تازہ ترین

GB News

کنٹرول لائن پرامن رہنی چاہئے، دہشت گردی روکی جائے، امریکہ

Share Button

امریکی وائٹ ہائوس کے ایک اہل کار کا کہنا ہے کہ پاک بھارت براہِ راست بات چیت کے لیے تعاون کریں گے۔وائٹ ہائوس کے اہلکار کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ فوجی تنائو کے خطرات سے گریز کے لیے کشیدگی کم کی جائے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تمام فریقین کے درمیان فوری ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، خطے میں تنازع کی تاریخ کو مدِنظر رکھتے ہوئے فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔ وائٹ ہائوس کے اہل کار کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا تنائو کم کرنے کی تمام کوششوں میں تعاون کرتا رہے گا۔اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کا اسی حوالے سے بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر سے متعلق بھارت کی قانون سازی کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا تھا کہ بھارتی فیصلے کے وسیع مضمرات ہوں گے، اس سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔امریکی محکمہ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا کشمیر سمیت دیگر مسائل پر پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی حمایت بھی جاری رکھے گا۔ امریکی وائٹ ہائوس کے ایک اہل کار کا کہنا تھا کہ پاک بھارت براہِ راست بات چیت کے لیے تعاون کریں گے۔ فوجی تنائو کے خطرات سے گریز کے لیے کشیدگی کم کی جائے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تمام فریقین کے درمیان فوری ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، خطے میں تنازع کی تاریخ کو مدِنظر رکھتے ہوئے فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ادھر اقوامِ متحدہ (یو این) نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کیے جانے اور اضافی فوج کی تعیناتی کے بعد وادی سے متعلق معلومات تک رسائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کردیا ہے۔سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ایک جاری ویڈیو پیغام میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں، وادی میں پہلے سے جاری صورت حال کو ‘نئی سطح’ پر لے گئی ہیں اور اس کی وجہ سے خطے میں انسانی حقوق کی صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں آپ کی توجہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے 8 جولائی 2019 کو جاری کی گئی رپورٹ پر مبذول کروانا چاہتا ہوں جس میں وادی کی بدترین صورت حال کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح مواصلات کے نظام کو متعدد مرتبہ بند کیا گیا، سیاسی رہنماوں اور کارکنان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا جبکہ احتجاج کو روکنے کے لیے بھرپور طاقت کا استعمال اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

Facebook Comments
Share Button