تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلی پنجاب نے تقرر و تبادلوں پر پابندی لگا دی-حکومت کا شرعی قوانین کے تحت احتجاجی مظاہروں کیخلاف مسودہ تیار حکومت نے احتجاجی مظاہرے ’’شریعت اور قانون کی نظرمیں“ کے عنوان سے مسودہ تیارکیا ہے، مسودے کو اگلے ایک ... مزید-دھماکے میں پاکستانی قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ رہا، ڈاکٹر فیصل دھماکا آئی ای ڈی نصب کرکے کیا گیا، قونصل خانے کی سکیورٹی بڑھانے کیلئےافغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان ... مزید-جلال آباد میں پاکستان سفارت خانے کے باہر دھماکا دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، دھماکا پاکستانی سفارتخانے کی چیک پوسٹ کے 200 میٹر فاصلے پر ہوا۔ ... مزید-گلوکارہ ماہم سہیل کے گانے سجن یار کی پری سکریننگ کی تقریب کا انعقاد-پاک ہیروز ہاکی کلب کی 55 ویں سالگرہ پر ٹورنامنٹ کا انعقاد-صفائی مہم کے دوران 47 ہزار ٹن کچرا نالوں سے نکالا گیا ہے‘ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی-مودی کے دورہ فرانس پر”انڈیا دہشتگرد“ کے نعرے لگ گئے جب کوئی دورہ فرانس پرتھا، ترجمان پاک فوج کا دلچسپ ٹویٹ، سینکڑوں کشمیری، پاکستانی اورسکھ کیمونٹی کے لوگوں کا ایفل ... مزید-حالیہ پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بلوچستان میں خصوصی پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے، راشد رزاق-آئی جی پولیس نے راولپنڈی میں شہری سے فراڈ کے واقعہ کا نو ٹس لے لیا

GB News

چیئرمین سینیٹ کا ریکوزیشن واپس لینے کا مشورہ، اپوزیشن کا صاف انکار

Share Button

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کو ریکوزیشن واپس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریکوزیشن اجلاس تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے کے لئے نہیں بلایا جا سکتا، اپوزیشن ریکوزیشن میں کوئی قومی اہمیت کا مسئلہ بطور ایجنڈا شامل کرے ورنہ دوسری صورت میں اپوزیشن اپنی ریکوزیشن واپس لے لے، یا اپوزیشن اپنی تحریک عدم اعتماد کیلئے سینیٹ کے باقاعدہ اجلاس کا انتظار کرے۔جمعرات کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کو خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ اپوزیشن کی قرارداد پیش کرنے کی تحریک کا نوٹس تقسیم کر دیا گیا ہے اور سینیٹ سیکریٹریٹ نے اجلاس بلانے کیلئے وزارت پارلیمانی امور کو خط بھجوا دیا ہے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کو ریکوزیشن واپس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریکوزیشن اجلاس تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے کے لئے نہیں بلایا جا سکتا۔ سابق چیئرمین سینیٹ کی فروری 2016کی رولنگ کے مطابق سینیٹ کا اجلاس تحریک کے تحت کسی مسئلے پر بحث کے لیے بلایا جا سکتا ہے، تاہم ریکوزیشن اجلاس کسی قرارداد کے لیے نہیں بلایا جا سکتا۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کی ریکوزیشن کے تحت ممبران چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پر صرف بحث کر سکیں گے۔ تاہم یہ اپوزیشن کا ارادہ نہیں لگتا۔ ادھر سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کی جانب سے لکھے گئے خط کو رولز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے اپوزیشن کو لکھے گئے خط کا جائزہ لیا گیا، خط میں چیئرمین نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو واپس لینے کا کہا تھا، اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں شامل اراکین سینیٹ کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے لکھے گئے خط پر انہیں تحفظ ہیں جبکہ چیئرمین سینیٹ کا ایوان بالا کے رولز کی خلاف ورزی ہے، اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے خط کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا اور چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحری کو واپس لینے سے انکار کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر اجلاس بلانے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں شامل ایک رکن نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف اعتماد کی تحریک کو واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تحریک لانے کا فیصلہ تمام جماعتوں کی مشاورت سے ہوا ہے۔ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کے خط کو مسترد کر دیا گیا اور اس کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے پاس نمبر گیم پورا ہے، تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اپوزیشن کے تمام سینیٹرز سے رابطے میں ہیں، اپوزیشن کے پاس نمبر گیم پورا ہے، نمبر گیم میں کمی کا تصور نہیں کیا جاسکتا،مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ سینیٹ اجلاس 23 جولائی تک بلائے جانے کا امکان ہے۔

Facebook Comments
Share Button