تازہ ترین

GB News

چین کا مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کھل کر حمایت کا اعلان

Share Button

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کھل کر حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بھارت سے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے تنازع کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے ،پاکستان کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر تعاون جاری رکھیں گے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی جمعہ کو ہنگامی دورے پر بیجنگ پہنچے اور چین کے سٹیٹ قونصلر اور وزیرخارجہ وانگ ژی سے ملاقات کی، شاہ محمود قریشی اسٹیٹ گیسٹ ہاو ¿س بیجنگ پہنچے تو پاک چین دوستی زندہ باد کے نعروں سے ان کا استقبال کیا گیا چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے شاہ محمود قریشی کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور دونوں وزرائے خارجہ کے مابین تہنیتی جملوں کا تبادلہ ہوا دونوں وزرائے خارجہ گلے ملے جس کے بعد ملاقات شروع ہوئی جو ڈھائی گھنٹے جاری رہی۔شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کئے گئے یکطرفہ اقدامات ، اس سے پیدا ہونے والی صورتحال ،کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت اور پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں سے آگاہ کیا،چینی وزیرخارجہ نے اس موقع پر یقین دلایا کہ چین پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا،ملاقات کے بعد چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر تعاون جاری رکھیں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرخارجہ وانگ ژی نے کہا کہ چین کو کشمیر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ہے اور یک طرفہ اقدامات سے صورت حال مزید خراب ہوگی اور ایسے اقدامات نہیں کرنے چاہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ وانگ ژی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں چین کے دوست ہمسایہ اور اہم ترقی پذیر ممالک ہیں جو ترقی کے اہم موڈ پر ہیں اور دونوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قومی ترقی اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے یک طرفہ اقدامات سے گریز کرتے ہوئے تاریخی اختلافات کو ختم کریں۔اس سے قبل چینی وزارت خارجہ کی ترجمان چھن اینگ نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ چین بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ خطے میں امن واستحکام کے لئے کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کی چین چاہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت تنازع مذاکرات سے حل کریں ،اسلام آباد میں چین کے سفیر کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کشمیر کی خصوصی حیثیت تنہا ختم نہیں کرسکتی،چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے دوران چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ مصروفیات اور شارٹ نوٹس کے باوجود میں یہ نشست صدر شی کے حکم کے مطابق کر رہا ہوں کیونکہ پاکستان اور چین کی دوستی کی نوعیت مختلف ہے اور ہمارے ردعمل کی سطح بھی مختلف ہونا چاہئے۔چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کی تفصیلات سے ا?گاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی مسرت ہو رہی ہے کہ چین نے آج ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ پاکستان کا بااعتماد دوست ہے اور یہ دوستی لازوال ہے اور اس پر جتنا فخر کیا جائے وہ کم ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے موقف کی مکمل تائید کی اور ہم سے اتفاق کیا کہ اقدامات یک طرفہ ہیں اور انہوں نے اتفاق کیا کہ اس سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت اور ہیئت میں تبدیلی واقع ہوئی ہے،ان کا کہنا تھا کہ وانگ ژی نے اتفاق کیا کہ اس سے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے،وزیرخارجہ نے چین کے موقف کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اتفاق کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک متنازع مسئلہ تھا اور ہے اور اقوام متحدہ نے اس کو تسلیم کیا ہوا ہے اور اس کا حل بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بنیاد بنا کر نکلنا ہے اور چین کی خواہش ہے کہ اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے اور اس وقت جو کشیدگی ہے اس میں اضافہ نہ ہو،شاہ محمود نے کہا کہ چینی ہم منصب کو میں نے پاکستان کی تشویش کے بارے میں آگاہ کیا کہ ترامیم کے بعد ہمیں خدشہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جب کرفیو ہٹے گا تو وہاں ظلم و بربریت کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے جس سے نہ صرف مزید انسانی حقوق پامال ہوں گے بلکہ مزید خون خرابے کا اندیشہ ہے اور اس کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے اور اس ردعمل سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی پلوامہ جیسی حرکت دوبارہ کی جا سکتی ہے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے جو فیصلے کیے ہیں اور سلامتی کونسل میں جانے کا فیصلہ کیا ہے تو چین، پاکستان کی مکمل حمایت کرے گا اور پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون رکھے گا،چین کے تعاون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری وزارتیں اور مشنز آپس میں تبادلہ خیال جاری رکھیں گے تاکہ ہماری اپروچ اور حکمت عملی مشترکہ ہو اور آپس میں یکسوئی سے ہم آگے بڑھ سکیں۔

Facebook Comments
Share Button