تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلی پنجاب نے تقرر و تبادلوں پر پابندی لگا دی-حکومت کا شرعی قوانین کے تحت احتجاجی مظاہروں کیخلاف مسودہ تیار حکومت نے احتجاجی مظاہرے ’’شریعت اور قانون کی نظرمیں“ کے عنوان سے مسودہ تیارکیا ہے، مسودے کو اگلے ایک ... مزید-دھماکے میں پاکستانی قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ رہا، ڈاکٹر فیصل دھماکا آئی ای ڈی نصب کرکے کیا گیا، قونصل خانے کی سکیورٹی بڑھانے کیلئےافغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان ... مزید-جلال آباد میں پاکستان سفارت خانے کے باہر دھماکا دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، دھماکا پاکستانی سفارتخانے کی چیک پوسٹ کے 200 میٹر فاصلے پر ہوا۔ ... مزید-گلوکارہ ماہم سہیل کے گانے سجن یار کی پری سکریننگ کی تقریب کا انعقاد-پاک ہیروز ہاکی کلب کی 55 ویں سالگرہ پر ٹورنامنٹ کا انعقاد-صفائی مہم کے دوران 47 ہزار ٹن کچرا نالوں سے نکالا گیا ہے‘ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی-مودی کے دورہ فرانس پر”انڈیا دہشتگرد“ کے نعرے لگ گئے جب کوئی دورہ فرانس پرتھا، ترجمان پاک فوج کا دلچسپ ٹویٹ، سینکڑوں کشمیری، پاکستانی اورسکھ کیمونٹی کے لوگوں کا ایفل ... مزید-حالیہ پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بلوچستان میں خصوصی پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے، راشد رزاق-آئی جی پولیس نے راولپنڈی میں شہری سے فراڈ کے واقعہ کا نو ٹس لے لیا

GB News

گلگت ائر پورٹ پر حادثہ:خامیوں کے تدارک کی ضرورت

Share Button

پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن کا طیارہ آٹھ بجے گلگت ائیر پورٹ پر اتر کر ٹیکسی کرنے کے دوران رن وے سے پھسل کر کچی زمین پر اتر گیا اور ایک طرف جھک کر کھڑا ہو گیا ۔طیارے کے حادثے کے دوران خوفناک آواز کی وجہ سے ائر پورٹ کے اطراف میں خوف وہراس پھیل گیا’سول ایوی ایشن نے طیارے کے رن وے سے اترتے ہی ایمرجنسی نافذکر کے ہنگامی طور پر ریسکیو کارروائی شروع کردی اور فوری طور پر متاثرہ مقام پر پہنچ کر تمام مسافروںکو جہاز کے عملے سمیت بحفاظت نکال کر ائر پورٹ پسنجر لائونج منتقل کردیا طیارے میں موجودانچاس مسافراور عملے کے چارافراد محفوظ رہے ۔ طیارہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی سول ایوی ایشن کا نظام حرکت میں آنے کے ساتھ ساتھ مقامی فائر بریگیڈ اور ریسکو 1122بھی موقع پر پہنچ گئے فوری طور پر طیارے کے حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے’مسافروں کے مطابق جہاز کی پائلٹ مریم جو انتہائی تجربہ کار ہیں نے طیارے کو بڑے حادثے سے بچایا۔کہا جا رہا ہے کہ گلگت آنے والے طیارے کی رفتار بہت تیز تھی اس سے قبل کسی اور طیارے نے اتنی تیز رفتاری سے لینڈنگ نہیں کی یہی تیز رفتاری حادثے کی وجہ بنی۔حادثے کے بعد گلگت سے اسلام آبادجانے والے مسافروں کومتبادل طیارے سے روانہ کیاگیا،پی آئی اے کے سی ای او نے واقعہ کی تحقیقات کاحکم دے کردونوں پائلٹس کوگرائونڈکردیا ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہوائی سفر جہاں تیزی سے منزل تک پہنچانے کا سبب بنتا ہے وہاں کسی غلطی کے نتیجے میں صورتحال بہت خراب بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ذرا سی غلطی درجنوں مسافروں کی جان کو خطرات لاحق کر سکتی ہے اس لیے ہوابازوں پر لازم ہے کہ وہ قوائد کی پاسداری کو ممکن بنائیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر فضائی حادثات میں طیارے میں سوار تمام مسافر لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور بہت ہی کم ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ حادثے کے شکار کسی جہاز کے تمام مسافر یا کچھ مسافر زندہ بچ جاتے ہوں۔ فضائی سفر یا حادثات سے متعلق دستیاب معلومات سے تو تقریبا ہر فرد ہی واقف ہوتا ہے لیکن اسی حوالے سے کچھ ایسے حقائق بھی ہوتے ہیں ۔جن سے اکثر ہوائی جہاز کے مسافر لاعلم ہوتے ہیں۔اگر ہوائی سفر کے دوران صرف کمر کی بیلٹ باندھی گئی ہو اور کندھوں کی بیلٹ نہ باندھی جائے تو ٹکر کی شدت کی وجہ سے انسانی جسم دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ فضائی ماہرین کے مطابق طیارے کی سیٹیں الٹے رخ پر لگانے سے مسافروں کو پہنچنے والا نقصان کم ہوسکتا ہے۔ فوجی طیاروں میں الٹے رخ لگی سیٹوں کے باعث نقصان میں دس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔لیکن ابھی تک بہت کم جہازوں میں یہ پرنسپل لاگو کیا گیا ہے۔عام طور پر فضائی حادثات میں مسافروں کے پیر ہی وہ اعضا ہوتے ہیں جو درست حالت میں ملتے ہیں اور اسی وجہ سے ائر فورس کے اہلکاروں کے پائوں کے عکس لیئے جاتے ہیں تاکہ کسی حادثے کی صورت میں ان کی مدد سے شناخت ممکن ہوسکے۔اسی فیصد فضائی حادثات لینڈنگ یا ٹیک آف کے وقت پیش آتے ہیں۔اگر جہاز کے گرنے کی رفتار تیز ہو تو اس صورت میں آکسیجن ماسک جو خود بخود مسافروں کی سیٹوں کے درمیان نکل آتے ہیں ۔وہ فائدمند ثابت نہیں ہوتے ۔43سے 54فیصد پائلٹ دورانِ پرواز سوجاتے ہیں جبکہ ایک تہائی پائلٹوں کا یہ کہنا ہے کہ جب ان کی آنکھ کھلی تو انہوں نے اپنے ساتھی پائلٹ کو بھی سویا ہوا پایا۔انسان کے جسم کا ستر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اسی وجہ سے جب حادثے کا شکار طیارہ تیزی کے ساتھ زمین سے ٹکراتا ہے تو اکثر انسانی جسم پھٹ جاتا ہے۔اگر جہاز میں کسی وجہ سے آگ لگ جائے تو جہاز سے فرار کے لیے صرف نوے سیکنڈ کا وقت دستیاب ہوتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ چترال سے اسلام آباد جانے والی قومی ائرلائن کے طیارے کے حادثے میں پچاس کے لگ بھگ افراد کے نذر اجل ہونے کا واقعہ قوم کے لیے صدمے اور افسوس کا سبب بنا ہے۔ یہ حادثہ جو پاکستان کی تاریخ کے بارہ بڑے فضائی حادثوں میں اضافہ کہا جاسکتا ہے اور یہ حادثہ اتفاق سے سات دسمبر کو اس دن پیش آیا جب یوم ہوا بازی کے دن کے حوالے سے دنیا بھر میں یہ دن منایا جا رہا تھا۔رونما ہونے والے اس فضائی حادثے میں عملے کے ارکان اور مسافروں سمیت جہاز پر سوار تمام کے تمام افراد اپنی ابدی منزل کی طرف روانہ ہوگئے ان میں اپنے کام اور خدمات کی نوعیت کے حوالے سے معروف ایسی شخصیات بھی شامل ہیں جن کی جدائی سے ملک و قوم کے لیے پیدا ہونے والا خلا ہم وطنوں کی بڑی تعداد کو طویل عرصے تک محسوس ہوتا رہے گا۔ ان میں سابق پاپ سنگر اور مبلغ جنید جمشید، ان کی اہلیہ، ڈی سی او چترال اور چترال کے شاہی خاندان کے شہزادے اور بعض سماجی اداروں کے کارکن اور کئی غیر ملکی شخصیات شامل تھیں۔اس بدقسمت طیارے میں سوار سبھی افراد اپنے اپنے پیاروں کے بہت پیارے اور مقدم تھے ۔بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن دنیا کی بہترین ائرلائن میں شمار کی جاتی تھی لیکن گزشتہ ایک دہائی سے یہ زوال اور تنزلی کا شکار چلی آرہی ہے اور اس کی نجکاری کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں اور یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ پی آئی اے دنیا کی دیگر فضائی کمپنیوں کی طرح اپنے قیام کے بعد سے اب تک کئی بڑے حادثات کا شکار ہوئی ہے اور پچھلے پچاس سالوں میں پی آئی اے طیاروں کے پندرہ بڑے حادثات ہوئے ہیں جس میں سیکڑوں لوگ ہلاک ہوئے لیکن آج تک کوئی انکوائری رپورٹ نہیں پڑھی گئی جس میں کسی طیارے کے حادثے کی واضح وجوہات بتائی گئی ہوں؟ترقی یافتہ ممالک میں کمرشل طیاروں کے حادثات کی تحقیقات کرنے والے برسوں کا تجربہ رکھتے ہیں اور مختلف اقسام کے طیاروں کے ماہرین الگ الگ ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں فضائی حادثات کی تحقیقات میں حکومتی مشینری کا عمل دخل بہت ہوتا ہے، تحقیقاتی رپورٹ میں عموما حادثے کی ذمہ داری پائلٹ پر عائد کردی جاتی ہے جواپنی صفائی میں کچھ کہنے کے لیے موجود نہیں ہوتا۔چند سال پہلے بھی ملتان کے قرب و جوار میں فوکر طیارے کا حادثہ پیش آیا تھا ہر سانحہ یہ احساس دلاتا ہے کہ ہماری انتظامی وفنی صلاحیتیں تشویشناک حد تک مفلوج ہوتی جا رہی ہیں۔اس صورتحال کے بعد ایک بار پھر سول ایوی ایشن کی جانب سے ہوائی جہاز کے سفر کو محفوظ بنانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور یہ کہ یہ اس امر کی طرف بھی واضح اشارہ کر رہا ہے کہ پی آئی اے کے معاملات زوال پذیر ہیں،فرائض سے غفلت سبھی اداروں میں برتی جا رہی ہے بلکہ یہ ہماری رگ و پے میں اترتی جا رہی ہے۔اس بات میں کوئی باک نہیں کہ حادثات دنیا بھر میں ہوتے ہیں لیکن ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہم حادثات سے سبق سیکھ کر مستقل بنیادوں پر اصلاحات نہیں کرتے۔ ہر سانحے کے بعد چند روز شور و غوغا ہوتا ہے لیکن کوئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آتی ہے نہ آئندہ بچائو کیلئے پائیدار اقدامات عمل میں لائے جاتے ہیں۔بدقسمتی سے وطن عزیز میں اپنی ذمے داریوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے صرف اپنے حقوق کا مطالبہ اور دوسروں پر الزام تراشی کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔ کون نہیں جانتا کسے نہیں معلوم کہ مثبت ذہن کے ساتھ سوچ بچار سے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں جب کہ ہم سبھی نے بحیثیت قوم منفی سوچ کی روش اپنا رکھی ہے۔طیارے کی لینڈنگ کے وقت جو صورتحال پیش آئی اگرچہ لامحالہ اس کا جائزہ لیا جائے گا اور انکوائری کمیٹی بھی اپنی رپورٹ پیش کرے گی تاہم اس رپورٹ کو منظر عام پر لا کر خامیوں کے تدارک کا اہتمام بھی ضروری ہے یہ بھی دیکھا جائے کہ اگر طیارے کی رفتار تیز تھی تو ایسا کیوں ہوا؟کیونکہ فضائی سفر میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔

Facebook Comments
Share Button