تازہ ترین

GB News

بھارت نے پانچ سو ہندوﺅں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل دے دیا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

Share Button

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ خطرناک صورتحال میں اقوام متحدہ،او آئی سی، اور دیگر عالمی تنظیموں کو مثبت اور فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے،کمیٹی متفقہ طور پر بین الاقوامی برادری سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزیر خارجہ اور سیکرٹری دفاع سے بریفنگ بھی طلب کر لی۔جمعہ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کا اجلاس چیئرمین رانا شمیم احمد خان کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں سیکرٹری جموں کشمیر لبریشن سیل نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت نے پلان کیا ہوا ہے کہ ہندو ہی کشمیر میں رہیں کسی اور مذہب کے لوگ نہ ہوں،ہندوﺅں کے بچوں کو جموں و کشمیرمیں رہائش دی جا رہی ہے،پانچ سو ہندو بچوں کو ڈومیسائل دے دیئے گئے پانچ ہزار مزید دیئے جانے کا پلان ہے،وہاں جا کر کوئی بھی الیکشن لڑ سکتا ہے،جو لوگ جموں وکشمیرسے ہجرت کر گئے ہیں ان کی زمینیں بھی ہندوں کو الاٹ کی جا رہی ہیں،وہاں ہندوﺅں کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے تاکہ وہاں مسلمان کم ہو جائیں،انٹر نیشنل فورم پر اس ایشو کو اٹھایا جائے،اس وقت کچھ پتہ نہیں وہاں کیا ہو رہا ہے. ریڈ کراس کو وہاں بھیجا جائے،تمام ارکان پارلیمنٹ ایل او سی پر جائیں تاکہ وہاں کے لوگوں کو ایک حوصلہ ملے، اجلاس کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ظلم کہ انتہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج کرفیو کا 33 واں روز ہے ،لوگوں کو گولیاں ماری جارہی ہیں ، کاروبار زندگی بند ہے ، خوراک میسر نہیں ، دوائیاں ناپید ہیں ، کشمیریوں قیادت جیلوں میں ہے ، خواتین کی عصمت دری ہو رہی ہے،بچوں کے حقوق سلب ہیں ، تعلیم بھی بند ہے ،نوجوانوں پر تشدد ہو رہا ہے ، نمازیں تک نہیں پڑھنے دی جارہیں ، یہ نسل کشی نہیں تو کیا ہے اور عالمی برادری اس پر خاموش ہے صرف اس لیئے کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے، خطے کی موجودہ خطرناک صورتحال میں اقوام متحدہ او آئی سی اور دیگر عالمی تنظیموں اور طاقتوں کو مثبت اور فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے،کمیٹی متفقہ طور پر بین الاقوامی برادری سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

Facebook Comments
Share Button