تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلی پنجاب نے تقرر و تبادلوں پر پابندی لگا دی-حکومت کا شرعی قوانین کے تحت احتجاجی مظاہروں کیخلاف مسودہ تیار حکومت نے احتجاجی مظاہرے ’’شریعت اور قانون کی نظرمیں“ کے عنوان سے مسودہ تیارکیا ہے، مسودے کو اگلے ایک ... مزید-دھماکے میں پاکستانی قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ رہا، ڈاکٹر فیصل دھماکا آئی ای ڈی نصب کرکے کیا گیا، قونصل خانے کی سکیورٹی بڑھانے کیلئےافغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان ... مزید-جلال آباد میں پاکستان سفارت خانے کے باہر دھماکا دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، دھماکا پاکستانی سفارتخانے کی چیک پوسٹ کے 200 میٹر فاصلے پر ہوا۔ ... مزید-گلوکارہ ماہم سہیل کے گانے سجن یار کی پری سکریننگ کی تقریب کا انعقاد-پاک ہیروز ہاکی کلب کی 55 ویں سالگرہ پر ٹورنامنٹ کا انعقاد-صفائی مہم کے دوران 47 ہزار ٹن کچرا نالوں سے نکالا گیا ہے‘ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی-مودی کے دورہ فرانس پر”انڈیا دہشتگرد“ کے نعرے لگ گئے جب کوئی دورہ فرانس پرتھا، ترجمان پاک فوج کا دلچسپ ٹویٹ، سینکڑوں کشمیری، پاکستانی اورسکھ کیمونٹی کے لوگوں کا ایفل ... مزید-حالیہ پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بلوچستان میں خصوصی پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے، راشد رزاق-آئی جی پولیس نے راولپنڈی میں شہری سے فراڈ کے واقعہ کا نو ٹس لے لیا

GB News

کم عمری کی شادی کیخلاف قانون سازی کا فیصلہ

Share Button

صوبائی وزیر سماجی بہبود ترقی نسواں’ انسانی و بچوں کے حقو ق و یوتھ افئیرز غلام حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ممبران اسمبلی سے مشاورت کر کے کم عمری کی شادی کے خلاف بل پیش کر یں گے تاکہ بچپن کی شادیوں کا سلسلہ رک سکے ۔سوشل سیکٹر میں عوام کی ترقی اور مسائل کے حل کیلئے ہم سب نے مل کر کام کرنا ہے ۔محکمے کی ترقی بہتری اور فعالیت کے لئے ایک دوسرے کو اعتماد میں لے کر چلیں گے اور میری طرف سے کسی قسم کی بھی رکاوٹ نہیں ہو گی ۔یہ حقیقت ہے کہ کم عمر بچیوں کی شادی ایک معاشرتی المیہ اور انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بچوں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے جو والدین اپنی ہی اولاد پر اپنے ہاتھوں کرتے ہیں۔ بچوں کیلئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق کم عمربچوں کی شادی کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں چھٹے نمبرپر ہے اور ایک عالمی تنظیم کے مطابق پاکستان میںاکیس فیصد لڑکیوں کی اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ہی شادی ہوجاتی ہے اور تیرہ فیصد اپنی پندرہویں سالگرہ سسرال میں مناتی ہیں۔پاکستانی معاشرے میں لڑکیوں کو بوجھ سمجھنے کا رحجان عام ہے۔ والدین یہ بوجھ جلد سے جلد اپنے سر سے اتار دینا چاہتے ہیں۔ کہیں یہ کام غربت کے ہاتھوں، تو کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں رسم و رواج کی زنجیر میں ان معصوم بچیوں کو جکڑ کر کیا جاتا ہے۔ شادی کے بعد ان بچیوں پر کیا گزرتی ہے، اس سے دونوں خاندانوں کو کئی سروکار نہیں ہوتا۔ کم عمری کی شادی اور اوائلِ بلوغت میں ماں بننا بھی ایک عام سی بات تصور کی جاتی ہے۔پاکستان کے اکثر دیہی علاقوںمیں بچوں کی شادیوں کا رواج بہت عام ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے بعض صوبائی اسمبلیاں قانون سازی کر چکی ہے۔ جس کے تحت شادی کیلئے مرد اور عورت دونوں کی کم از کم عمراٹھارہ سال ہونی چاہیے۔ قانون کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ شادی کرنے والے دلہا، ایسی شادی کیلئے سہولتیں مہیا کرنے اور انتظامات کرنے والوں، ایسی شادی کرانے والے والدین یا سرپرستوں کو تین سال تک قید بامشقت کی سزا دی جائے گی۔بچوں کی بہبود کیلئے سرگرم عالمی تنظیم یونیسیف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ بنیادوں پر اٹھارہ سال سے کم عمر بارہ ملین بچیوں کی شادیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اگر بلوغت کی عمر سے پہلے بچیوں کی شادی کی یہ شرح برقرار رہی تو2030 تک ایک سو پچاس ملین سے زائد لڑکیوں کو اٹھارہ سال کی عمر سے قبل ہی بیاہ دیا جائے گا۔ یونیسیف کے مطابق جب ایک بچی کو زبردستی شادی پر مجبور کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج اسے عمر بھر بھگتنے پڑتے ہیں۔ سب سے پہلے اس کیلئے اسکول جانے اور تعلیم مکمل کرنے کے مواقع کم ہوجاتے ہیں، شوہر کی طرف سے زیادتی اور دوران حمل پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔کم عمری کی شادی معیشت پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ ایسے بچوں کی تعلیم رک جاتی ہے اور ان کا کیریئر بننے سے قبل ہی ختم ہوجاتا ہے۔ وہ معاشرے کیلئے مفید شہری بننے کے بجائے ایک بوجھ کی صورت زندگی بسر کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ رحجان غریب ممالک میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ دنیا کی 95 فیصد کم عمر مائیں غریب ممالک میں ہی ہیں۔ پاکستان میں بھی غریب ترین علاقوں میں یہ رواج عام ہے۔عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق بارہ ایشیائی ممالک میں کم عمری کی شادیوں کی وجہ سے تقریبا63 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اس کی وجہ ان بچوں کا اسکول کی تعلیم مکمل نہ کرنا تھا۔ کم عمری کی شادی کا رواج ترقی پذیر ممالک میں عام ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ غربت اور کم عمری کی شادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک نے اگر ایسی شادیوں کی روک تھام نہیں کی تو اس کا نقصان ان کی معیشت کوٹریلین ڈالرز میں بھگتنا پڑے گا۔کم عمری میں ماں بننے کے باعث لڑکیوں کی صحت پر اضافی خرچ کرنا پڑتا ہے، جو غربت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ ممتاز ماہرِ امراض زچہ و بچہ ڈاکٹر شیر شاہ سید کہتے ہیں کہ کم عمری میں ماں بننے اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث بچیوں کو بہت سی بیماریاں خصوصا فیسٹولا جیسی موذی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غربت کے باعث وہ اس کا علاج کروانے سے قاصر ہوتی ہیں۔اس بیماری سے بالآخر ان لڑکیوں کی زندگی برباد کردیتی ہے۔ ایسی لڑکیوں کو ان کے شوہر گھر سے نکال کر دوسری شادی کرلیتے ہیں۔ ایسے متاثرین کی ایک بڑی تعداد تھر کے دورافتادہ دیہی علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ ایسے علاقوں میں نہ ڈاکٹر ہیں، نہ تربیت یافتہ دائیاں، جس کے نتیجے میں زچگی میں اموات کی شرح بھی یہاں بہت زیادہ ہے۔تھرپارکر صوبہ سندھ کا وہ پسماندہ علاقہ ہے جو کم عمری کی شادی اورنوزائیدہ بچوں کی موت کے حوالے سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔نوزائیدہ بچوں کی اموات کا سبب ماں کا کم عمر ہونا بھی ہے۔ تیرہ چودہ سال میں پہلی بارماں بننے والی بچی جو پھر بلا توقف ہرسال ماں بن رہی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھی اپنی کم عمر اورکمزور ماں کی شاید چھٹی یا ساتویں اولاد ہوکم عمری، ناکافی غذا اور ضروری ادویہ کے نہ ہونے سے اس بچی کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں کہ کجا اسے ہر سال ماں بھی بننا پڑے۔ یہ جہالت، غربت، مذہب اور روایات کی وہ صلیب ہیں جن پر ہماری معصوم بچیاں مصلوب ہورہی ہیں۔کم عمری کی شادی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جن میں ذات پات بھی ہے اگر اپنی ذات میں رشتہ مل جائے تو ٹھیک ہے لیکن اگر کسی اور برادری میں رشتہ کیا جاتا ہے تو لڑکی والے بڑی رقم مانگتے ہیں۔ یہ رقم تین چار لاکھ سے شروع ہوتی ہے اور لڑکی جتنی چھوٹی ہوگی، رقم اتنی زیادہ ہوگی۔ پیسوں کی چمک میں اندھے ہوکر لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وہ اپنی پھول جیسی کمسن بچی کسی بوڑھے سے بیاہ رہے ہیں۔ کم عمر بچیوں کی شادیاں اب ایک بزنس بن گئی ہیں۔ پیسے کے حصول کا یہ آسان ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔بعض علاقوں میں گندے پانی کے استعمال سے لوگوں کے دانت پیلے اور ہڈیاں مڑنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چہرے پر تیزی سی جھریاں بھی پڑنے لگتی ہیں۔ لوگ جوانی ہی میں بوڑھے لگنے لگتے ہیں۔ یہ ڈر بھی لوگوں کو بچوں کی جلدی شادی پر مجبور کرتا ہے۔آفات زدہ علاقوں میں لوگ گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ نئے علاقے میں لڑکیاں غیر محفوظ تصور کی جاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں قحط کی صورت حال میں مرد کمانے کیلئے دوسرے علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔ مردوں کی عدم موجودگی سے بھی لڑکیوں کے غیر محفوظ ہونے کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ایسے خاندان بھی لڑکیوں کو جلد بیاہ دیتے ہیں۔جہاں تک قانون کا سوال ہے تو صرف قانون کافی نہیں بلکہ شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے، حکومت کو اور بھی بہت کچھ کرنا ہوگا۔کم عمری کی شادی کے حوالے سے پولیس پکڑ لے تو لوگ جھوٹا ایفی ڈیوٹ دے کر چھوٹ جاتے ہیں کہ غلطی سے عمر کم لکھوادی تھی حالانکہ اگر کوئی بچہ یا بچی اٹھارہ سال کی ہوگی تو اس کا ریکارڈ نادرا کے پاس موجود ہوگا لیکن اس حوالے سے قانون شکنی عام بات ہے۔ قانون سازی کے عمل کے باوجود اس امر پر تمام ماہرین متفق ہیں کہ تعلیم اور معاشرتی اصلاح کے بغیر اس مسئلے کا حل نہیں مل سکتا۔شادی کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے اسلام بالغ ہونے پر شادی کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس میں تاخیر کو ناپسند کرتا ہے کیونکہ شادی انسان کو بہت سی معاشرتی برائیوں سے محفوظ رکھتی ہے اس لیے لہذا قانون سازی کرتے وقت ساری صورتحال کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

Facebook Comments
Share Button