تازہ ترین

GB News

پولیس گھرآئے توکیاگولی ماردینی چاہئے،چیف جسٹس

Share Button

سپریم کورٹ نے پولیس کانسٹیبل کو قتل کرنے کے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کا سزائے موت کا فیصلہ برقراررکھنے کا اعلان کر دیا، جمعرات کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے قتل کے ملزم کی سزائے موت کیخلاف اپیل کی سماعت کی ،سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایاکہ 2003 میں پولیس نے لاہورکے علاقے شاہ دی کہوئی میں ایک گھر پر ریڈ کی ملزم شرافت علی اور دیگر ملزمان نے دروازہ کھولتے ہیں پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی جس سے پولیس کانسٹیبل ذولفقارعلی کی موت ہوگئی ،ملزم کے وکیل نے مئو قف اپنایاکہ واقعے کے گواہ یہ نہیں کہتے کہ گھرکے اندر فائرنگ ہوئی بلکہ پولیس موکل کے گھر آئی تھی ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گہرپرپولیس آئے توکیا گولی ماردینی چاہیے،جس پرملزم کے وکیل نے بتایاکہ فائرنگ دوطرفہ تھی ملزم کوبھی7گولیاں لگیں ،عدالت نے ملزم شرافت علی کی سزائے موت کیخلاف اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اورہائیکورٹ کا فیصلہ برقراررکھا ۔

Facebook Comments
Share Button