تازہ ترین

GB News

گلگت میں پانی کا بحران :احتجاج اور تقاضے

Share Button

گلگت میں پینے کے پانی کے شدید بحران کے باعث تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت امپھری کی خواتین پانی کی مسلسل قلت وبندش کیخلاف سڑکوں پر نکل آئیں’مظاہرین نے غذر روڈ پر ٹائر جلا کر ‘رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا۔خواتین نے صوبائی حکومت اور واسا کیخلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے تین گھنٹے تک سڑک پر دھرنا دیا۔خواتین کا کہنا تھا کہ صاحب حیثیت افراد اپنے لیے پانی کے ٹینکروں کا بندوبست کرتے ہیں جبکہ متوسط گھرانے نلکوں کی ہوا پر اکتفا کرنے پہ مجبور ہیں۔محکمہ واسا نے امپھری واٹر ٹینک کی گزشتہ دس سال سے مرمت نہیں کرائی’پانی کی فراہمی کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔حکام کی جانب سے مظاہرین کو اس امر کی یقین دہانی کہ امپھری واٹر ٹینک کی مرمت کرائی جائے گی اور پانی کی فراہمی کے دورانیے کو چالیس منٹ سے بڑھا کر دو گھنٹے کیا جائے گا کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کیا۔پانی بنیادی ضروریات زندگی کا اہم ترین عنصر ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے لیکن حکام بالا کی جانب سے اس اہم ضرورت کی تکمیل کے لیے بنیادی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے’جس سے پانی کا مسئلہ وقفوں وقفوں سے جنم لیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ پانی کا مسئلہ پیدا کیوں ہوتا ہے؟حالانکہ گلگت بلتستان تو پانی کے قدرتی وسائل کا حب ہے’غور طلب بات یہ ہے کہ لوگوں کے لیے پانی میسر نہیں تو ٹینکر مافیا کہاں سے پانی لاتا ہے؟ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پانی کی ٹینکروں کے ذریعے فروخت پر مکمل طور پہ پابندی عائد کر دی جائے کیونکہ اگر یہ سلسلہ جاری رہے گا تو ٹینکر مافیا ملی بھگت سے پانی کا بحران پیدا کرتا رہے گا۔پانی کی ٹینکروں کے ذریعے فروخت پر پابندی انتہائی ضروری ہے۔پانی کی اہمیت سے کون واقف نہیں ہے، وہ چاہے پینے کا ہو یا روزمرہ استعمال کا پانی ہو۔
آکسیجن کے ساتھ ساتھ پانی بھی انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کرہ ارض پر ستر فیصد پانی ہے اور بقیہ تیس فیصد میں پہاڑ، جنگلات، میدان و صحرا ہیں۔زمین پر موجود اس ستر فیصد پانی میں سے صرف ایک فیصد پانی قدرتی طور پر پینے کے لائق ہے، بقیہ ننانوے فیصد سمندری ہے جو کھارا ہے۔ کارخانہء قدرت میں کوئی بھی چیز بلاوجہ نہیں ہے، یہاں تک کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز جو بظاہر بیکار محسوس ہوتی ہے اس کا بھی ایک کردار ہے، تو کہاں ستر فیصد پانی۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب مالک ِکائنات کو معلوم تھا کہ انسانی زندگی میں پانی کی کیا اہمیت ہوگی اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ہر آنے والے وقت میں پانی کی ضرورت بڑھتی جائے گی تو اتنی قلیل تعداد میں تازہ پانی کیوں؟ٰٰٰٰٰٰٰیوں تو اس کیوں کے متعدد جوابات ہیں لیکن اہم ترین جواب شاید یہ ہوسکتا ہے کہ انسان کو احتیاط و بچت کا سبق دینا مقصود ہوگا اور لازمی بات ہے کہ جب دستیاب وسائل کم ہوں تو ان کا استعمال احتیاط سے ہی کیا جانا چاہئے۔ لیکن ہمارے ملک میں گنگا الٹی بہتی ہے، ہمارے پاس پانی کے وسائل بھی محدود ہیں لیکن ہم بے دریغ ضائع کررہے ہیں۔قیام پاکستان کے وقت ہمارے ملک میں اوسطاً پانچ ہزار چھ سو کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو بتدریج کم ہوتے ہوئے ایک ہزار کیوبک میٹر فی شہری سے بھی کم ہوگیا ہے۔ ہمارے دریا تقریباً سوکھ چکے ہیں ، ہم پانی کو ترس رہے ہیں لیکن جب قدرت بارش کی شکل میں پانی فراہم کرتی ہے تو ہم اس پانی کو ضائع کردیتے ہیں۔پاکستان میں سالانہ اوسطاً 173.5 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، ملک کا ایک بڑا حصہ بارانی ہے، یعنی بارش ہوگی تو زراعت ہوگی وگرنہ نہیں لیکن ہم بارانِ رحمت سے آج تک خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھاسکے ۔ہمارے لئے بارانِ رحمت زحمت بن جاتی ہے۔ پہلے ہم بارش ہونے کی دعا مانگتے ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو اس کے بند ہونے کی دعا مانگنا شروع کردیتے ہیں۔ بارش تو دنیا بھر میں ہوتی ہے بلکہ منطقہ حارہ میں تو بارشیں سارا سال ہوتی رہتی ہیں۔دراصل ہمارے ملک میں نظام کی کمی ہے، ہم آزادی سے آج تک نظام نہیں بناسکے ہیں۔ ہمارے ملک میں بارشیں ہوتy ہیں سیلاب کی تباہی آ جاتی ہے۔ جبکہ یہی معاملہ دنیا کے بیشتر ممالک نے نہایت خوش اسلوبی سے حل کر لیا ہے۔ وہاں بارش کبھی سیلاب نہیں لاتی بلکہ توانائی کا ایک زبردست ذریعہ بن جاتی ہے جبکہ ہماراسالانہ لاکھوں کیوسک پانی ہر سال سمندر کی نذر ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے پاس اس پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی قدر کی جائے اس کو ضائع نہ کیا جائے اور یہ بھی کہ ہر نعمت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے پانی کو ایک خاص مقدار میں زمین پر اْتارا،اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس پر جتنی تحقیق کی جائے اتنا ہی انسان حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے کہ سبحان تیری قدرت کہ ہر ایک چیز کو ایک خاص تناسب سے پیدا فرمایا ہے۔یہی پانی کی مثال کو لیں کہ اگر زمین پر پانی زیادہ مقدار میں ہو جاتا تو یا مناسب ضرورت سے کم ہوتا تو انسانی زندگی خطرے میں پڑجاتی۔اگر زیادہ ہوتا تو اس میں ڈوب کر ہلاکت ہوتی اور کم ہونے کی صورت میں ضروریات زندگی کے لئے ناکافی ہوتا۔فرمایااور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق خاص مقدار میں پانی اْتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کو لے جانے پر بھی قادر ہیں۔اول زمین پر پانی اْتارنے کے بعد اب بارشوں کا نظام بھی ری سائیکلنگ کے اصول پر کام کررہا ہے کہ زمین پر موجودیہی پانی خشک ہو کر بخارات کی شکل میں بادل بن جاتا ہے اور پھر بارش کی صورت میں دوبارہ زمین پر آجاتا ہے اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔لیکن ہمارے ہاںکبھی پانی کو بے دریغ بہا کر فضول خرچ کیا جاتا ہے تو بسا اوقات پانی کو مختلف قسم کی آلائشوں،گندگیوں یا فیکڑیز کے فضلہ جات وکیمیکلز سے آلودہ کردیا جاتا ہے یہ بھی پانی کا ضیاع ہے کہ اس سے ایک تو آبی حیات کو نقصان پہنچتا ہے دوسرا یہی پانی انسانی صحت کیلئے بھی مضر بن جاتا ہے اور انسانی معاشرہ میں کئی قسم کی مہلک بیماریوں کا باعث بن جاتا ہے ۔ہمیں اپنے اندر احساس اور ایثار کے جذبات پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ہمارے پاس جس چیز کی فراوانی ہو ہم اسے بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور ضائع بھی کرتے ہیں ۔روزمرہ ضروریات کیلئے پانی استعمال کرتے ہوئے نل سے پانی کو بہنے دیتے ہوئے اپنے ذہنوں میں تھر ،بلوچستان اور افریقہ کے ان معصوم بچوں کا تصور کرنا چاہیے جن کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں اور وہ میلوں کی مسافت طے کر کے اس جوہڑ سے پینے کا پانی لانے کیلئے جاتے ہیں جہاں سے جانور اور درندے بھی اپنی پیاس بجھا رہے ہوتے ہیں۔کیا پتہ ہماری کفایت شعاری سے اور درست طریق پرپانی استعمال کرنے سے جو پانی بچ جائے وہ قدرت ان معصوموں اور بے زبانوں کی محرومیاں دْور کرنے کیلئے ان تک پہنچا دے لیکن اگر ہم اسی طرح پانی ضائع کرتے رہے تو ضرور بہت سے لوگ اس نعمت سے محروم ہو جائیں گے اور ہمیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس تناظر میں ضروری ہے کہ ارباب بست و کشاد پانی کی ضروریات’استعمال اور ذخائرکیلئے ٹھوس و جامع اہتمام کریں’جراثیم اور آلودگی سے پاک پانی کی عوام کو تسلسل سے فراہمی کا مناسب بندوبست کیا جائے’پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں’لوگوں میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ وہ پانی کا استعمال ضرورت کے مطابق انتہائی احتیاط سے کریں ۔

Facebook Comments
Share Button