تازہ ترین

GB News

مودی ہٹلر کے پیروکار، بھارت خطے میں نئی جنگ کے بیج بورہا ہے،میجر جنرل آصف غفور

Share Button

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہٹلر کے پیروکار ہیں اور بھارت خطے میں نئی جنگ کے بیج بورہا ہے جبکہ کشمیر پر ڈیل ہماری لاشوں سے گزر کر ہوگی۔ بھارت کا ایسا کوئی اقدام قبول نہیں جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے منافی ہو۔ وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی لیکن پاکستان کی مخلصانہ مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں بھارت نے جہاز بھیجے، بھارت کے بھیجے گئے جہاز کا کیا حال ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے۔ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی ہو سکتی ہے لیکن بھارت کو 27 فروری کی حرکت یاد رکھنی چاہیے، بھارت نے کوئی حرکت دہرائی تو اسکوارڈن لیڈر حسن اور نعمان موجود ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے اور پاکستان نے ہمیشہ چاہا کہ مسئلہ کشمیر پْر امن طریقے سے حل ہو۔سلامتی کونسل میں 50 سال بعد کشمیر پر بات ہوئی، وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے عالمی رہنماؤں سے بات چیت کی، مودی کہتے ہیں انہیں ثالثی قبول نہیں، صدر ٹرمپ ہر بات منہ پر کہتے ہیں،مسئلہ کشمیر عالمی منظر نامے پر سامنے آ رہا ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خطے میں عالمی طاقتوں کے مفادات ہیں، لیکن جس کے جو بھی مقاصد ہیں وہ پاکستان کو نظرانداز کرکے پورے نہیں ہوسکتے، بھارت میں ہٹلر کے پیروکار نریندر مودی کی حکومت ہے، ہمارا خطہ طاقت کی عالمی کشمکش کا مرکز ہے، بھارت کو پتہ ہے کہ پاک فوج مغربی سرحد سے فارغ ہورہی ہے، اس لیے وہ خطے میں نئی جنگ کا بیج بورہا ہے، بھارت چاہتا ہے کوئی ایسا کام کریں پاکستان بھرپور جواب نہ دے سکے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خطے کے امن کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے، مودی حکومت نہرو کے نظریے سے منہ موڑ چکی ہے اور نازی نظریے پر قائم ہے، یہ وہی نظریہ ہے جس نے گاندھی اور گجرات میں مسلمانوں کو قتل کیا، بھارت میں مسلم اور دیگر اقلیتیں ہندو انتہا پسندی کی سوچ کی شکار ہیں، پاکستان نے پچھلے بیس سال میں دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیا، اس دوران بھارت نے ہماری توجہ ہٹانے کیلئے مشرقی سرحد پر بلااشتعال کارروائیاں کیں۔انھوں نے کہا کہ ہماری سانسیں کشمیروں کے ساتھ چلتی ہیں، ہم ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، کشمیر ہماری شہ رگ اور ایک عالمی تنازع ہے، بدقسمتی سے عالمی طاقتوں نے مسئلہ کشمیر میں دلچسپی نہیں دکھائی، کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، خصوصی حیثیت ختم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کشمیر کی جغرافیائی صورتحال کو اس طرح تبدیل کیا جائے کہ کشمیری وہاں نہ رہ سکیں۔امریکا کے دورے اور کشمیر پر ڈیل سے متعلق سوال کے جواب میں آصف غفور نے کہا کہ آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر ہم کوئی بھی ڈیل کرلیں گے، کشمیر پر ڈیل ہماری لاشوں سے گزر کر ہوگی، کشمیر ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، اگر 72 سال سے موقف سے پیچھے نہیں اٹھے تو اب کیوں ہٹیں گے، کشمیر کے لیے کوئی بھی قدم اٹھائیں گے اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے چاہے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے، کشمیر پر کوئی سودے بازی اور کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کشمیر ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کسی بھی قسم کے حالات کے لیے تیار ہیں، بھارت جان لے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں اور معیشت سے نہیں لڑی جاتیں، جنگ لڑنا جنگ کا حصہ ہوتا ہے، جنگ سے پہلے اور جنگ کے دوران قومی طاقت اپنا کردار ادا کرتی ہے، سارے منصوبے تیار ہیں، فوج اپنے منصوبے پریس کانفرنس میں نہیں بتاتی، قوم اطمینان رکھے، کیا کرنا ہے یہ آپ کو پتہ ہے، کیسے کریں گے یہ ہم پر چھوڑ دیں۔ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہماری نوفرسٹ یوز کی کوئی پالیسی نہیں، ہماری پالیسی ڈیٹرنس (دفاع) کی ہے، اس کے لیے جو بھی اس کا استعمال ہے ریاستی پالیسی کے مطابق ہوگا۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ تمام باتیں من گھڑت ہیں کہ آمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے 125 جرنیلوں کی پروموش رکی ہے، یہ سب یوٹیوب کی ا?وازیں ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے، ایک کے بدلے ایک ہی پروموشن ہوتی ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم ایک پیشہ ور فورس ہیں، حکم کی تعمیل اور سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں، آرمی چیف جس طرف دیکھتے ہیں فوج اس طرف دیکھتی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمارا ایک پڑوسی افغانستان ہے جہاں 40 برس سے جنگ ہو رہی ہے، افغانستان والوں نے 40 برس میں جنگ، قربانیوں، اور شہادتوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا، ہم نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا بھروپور کردار ادا کیا اور ابھی جو امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اس میں بھی پاکستان کا کردار ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ چین کی معیشت کا بھی خطے میں اہم کردار ہے جب کہ ایران کی بارڈر فورس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور ایران کے ساتھ جڑی سرحد پر فینسنگ کی جا رہی ہے۔

Facebook Comments
Share Button