تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلی پنجاب نے تقرر و تبادلوں پر پابندی لگا دی-حکومت کا شرعی قوانین کے تحت احتجاجی مظاہروں کیخلاف مسودہ تیار حکومت نے احتجاجی مظاہرے ’’شریعت اور قانون کی نظرمیں“ کے عنوان سے مسودہ تیارکیا ہے، مسودے کو اگلے ایک ... مزید-دھماکے میں پاکستانی قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ رہا، ڈاکٹر فیصل دھماکا آئی ای ڈی نصب کرکے کیا گیا، قونصل خانے کی سکیورٹی بڑھانے کیلئےافغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان ... مزید-جلال آباد میں پاکستان سفارت خانے کے باہر دھماکا دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، دھماکا پاکستانی سفارتخانے کی چیک پوسٹ کے 200 میٹر فاصلے پر ہوا۔ ... مزید-گلوکارہ ماہم سہیل کے گانے سجن یار کی پری سکریننگ کی تقریب کا انعقاد-پاک ہیروز ہاکی کلب کی 55 ویں سالگرہ پر ٹورنامنٹ کا انعقاد-صفائی مہم کے دوران 47 ہزار ٹن کچرا نالوں سے نکالا گیا ہے‘ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی-مودی کے دورہ فرانس پر”انڈیا دہشتگرد“ کے نعرے لگ گئے جب کوئی دورہ فرانس پرتھا، ترجمان پاک فوج کا دلچسپ ٹویٹ، سینکڑوں کشمیری، پاکستانی اورسکھ کیمونٹی کے لوگوں کا ایفل ... مزید-حالیہ پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بلوچستان میں خصوصی پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے، راشد رزاق-آئی جی پولیس نے راولپنڈی میں شہری سے فراڈ کے واقعہ کا نو ٹس لے لیا

GB News

سکردو،یاسین : آسمانی بجلی گرنے اورتیزبارش کی وجہ سے سیلاب نے تباہی مچادی

Share Button

سکردو،یاسین(نمائندگان) سکردواوریاسین کے کئی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے اورتیزبارش کی وجہ سے سیلاب نے تباہی مچادی۔سکردومیں آسمانی بجلی گرنے کے باعث گیول،شگری کلاں اورگمبہ سکردوکے کئی علاقے شدیدمتاثرہوئے جہاں سیلابی پانی گھروں امام بارگاہوں اور باغات میں داخل ہوگیا 20 کے قریب مکانات مکمل طورپر منہدم ہوگئے جس کی وجہ سے صورت حال پیچیدہ ہوگئی سینکڑوں گھروں کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر خالی کرالیا گیا سیلابی پانی ہزاروں کنال پر کاشت کھڑی فصلیں اور سینکڑوں درخت بھی بہا لے گیا اور لوگوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا لوگ اپنی مدد آپ کے تحت متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچاتے رہے کئی بکریاں بھی سیلابی پانی کی زد میں آکر ہلاک ہوگئیں علاقے میں قیامت صغرا برپا ہوگئی سیلاب کی فوری اطلاع دئیے جانے کے باوجود بھی انتظامیہ تماشہ دیکھتی رہی گورنر وزیر اعلی کمشنر بلتستان ڈویڑن ڈپٹی کمشنر سکردو اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اٹھارٹی کے حکام کو فوری طور پر اطلاع دئیے جانے کے باوجود سیلاب سے علاقے کو محفوظ رکھنے کیلئے کوئی کام نہیں کیا گیا جب بھی ذمہ دار حکام کو فون کیا گیا یہی جواب ملتا رہا کہ مشینری متاثرہ علاقوں میں بھیج دی گئی ہے لیکن پانچ گھنٹے گذرنے کے بعد بھی مشینری علاقے میں نہ پہنچ سکی جب شام کے بعد بھی مشینری نہ پہنچی تو متاثرین سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں شاہراہ سکردو کو بلاک کردیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی متاثرین نے کہاکہ انتظامیہ اور صوبائی حکومت ہماری مصیبت اور پریشانیوں پر خوشیاں منارہی ہے اگر فوری طور پر کارروائی کی جاتی تو نقصان نہ ہوتا انتظامیہ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی بروقت مشینری نہ پہنچنے کی وجہ سے بڑے پیمانے تباہی مچ گئی انہوں نے کہاکہ علاقے میں پچھلے سال بھی سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی 20 گھر دب گئے تھے اس کے باوجود متاثرین کو اب تک حکومت کی طرف سے کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی ہیں ہر وقت حیلے بہانے کئے جاتے رہے صوبائی حکومت ناکام ہوگئی ہے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی آباد کاری اور بحالی کیلئے پاک فوج آگے بڑھے ہمیں حکومت پر کوئی اعتبار نہیں یہ جھوٹی حکومت ہے اس کا کام صرف کرپشن کرنا ہے عوام کی اس کو کوئی فکر نہیں ہے ۔ ہمیں دھوکہ دیا گیا پانچ گھنٹے تک مشینری نہیں پہنچی جس کی وجہ سے علاقہ تباہ ہوگیا۔دوسری جانب انتظامیہ نے رات گئے مشینری پہنچادی ہے اسسٹنٹ کمشنر سکردو حافظ کریم داد چغتائی اور دیگر عملہ موقع پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ادھریاسین طاؤس کے مقام پر سیلابی پانی رہائشی محلوں میں داخل ہوگیا لوگوں نے بھاگ کر جان بچائی سیلابی ریلے سے پھلدار درختوں کے باغ اور تیار کھڑی فصلیں برباد ہوگئی ہیں جبکہ یاسین کے بالائی علاقہ درکوت،اور قرقلتی کا زمینی رابط بھی منقطع ہوگیا ہے یاسین میں ہونے والی مختصر دورانیے کی بارش کے نتیجے میںیاسین کے بالائی علاقے درکوت نالے میں طغیانی سے درکوت کو ملانے والا واحد جیب ایبل پل بہہ گیاہے۔جبکہ یاسین قرقلتی کے پانچ مقامات پر سیلاب کے باعث قرقلتی کو ملانے والی سٹرک پانچ جگہوں سے بلاک ہوئی ہے۔درکوت نالے پر موجود پل بہنے سے درکوت مین روڑ اور سیلابی ریلے کے باعث قرقلتی مین شاہراہِ بند ہونے کے باعث دونوں علاقوں کا رابط منقطع ہے۔یاسین کے بالائی علاقہ سندھی کے گاؤں غوسنومداس کے مقام پر آنے وی سیلاب کے باعث دو مختلف گھرانوں کے گندم کی کھڑی فصل اور درخت سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔ دس سے پندرہ منٹ پر مشتمل مختصر سی بارش سے یاسین کے دومختلف علاقے درکوت اور قرقتلی کا زمینی رابط گزشتہ بارہ گھنٹوں سے منقطع ہے۔جس باعث درکوت اور قرقتلی کے آنے جانے والے مسافروں کے علاؤہ علاقے کے لوگوں کو شدید سفری مشکلات درپیش ہے۔

Facebook Comments
Share Button