تازہ ترین

GB News

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی مخدوش، مودی کو جواب دینا ہوگا، امریکہ

Share Button

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی قیام پاکستان اور برصغیر کی تقسیم کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کی جانب سے پیش کردہ دو قومی نظریے کی سچائی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی فہم و فراست کے قائل و معترف ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اس کا برملا اعتراف بھی کیا ہے۔بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہائوس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رومینیا کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی صورتحال انتہائی دھماکہ خیز اور مشکل ہے۔امریکی صدر نے دوران پریس کانفرنس رومینیا کے صدر کی موجودگی میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک مشکل مسئلہ ہے کیونکہ وہاں مسلمان اور ہندو دونوں مقیم ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں مسلمان اور ہندو آباد ہیں۔ امریکہ کے صدر نے تسلیم کیا کہ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ وہاں آباد مسلمانوں اور ہندوں کے درمیان میل جول قائم ہے اور دونوں کے مابین تعلقات ہیں ۔پریس کانفرنس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر عرصے سے حل طلب ہے۔دوسری جانب وائٹ ہائوس حکام نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لئے تیار ہیں، جی سیون سمٹ میں وزیراعظم نریندر مودی سے مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے۔ مودی جہاں بھی جائیں گئے مقبوضہ کشمیر پر جواب دہ ہونا ہی پڑے گا۔ وائٹ ہائوس حکام کا کہنا ہے واشنگٹن مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ مودی سے سمٹ کی سائیڈ لائن پر ملاقات کریں گے۔

Facebook Comments
Share Button