران خان ... مزید-اے ایس ایف کی پیشہ وارانہ کارکردگی اور سرگرمیاں قابل تعریف ہیں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کی نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے دورہ کے موقع پر گفتگو-ہر گزرتے دن کے ساتھ وکلاء کی عزت کم ہو رہی ہے، وکلاء پیسہ کمانے کی طرف جانے کی بجائے لوگوں کی خدمت کریں پیسہ خود ان کے پیچھے آئے گا، اگرایک وکیل اور جج ایک دوسرے کو ماریں ... مزید

GB News

قیام امن کیلئے کلیدی کردار کا موقع

Share Button

وائٹ ہاؤس نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکا کی تصدیق کر دی ہے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 جولائی کو وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کریں گے۔بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے، جبکہ ان کے دورے سے امن، اقتصادی ترقی، خطے کے استحکام کے لیے مل کر کام کرنے میں مدد ملے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان انسداد دہشت گردی، دفاع، توانائی اور تجارت سمیت کئی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا یہ امریکا کا پہلا دورہ ہوگا۔اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ عمران خان کے دورہ امریکا سے متعلق وائٹ ہاؤس کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔بعد ازاں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے جواب کے بعد میڈیا میں آنے والی رپورٹس پر ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک ٹوئٹ کی۔ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم کے دورے سے متعلق قیاس آرائیوں سے اجتناب کیا جائے گا، ہم امریکی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں اور روایتی طور پر باضابطہ اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔چار جولائی کو ترجمان دفتر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 22 جولائی کو ملاقات کی تصدیق کی تھی۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان 21 جولائی کو امریکا کا تین روزہ دورہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم اس دورے میںامریکی صدر سے 45منٹ کی ملاقات بھی کریں گے۔ وزیر اعظم کے دورے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ جس میں امریکی حکام سے مصروفیت کا شیڈول طے کیا جارہا ہے۔ 22جولائی کو ٹرمپ سے عمران خان کی ون ٹو ملاقات ہوگی۔صدر ٹرمپ وزیراعظم عمران خان سے افغان طالبان کو حتمی مذاکرات کے لئے رضامند کرنے کی درخواست کریں گے۔وزیر اعظم کے دورے سے قبل چھ جولائی کو قطر و جرمنی کے تعاون سے دوحہ میں انٹرا افغان ڈائیلاگ کے حوالے سے امریکی صدر کے خصوصی معاون برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کی جانب سے ٹوئٹ کی جانے والی خبر کی افغان طالبان نے تردید نہیں کی ہے۔ اس سے فی الوقت یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کے حوالے سے جرمنی فارمیٹ کا یہ اہم دورہ ماسکو کے بعد دوحہ قطر میں افغانستان میں امن کی راہ متعین کرنے میں معاون ہوگا۔ ماسکو میں جرمنی فارمیٹ کے تحت افغانستان کی سیاسی و اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ دو مذاکرات ہوچکے ہیں اور بعد ازاں طے پایا تھا کہ ملاقات کا اگلا دور دوحہ میں ہوگا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل افغان طالبان اور افغانستان کے اہم سیاسی لیڈروں و اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ دوحہ قطر میں اہم مذاکراتی دور ہونا تھا لیکن کابل انتظامیہ نے 250افراد کی ایک فہرست مرتب کردی۔جس پر افغان طالبان نے اعتراض کیا کہ کابل انتظامیہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے ناقابل قبول عمل اختیار کررہی ہے۔ یہ مذاکرات ہیں کوئی شادی کی تقریب نہیں ہے۔ماسکو میں منعقدہ ہونیوالی کانفرنس فیصلہ ہوا تھا کہ دوسری کانفرنس کا انعقاد قطر میں ہوگا۔افغان طالبان آج تک اپنے مؤقف اور وعدے پر قائم ہے،کہ ایسی کانفرنس منعقد کی جائے، بلکہ افغان طالبان نے قطر کانفرنس میں ماسکو کانفرنس کی نسبت کئی گنا زیادہ مرد اور خواتین ہموطنوں کی شرکت سے اتفاق کیا۔کانفرنس کے شرکاء افغان تنازع کے حل کے متعلق اپنی ذاتی رائے بیان کرے گی، مگر کابل انتظامیہ کے حکام نے کوشش کی کہ اس کانفرنس کو کابل انتظامیہ اور امارت اسلامیہ کے درمیان مذاکراتی اجلاس بنا دے،جس نے کانفرنس کی پالیسی سے موافقت نہیں کی جس کے بعد انٹرا افغان کانفرنس کا اہم سیاسی دور تعطل کا شکار ہوگیا۔ اسی طرح پاکستان میں امریکی ایما پر ایک مذاکراتی عمل کرانے کی کوشش کی گئی لیکن کابل انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں افغان طالبان پر سفری پابندیوں کو جواز بنا کر افغان طالبان کو پاکستان آنے سے روک دیا۔ ایک دوسری کوشش امیر قطر کی پاکستان کے دورے کے سامنے بھی آئی لیکن گلبدین حکمت یار کے ساتھ جو وفود آیا تھا اس میں خلاف توقع اہم شخصیات نے شرکت نہیں کی۔ خاص طور پر سابق صدر حامد کرزئی سمیت کئی افغان شخصیات شامل تھی جنہوں نے کچھ ایسی شرائط رکھیں جو پہلی بھوربن کانفرنس میں ممکن نہیں تھی۔ وگرنہ ممکن تھا کہ صدارتی عشائیہ میں امیر قطر سے غیر رسمی ملاقات کا اہتمام ممکن بنایا جاسکتا۔ لیکن یہاں بھی فروعی مفادات نے پاکستان کی کوششوں کو سبوتاژ کیا۔ واضح طور پر نظر آرہا تھا کہ سعودی ولی عہد اور امیر قطر کی آمد کے موقع پر افغان طالبان اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی پاکستان میں بیک وقت مدعو کرنا اتفاقی نہیں تھا۔ چھ اورسات جولائی کو دوحہ قطر میں انٹرا افغان کانفرنس کا اہم دور منعقد ہورہا ہے اور اس بات کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کا حتمی مرحلہ طے ہوجائے گا۔ گو کہ ذرائع کے مطابق اپریل2019 میں ایک غیر حتمی معاہدہ طے پا چکا ہے لیکن اس وقت امریکا کو افغانستان سے انخلا کے بعد افغان طالبان سے ضمانت درکار ہے۔ قطر میں افغان طالبان کے تمام مذاکراتی عمل بذات خود اس بات کی ضمانت ہیں کہ وہ افغان طالبان کی ضمانت دینے میں سر فہرست ہے لیکن امریکا کے نزدیک پاکستان کی ضمانت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان باقاعدہ مذاکراتی دور میں پاکستان کا اہم کردار واضح ہے کہ پاکستان واحد مملکت ہے جس پر امریکا کچھ شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ اس وقت پاکستا ن واحد ایسی مملکت کی صورت میں سامنے آیا ہے جو افغان طالبان کو بہتر سیکیورٹی معاہدے کے لئے کسی حد تک راضی کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ پاکستان واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے لئے اب کوئی فیورٹ نہیں ہے نیز پاکستان نے افغانستان میں بھارتی کردار کے حوالے سے بھی نرمی پیدا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جس کے بعد افغان طالبان کے لئے سوچ و بچار کا مقام ہے کہ ماضی کے اتحادیوں کی ناراضگی کے بعد پاکستان سے بھی درخور اعتنا اختیار کرنا ان کے لئے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ایران ، افغان طالبان کی عسکری مدد ضرور کررہا ہے لیکن ایران بھی واضح طور پر اعلان کرچکا ہے کہ افغانستان میں اقتدار کسی ایک گروپ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔روس،افغانستان کی جنگ میں افغان طالبان کا اتحادی بننے کی دوبارہ غلطی نہیں کرنا چاہتا۔ اس لئے روس کی پوری کوشش ہے کہ افغانستان کا بامعنی حل نکل آسکے۔ وزیراعظم عمران خان کی امریکا کے تین روزہ دورے میں صدر ٹرمپ کا بنیادی نکتہ امریکی افواج کے انخلا کے لئے پاکستان سے بھرپور ضمانت اور افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی سے ہاتھ اٹھانا یا محدود کرنا ہے۔ زلمے خلیل زاد نے پاکستان کو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں براہ راست ملوث کردیا ہے۔ اس لئے پاکستان جو بار بار مذاکرات کا کریڈٹ لے رہا ہے اب اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ چیف آف آرمی اسٹاف ماضی میں غلط پالیسیوں کا اظہار کرتے ہوئے کسی بھی ملک کے لئے نئی جنگ میں پاکستان کو ملوث کرنے کے شدید مخالف ہیں۔ اس لئے امریکا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی افواج کے انخلا میں پاکستان سے کلیدی کردار چاہتا ہے۔اب امریکی صدر چاہتا ہے کہ وہ امریکی عوام سے انتخابات میں کئے جانے والے وعدوں کو پورا کرکے اگلے انتخابات کے لئے مضبوط امیدوار و بڑی کامیابی حاصل کرے۔وزیر اعظم عمران خان کے لئے بھی یہ ایک بہت سنہری موقع ہے کہ کئی برسوں بعد امریکی صدر کی دعوت پر جانے کے بعد وہ اہم فیصلے کرکے خطے میں قیام امن کے لئے کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button