تازہ ترین

GB News

محض بانات کافی نہں

Share Button

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ بھارت ایسے اقدام سے گریز کرے جس سے جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت متاثر ہو۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے گریز کرے مقبوضہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان نے شملہ معاہدے میں طے کیا تھا کہ معاملے کا حل پرامن طریقے سے یونائیٹڈ نیشن کے چارٹر کی روشنی میں ہی ممکن ہوگا اس لیے ہندوستان وپاکستان کو ایسے کسی بھی اقدام سے باز آنا چاہیے جو تنازعہ والے کشمیر اور جموں کی خصوصی حیثیت کو متاثر کرسکیں۔انتونیو گوتریس نے بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کی طرف سے پابندیوں کی اطلاعات پر تشویش ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پابندیاں انسانی حقوق کی صورتحال کو ابتر کرسکتی ہیں، شملہ معاہدے کے تحت مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے اس مسئلے پر اقوام متحدہ کا موقف ہماری قراردادوں سے واضح ہے۔درےں اثناءاقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیرکی انتظامیہ سیاسی مخالفین کو سزا دینے کے لیے عقوبت خانوں کا استعمال کرتی ہے، مقبوضہ وادی میں مظاہرین سے نمٹنے کے لیے ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے۔بھارت کشمیر میں اختلاف رائے دبانے کے لیے ذرائع مواصلات بند کرتا ہے اورذرائع مواصلات پرموجودہ پابندی کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔اس وقت مقبوضہ کشمیرکے سیاسی قائدین زیر حراست ہیں، مقبوضہ کشمیرکی ریاستی اسمبلی پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، پابندیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام ، نمائندے جمہوری بحث میں حصہ لینے سے محروم ہو رہے ہیں۔ترجمان اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں تازہ پابندیاں خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید ابترکریں گی، انسانی حقوق کمیٹی تنبیہ کرتی ہے کشمیر سے معلومات کا باہر نہ آنا باعث تشویش ہے۔بھارت نے آرٹےکل370 میں جو تبدلی کی ہے اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370 کے تحت بھارت حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔جموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنا ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کےلئے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔بھارت کا خطے کے امن کو تارتار کرنے کا اقدام، صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، بھارتی کالے قانون کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر آج سے بھارتی یونین کا علاقہ تصور ہو گا۔مودی حکومت نے خطے کو ایک مرتبہ پھر آگ میں جھونکنے کا ارادہ کر لیا، صدارتی حکم نامے کے ذریعے نیا کالا قانون لاگو کر دیا گیا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی جداگانہ خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا ہے، لداخ کو مقبوضہ کشمیر سے الگ کر دیا گیا۔ کالے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر اور لداخ بھارتی یونین کا حصہ تصور ہو گا۔ یہ قدم اسرائیلی طرز پر کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس تھے جن میں سےکیورٹی، خارجہ امور اور کرنسی شامل ہیں۔باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس تھے۔ بھارت اب کشمیریوں کی جداگانہ پہچان ختم کرکے متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لانا چاہتا ہے۔ اس لیے آج تک تمام کشمیری بھارت کے اس نظرئیے کی مذمت کرتے رہے ہیں۔اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے حوالے سے ان قرار دادوں کی رہی سہی اہمیت ختم ہونے کا بھی اندیشہ ہے جن کے مطابق جموں کشمیر کو متنازعہ قرار دیا گیا تھا اور پاکستان اور بھارت کو کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا ماحول بنا کر دیا جائے۔نیا بھارتی قانون کے نافذ سے مسلمان کشمیر میں اقلیت بن جائیں گے۔تاہم 35A کی آئینی شق ابھی بھی ریاست کے باشندوں کو غیرکشمیریوں کی بے تجاشا آبادکاری سے بچارہی تھی۔کشمیری بھارتی قانون میں موجود یہ حفاظتی دیوار گزرنے سے وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہوجائیں گے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار یہاں بس جائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد بھارت کے پنجاب، ہریانہ اور دہلی جبکہ پاکستان کے پنجاب اور سندھ سے لاکھوں لوگ کشمیر میں کاروبار کے سلسلے میں آتے تھے اور ان میں سے بیشتر یہاں آباد بھی ہوجاتے۔ 1927 میں جموں کے ہندو ڈوگروں نے اس ± وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ سے کہا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو جموں کشمیر کے پشتینی باشندے اقلیت میں بدل جائیں گے اور ان کی روزی روٹی بھی ختم ہوجائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دفعہ 35 اے منسوخی سے ریاست میں 1927ءسے نافذ وہ قانون متاثر ہوگا جس کے تحت کئی پشتوں سے کشمیر میں آباد افراد ہی ریاست میں غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کرنے، سرکاری ملازمتیں اور تعلیمی وظائف کے حصول اور ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں ووٹ دینے کے مجاز ہیں۔امےت شاہ نے جو تجویز پارلیمان میں پیش کی اس کے مطابق جموں و کشمیر کی تنظیم نو کی جائے گی اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر اب مرکز کے زیر انتظام ریاست یا یونین ٹیریٹری ہو گی جن کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی اور وہاں لیفٹیننٹ گورنر تعینات کیا جائے گا جبکہ لداخ مرکز کے زیر انتظام ایسا علاقہ ہوگا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔ بھارتی وزیرداخلہ کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان کے موقع پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور کشمیر میں بھی اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اندیشہ ہے۔انڈیا کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس سے بھارت جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا۔اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارت کی حکومت کے ارادے واضح ہیں، وہ جموں و کشمیر کے علاقے کو یہاں کے مسلمانوں کا قتل عام کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال سمیت وہاں پیراملٹری فورسز کی تعیناتی اور انڈین فوج کی جانب سے شہریوں کو ممنوعہ کلسٹر بموں سے نشانہ بنائے جانے پر دنےا اور اقوام متحدہ کی خاموشی حےران کن ہے‘زبانی کلامی بےانات اب بہت ہو چکے ہےں‘اقوام متحدہ مسلمانوں کے مسائل حل کرانے کے اعتبار سے اےک مردہ گھوڑے کے سوا کچھ نہےں اس لےے عالم اسلام کو متحد ہو کر اپنی متحدہ لےگ بنانے کی جانب توجہ مرکوز کرنا ہو گی‘ اقوام متحدہ پر واضح کر دےا جائے کہ بےانات سے کام نہےں چلے گا اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے‘جو ادارہ گزشتہ بہتر سالوں سے اےک مسئلے کا حل کرانے میں ذرا بھی پےشرفت نہ کر سکا ہو اس ادارے کا وجود کےا اہمےت رکھتا ہے۔افسوسناک امر ےہ کہ بھارت کے اتنے بڑے اقدام کے باوجود مسلمان ممالک نے کشمےرےوں کا ساتھ دےنے کی بجائے محض بےانات پر ہی اکتفا کےا جو انتہائی شرمناک ہے۔

Facebook Comments
Share Button