تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلی پنجاب نے تقرر و تبادلوں پر پابندی لگا دی-حکومت کا شرعی قوانین کے تحت احتجاجی مظاہروں کیخلاف مسودہ تیار حکومت نے احتجاجی مظاہرے ’’شریعت اور قانون کی نظرمیں“ کے عنوان سے مسودہ تیارکیا ہے، مسودے کو اگلے ایک ... مزید-دھماکے میں پاکستانی قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ رہا، ڈاکٹر فیصل دھماکا آئی ای ڈی نصب کرکے کیا گیا، قونصل خانے کی سکیورٹی بڑھانے کیلئےافغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان ... مزید-جلال آباد میں پاکستان سفارت خانے کے باہر دھماکا دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، دھماکا پاکستانی سفارتخانے کی چیک پوسٹ کے 200 میٹر فاصلے پر ہوا۔ ... مزید-گلوکارہ ماہم سہیل کے گانے سجن یار کی پری سکریننگ کی تقریب کا انعقاد-پاک ہیروز ہاکی کلب کی 55 ویں سالگرہ پر ٹورنامنٹ کا انعقاد-صفائی مہم کے دوران 47 ہزار ٹن کچرا نالوں سے نکالا گیا ہے‘ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی-مودی کے دورہ فرانس پر”انڈیا دہشتگرد“ کے نعرے لگ گئے جب کوئی دورہ فرانس پرتھا، ترجمان پاک فوج کا دلچسپ ٹویٹ، سینکڑوں کشمیری، پاکستانی اورسکھ کیمونٹی کے لوگوں کا ایفل ... مزید-حالیہ پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بلوچستان میں خصوصی پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے، راشد رزاق-آئی جی پولیس نے راولپنڈی میں شہری سے فراڈ کے واقعہ کا نو ٹس لے لیا

GB News

اغواء کئے گئے نوجوانوں کو جرگے کے ذریعے بازیاب کرا لیا گیا

Share Button

غذر(نمائندہ خصوصی)پانچ دن پہلے ہندرب نالے سے بندوق کی نوک پر اغواء کئے گئے نوجوانوں کو خیلی کوہستان کے علاقے سے جرگے کے ذریعے بازیاب کرا لیا گیا مقامی انتظامیہ کی درخواست پر خیلی جرگے نے مغوی نوجوانوں کو اغواء کاروں سے طویل مذاکرات کے بعد چار نوجوانوں علی شیر، آفسر ولی ، اکرام علی شاہ اور عالمگیر کو ہفتے کے روز کوہستان پولیس کے حوالے کردیا جس کے بعد کوہستان پولیس نے مغویوں کو اپنے تحویل میں لیکر کوہستان کا ہیڈکوارٹر داسو پہنچادیا اور مغوی کو داسو تھانے لے گئی جہاں چاروں مغویوں نوجوان کے خلاف غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں تعزیرات پاکستان کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا اور ان کو مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کردیا جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے چاروں مغوی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا بعد ازاں جوڈیشل ریمانڈ کے بعد شام 6بجے کے قریب مغوی ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے ان کو ضمانت پر رہائی مل گئی عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد کوہستان پولیس نے مغوی چار نوجوان کوتقریباً شام 6بج کر 20 منٹ پر باضابطہ طور پر گلگت بلتستان پولیس کے حوالے کردیا جہاں سے مغویوں کو جی بی پولیس نے اپنی تحویل میں لیکر گلگت کی طرف روانہ ہوئی ادھر جمعہ کے روز یہ افواہیں پھیلانا شروع ہوئی تھیں کہ مغوی نوجوانوں کو بازیاب کرالیا گیا ہے اور ان کو گلگت بلتستان پولیس کے حوالے کردیا گیا جنہیں ہفتے کے روز صبح کسی بھی وقت غذر لایا جائے گا اور یہ بھی افواہ پھیلائی جارہی تھی کہ مغویوں کو پولیس آپریشن کے ذریعے بازیاب کرایا گیا ہے ان تمام افواہیں اس وقت دم توٹ گئیں جب ہفتے کے روز مصدقہ اطلاعات آناشروع ہوئیں کہ مغویوں کو مقامی جرگے کی مدد سے رہائی عمل میں لائی جاچکی ہے اور مغوی کوہستان پولیس کے تحویل میں ہیں اور مغویوں کی فوٹیجز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی مغویوں کی رہائی کوہستان جرگے کی مدد سے ہی ممکن ہوئی ادھر گوپس دھرنے میں بیٹھے مظاہرین نے مغویوں کے بازیابی کے باوجود بھی اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اغواکاروں کی عدم گرفتاری پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے جب کہ مقامی لوگوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مغویوں کے خلاف غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میںایف آئی آر درج کرنے پر کئی سوالات آٹھادئیے ہیں لوگوں کہنا ہے کہ اگر مغویوں کے پاس اتنا جدید اسلحہ تھا تو ان کو کیسے اغواکار آسانی سے اغواء کرکے ان کا اسلحہ بھی قبضے میں لینے میں کامیاب ہوگئے دوسری جانب سے ان کا کہنا تھا کہ اغواکاروں نے کیا مغویوں کو لاٹھیوں کے بل بوتے پر اغواء کیا تھا اس تمام تر صورتحال پر لوگوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا واضح رہے کہ اغواء ہونے والے چاروں نوجوانوں میں سے دو نوجوان یونیورسٹی کے طالب علم ہیں مغوی نوجوانوں کو کل کسی بھی وقت ان کے اہل خانہ کے حوالے کردیا جائے گا۔ ہندرب واقعے کے خلاف پانچویں روز بھی گوپس میں احتجاجی دھرنا دیا گیا جس میں عوام سب ڈیژن گوپس سب ڈویژن یاسین سمیت ضلع کے دیگر علاقوں سے عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ دونوں سب دویژن میں مکمل شٹرڈائون ہڑتال ، تمامر تر سرکاری و نجی ادارے کالجز سکول سب بند رہے جبکہ مظاہریں نے کئی گھنٹے تک چترال غذر شاہراہ بھی بند کردی جس کے باعث مسافروں اور چترال کی طرف جانے والی گاڑیاں بھی گوپس کے مقام پر پھنس گئی اور مسافروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا احتجاج دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی نواز خان ناجی نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت غذر کے لوگوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ سانحہ ہندرب کوئی پہلا واقع نہیں بلکہ 1947ء سے اب تک ان نالہ جات میں غذر کے سینکڑوں لوگوں کو قتل کیا جاچکا ہے لیکن آج تک کسی کا قاتل گرفتار ہوا ہے اور نہ ہی کسی کو سزا ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے شرم اس بات پر محسوس ہورہی ہے کہ چند لوگوں کے سامنے ریاست بھی بے بس نظر آرہی ہے اور جرگے کی منتیں کرکے نہتے لوگوں کی رہائی عمل میں لائی جاتی ہے آخر خود ہمارے ادارے ان لوگوں کے سامنے کیوں بے بسی کا مظاہرہ کررہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر غذر میں کوئی شخص اس طرح کی حرکت کرتا تو اس کے خلاف انسداد دہشتگردی سمیت تمام تر جرائم کے دفعات لگائی جائیں ،انہوں نے کہا کہ اس علاقے کے خلاف ہونے والی تمام سازشوں سے میں واقف ہوںان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں تیار رہنا ہوگا احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنماء نذیر احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ دہشتگرد ملک آفرین نے ہندرب نالے کی جعلی دستاویز ڈی سی آفس گلگت سے حاصل کیا ہے جس میں گوپس کے راجہ کے ساتھ جعلی معاہدے کی دستاویز فراہم کی گئی ہے انہوں نے ڈی سی گلگت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے دہشتگرد ملک آفرین کو یہ جعلی دستاویز فراہم کی ہیں ان کا کہنا تھا کہ گوپس سے لیکر شندور تک تین درجن لوگوں کا قتل ہوا ہے اور قاتل نامعلوم ہے کسی ایک قتل کی ایف ائی آر تک نہیں کاٹی جاسکی ہے انہوں نے حکومت اور ریاستی اداروں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آخر ریاستی ادارے قاتلوں کو کیوں نہیں پکڑتی ہے اور آج ہم ریاستی اداروں سے اپنے مقتولین کے خون حساب مانگتے ہیں وہ ہمیں جواب دیں۔احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے ضلعی صدر ظفر محمد شادم خیل نے کہا کہ ہم کسی قسم کی ایف ائی آر سے ڈرنے والے نہیں ہیں ہم اپنے مال عزت کی تحفظ کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گاہکوچ میں ہرصورت بڑا کامیاب دھرنا دیا جائے گا اور اگر حکومت اور ریاست نے ان چار مطالبات یعنی غذر کے نالہ جات میں جی بی سکائوٹس کی تعیناتی ایس ایس پی غذر کا تبادلہ مغویوں کی بازیابی اور دہشتگردوں کی گرفتاری اور فوری سزائیں جیسے مطالبات پر عمل درآمد نہیں کرتی تو ہم گلگت میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دینگے اور ان کو اپنے مشکلات ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالے کے لئے کہیں گے جب کہ احتجاجی مظاہریں کی کمیٹی نے باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ کل گاہکوچ کی طرف ائیں گے اور گاہکوچ میں تاریخ ساز دھرنا دیا جائے گا جس کے لئے 30 رکنی کمیٹی نے گھر گھر رابطہ مہم بھی شروع کردی اور بالائی علاقوں سے آئے ہوئے مظاہریں کو گوپس میں ہی قیام کی درخواست کردی ہے ۔کوہستان انتظامیہ کے جانب سے غذر کے چار مغوی افراد کے خلاف اسلح لیکر غذر کی باڑد پار کرنے کا جھوٹا مقدمہ درجہ کرنے چاروں مغویوں کو جیل منتقل کرنے کی فیصلے کو غذر کے عوام کے ساتھ ظلم اعظم اور جی بی حکومت کی ناکامی قرار دیکر چار نکاتی عوامی مطالبات کو تسلیم کرنے تک پیر کے روز سے غذر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں عوامی احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔پیر سے غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹر گاہکوچ میں ہونے والے عوامی احتجاج میں گوپس ،یاسین ،پنیال اور اشکومن کے تمام عوام کو شرکت کرنے کے لئے آج عوامی رابط کمیٹی نے ایک روز عوامی رابط مہم چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔گوپس میں جاری احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے اپنے عوامی رابط کمیٹی کے ممبران نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت پرامن کو عوام چھوڑ کر چند دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ہوا ہے۔ہمیں ریاستی اداروں پر سے آپ کو یہ بھروسہ نہیں رہا ہمیں آپ اپنے حفاظت خود کرنا ہوگا۔ہماراقافلہ غذر کے ضلعی ہیڈکوارٹر گاہکوچ پہنچنے سے قبل ہمارا چاروں مطالبات حل نہ ہونے کے صورت میں ہم گلگت کے جانب لانگ مارچ کرینگے۔اور کسی ریاستی ادارے سے بات نہیں کرینگے بلکہ اپنے اوپرہونے والی ظلم کے خلاف اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر دھرنا دینگے۔

Facebook Comments
Share Button