تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلی پنجاب نے تقرر و تبادلوں پر پابندی لگا دی-حکومت کا شرعی قوانین کے تحت احتجاجی مظاہروں کیخلاف مسودہ تیار حکومت نے احتجاجی مظاہرے ’’شریعت اور قانون کی نظرمیں“ کے عنوان سے مسودہ تیارکیا ہے، مسودے کو اگلے ایک ... مزید-دھماکے میں پاکستانی قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ رہا، ڈاکٹر فیصل دھماکا آئی ای ڈی نصب کرکے کیا گیا، قونصل خانے کی سکیورٹی بڑھانے کیلئےافغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان ... مزید-جلال آباد میں پاکستان سفارت خانے کے باہر دھماکا دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، دھماکا پاکستانی سفارتخانے کی چیک پوسٹ کے 200 میٹر فاصلے پر ہوا۔ ... مزید-گلوکارہ ماہم سہیل کے گانے سجن یار کی پری سکریننگ کی تقریب کا انعقاد-پاک ہیروز ہاکی کلب کی 55 ویں سالگرہ پر ٹورنامنٹ کا انعقاد-صفائی مہم کے دوران 47 ہزار ٹن کچرا نالوں سے نکالا گیا ہے‘ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی-مودی کے دورہ فرانس پر”انڈیا دہشتگرد“ کے نعرے لگ گئے جب کوئی دورہ فرانس پرتھا، ترجمان پاک فوج کا دلچسپ ٹویٹ، سینکڑوں کشمیری، پاکستانی اورسکھ کیمونٹی کے لوگوں کا ایفل ... مزید-حالیہ پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بلوچستان میں خصوصی پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے، راشد رزاق-آئی جی پولیس نے راولپنڈی میں شہری سے فراڈ کے واقعہ کا نو ٹس لے لیا

GB News

صورتحال کی سنگینی اور خطے کو لاحق خطرات

Share Button

گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست جموںوکشمیر کی قسمت کا فیصلہ ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کرانا لازمی ہے لیکن بھارت نے ان قراردادوں کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیرپر غاصبانہ قبضہ تک جما رکھا ہے اور پھر گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جس قدر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے اس کی مثال نہیں مل سکتی۔اب ریاست جموں و کشمیر کی خودمختاری کو بھی سلب کرنے اور انسانی حقوق سے کشمیری عوام کو مکمل محروم کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے خصوصاً لداخ اور جموں کو بھارتی یونین میں شامل کرنے کیلئے جو حکومت عملی اختیار کی جا رہی ہے اسے کشمیری عوام قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی متعلقہ عالمی ادارے تسلیم کریں گے۔میں گلگت بلتستان کے عوام کی جانب سے ان بھارتی سازشوں کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور اس حوالے سے گلگت بلتستان اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں تمام اراکین نے شدید رد عمل کا اظہار بھی کیا ہے کیونکہ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کے حوالے سے حکومت پاکستان اور عوام پاکستان کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام ممبران نے بھی بھرپور مخالفت کی ہے۔ گورنر راجہ جلال حسین مقپون نے مزید کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان بھر کے عوام بھارت کو ان ناپاک عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔کشمیر کی موجودہ صورتحال میں بھارت کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی خطے کے امن کو کسی بھی وقت جنگ کے جہنم میں دھکیل سکتا ہے’اب تک پاکستان کی جانب سے تحمل و برداشت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تاہم پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات کومحدود کرنے کے اقدامات اٹھائے ہیں’گزشتہ روزوفاقی کابینہ نے بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کرنے کی منظوری دی جس کے بعد وزارت تجارت نے معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونیوالے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے  کے ردعمل میں بھارت سے درآمدات اور برآمدات پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے تاہم اس پابندی سے افغانستان کے ساتھ ہونے والی تجارت متاثر نہیں ہوگی۔بھارت سے دوطرفہ تجارت غیر معینہ مدت کیلئے معطل کی گئی ہے جبکہ بھارت واسرائیل سے اشیاء کی درآمدت پر مکمل پابندی ہوگی۔دوسری جانب وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید نے سمجھوتہ ایکسپریس اور تھر ایکسپریس بند کرنے کا معاملہ کابینہ اجلاس میں رکھااور کابینہ نے سمجھوتہ ایکسپریس اور تھر ایکسپریس بند کرنے کے فیصلے کی توثیق کردی ہے اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد شروع  ہوگیا ہے چنانچہ ٹرینوں کے بعد اب پاکستان و بھارت کے درمیان بس سروس بھی معطل کردی گئی۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بس سروس معطلی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں پاک بھارت بس سروس معطل کردی گئی ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے ساتھ وہی کچھ کرنا چاہتاہے جو اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کررہاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد بھارتی عزائم ناپاک ہیں۔  وہ لوگ کہاں جائیں جو اقوام متحدہ میں انصاف کیلئے جاتے تھے۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے اپنے ٹوئٹ میں کشمیریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ساتھ کیا ہونیوالا ہے لیکن میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ اللہ قادر مطلق کی طرف سے جو بھی منصوبہ بندی کی جاتی ہے وہ ہمیشہ بہتر ہوتی ہے۔ ہم شائد اللہ کی حکمتوں کودیکھ نہ پائیں لیکن ہم کو ان میں شک نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ کرے کہ آپ سب کیلئے بہتری ہو۔یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے اسرائیل میں جب دوسرے ملکوں سے یہودی جاکر آباد ہوئے تو مقامی یہودی اقلیت میں چلے گئے تھے اور اب بھی وہ اقلیت ہیں اور ایسا ہی جموں کے ہندوؤں کے ساتھ ہوگا۔بھارتی حکومت کے نئے ڈرامے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں ختم ، اقلیتیں بھی خطرے میں اور ٹرمپ کی ثالثی بھی ختم ہوگئی۔ اسرائیل نے جو کچھ فلسطین میں کیا وہی اب بھارت کشمیر میں ہونے جارہا ہے۔مودی کو ایک اور باری مل گئی تو نوٹوں پر گاندھی کی بجائے گائے کی تصویر ہوگی۔ بھارت کا کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کرنے کا اقدام شرمنا ک ہے ۔ مودی کو آدھا بھارت قاتل مانتاہے ۔کس قدر افسوسناک بات ہے کہ ڈیڑھ ارب انسانو ں پر پاگلوں کا ایک جتھا حکومت کر رہا ہے۔ بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو بیرون ملک ہی نہیں اپنے ملک میں بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ نے نئی دہلی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اقدام کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک بری مثال قائم کرے گا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مرکز صرف ایک صدارتی فرمان کا نفاذ کرکے ملک میں کسی بھی ریاست کی تنظیم نو کرسکتی ہے۔بھارت کے آئین کو قانونی دفعات کی پیروی کیے بغیر دوبارہ لکھا گیا۔اس طرح کے تاریخی فیصلے کو صوابدیدی انداز کے ذریعے نہیں لینا چاہیے تھا۔امرندر سنگھ کا کہنا تھا کہ صدارتی حکم نے موثر طریقے سے آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت کی پارلیمانی ضرورت کو بائی پاس کیا۔بی جے پی نے اپنی اکثریت کو استعمال کرتے ہوئے جمہوری اورآئینی اقدا م کو منہدم کردیا ہے۔حیرت ہے آرٹیکل 371(اے) ناگالینڈ کے لیے  بھی موجود ہے مگر چونکہ اس سے چھیڑ چھاڑ میں سیاسی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے اس لیے اس کی جانب کوئی توجہ نہیں دی  گئی۔ اسی طرح کی خصوصی مراعات ہماچل پردیش کو بھی حاصل ہیں۔اروناچل پردیش میں کوئی بلااجازت داخل نہیں ہوسکتا اور نہ زمین جائیداد خرید سکتا ہے۔ امیت شاہ کہتے ہیں دفعہ 35 اے کے چلے جانے سے کشمیر میں سرمایہ کاری ہوگی اور خوشحالی آئے گی۔ کشمیر تو دور فی الحال پورا ملک بدحالی کی لپیٹ میں ہے۔ پچھلے دو ماہ سے شیئر بازار برابر گرتا جارہاہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار نے ہزاروں کروڑکے شیئر بیچ دیئے ہیں۔ پرامن علاقوں میں بھی سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے تو شورش زدہ وادی میں کون جائے گا؟ جو سرکار امرناتھ یاتریوں کو تحفظ نہیں فراہم کرسکتی وہ بیرونی سرمایہ کاروں کی حفاظت کا بندوبست کیسے کرے گی ؟ ہردن کسی نہ کسی بڑی کمپنی کے دیوالیہ کی خبر آتی ہے۔ ایس بی آئی کا منافع بھی چار گنا کم ہوگیا ہے۔ جموں کشمیر کے انتخابات عنقریب ہونے والے ہیں اس لیے بی جے پی چاہے گی کہ جموں کے سارے ہندو خوش ہوکر اس کو ووٹ دیں اور کشمیر کے ووٹ تین حصوں میں منقسم ہوجائیں تاکہ اس کو اپنی سرکار بنانے کا موقع مل جائے لیکن جموں کے شمالی علاقوں میں بھی مسلمان آباد ہیں نیز کشمیر میں اس بار این سی اور کانگریس متحدہوکر انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ بی جے پی چونکہ معیشت کے میدان میں بری طرح ناکام ہوچکی اور عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہے اس لیے عنقریب ہونے والے دیگر چار صوبوں کے انتخاب جیتنے کے لیے بھی آرٹیکل 370 کا استعمال کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جے ڈی یو جیسی بی جے پی کی حلیف نے اس کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پاکستان بھارت کے مدموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

Facebook Comments
Share Button