تازہ ترین

GB News

سرکاری کالجز کے شرمناک نتائج، جامعات میں مالی مسائل، گلگت بلتستان میں تعلیمی بحران

Share Button

انٹرمیڈیٹ کے شرمناک نتائج کے بعد گلگت بلتستان کی دونوں یونیورسٹیاں مالی بحران کا شکار ہو گئیں، قراقر م یونیورسٹی کے بعد اب بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر مالی پیکج کا مطالبہ کر دیا ہے، یوں لگتا ہے کہ اس وقت پورے خطے میں تعلیمی بحران پیدا ہوگیا ہے، گلگت بلتستان میں تمام تر حکومتی دعووں کے برعکس تعلیمی نظام بہتر ہونے کے بجائے قابل رحم ہوچکا ہے۔انٹرمیڈیٹ کے حالیہ شرمناک نتائج سے محکمہ تعلیم کی قلعی کھل کرسامنے آچکی ہے جبکہ قراقرم یونیورسٹی میں درپیش مالی بحران اور بلتستان یونیورسٹی میں فنڈز کی شدید قلت کے باعث اعلی’ تعلیم کے فروغ کے لیے قائم جامعات میں بھی مختلف بحران پیدا ہوگئے ہیں دوسری جانب مفت کتابیں،سکول بیگ اور جوتے تک تقسیم کرنے کے باوجود سرکاری ہائی،پرائمری اور مڈل سکولوں میں بھی درس و تدریس کاماحول بہتر نہیں ہو پارہا۔خدشہ ہے فیڈرل بورڈ کے تحت امتحانات میں اس سال ہائی سکول سطح پر بھی نتائج انتہائی قابل رحم سامنے آسکتے ہیں۔صوبائی حکومت اور بالخصوص محکمہ تعلیم کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود جس طرح کے نتائج انٹرمیڈیٹ لیول کے کالجز کے سامنے آئے ہیں وہ نہ صرف قابل مزمت ہے بلکہ محکمہ تعلیم کے چہرے پر بدنماداغ ہے ، انٹرمیڈیٹ میں بدترین نتائج سامنے آمنے پر جی بی کے عوام ششدر رہ گئے، فیڈرل بورڈ کے نتائج کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام سرکاری کالجوں کا مجموعی نتیجہ بیس فیصد سے بھی کم تھا، سب سے بہتر نتیجہ کھرمنگ انٹر کالج کا آیا جس کا رزلٹ 69فیصد رہا جبکہ سکردو ڈگری کالج میں چھ سو سے زائد طلباءمیں سے صرف ایک سو تیس کے قریب طلبہ پاس ہوئے، ایک کالج کے تو تمام کے تمام طلباءفیل ہو گئے،دوسری جانب گلگت بلتستان میں ایجوکیشن سسٹم میں بہتری، یورپی نظام تعلیم لانے اور سکولوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کے بلند بانگ دعوے بہت کیے گئے لیکن ان دعوﺅ ں کی حقیقت انٹرمیڈیٹ کے بدترین نتائج نے بے نقاب کر دیا۔ بھاری تنخواہیں اور مراعات لینے کے باوجود گلگت بلتستان کے حالیہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت کے تمام تر دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ہیں اور محکمہ تعلیم کی خراب کارکردگی کھل کر سامنے آچکی ہے انٹرمیڈیٹ سطح کے خراب نتائج کے ذمہ دار خود حکومت نے سفارشی اور نالائق پرنسپلز پر عائد کیا ہے جبکہ حکومت نے اس کمزوری کا اعتراف نہیں کیا ہے کہ اب بھی بیشتر کالجز میں سبجیکٹ سپیشلسٹ لیکچررز کی کمی کا سامنا ہے۔مختلف کالجز کے پرنسپلز اعلی’ تعلیم کے بہانے ملک سے باہر ہیں یا پھر اپنے سٹیشنوں پر موجود نہیں۔گلگت بلتستان کو ملک بھر میں آزاد کشمیر کے بعد سب سے زیادہ شرح تعلیم رکھنے کا اعزاز حاصل ہے تاہم جامع قراقرم اور جامع بلتستان میں پیدا ہونے والے سخت مالی بحران اور انٹرمیڈیٹ کے شرمناک نتائج سے پورے ملک میں اس خطے کی جگ ہنسائی ہوئی ہے اور علاقے میں پہلی بار نظام تعلیم شدید بحران کا شکار ہوا ہے۔

Facebook Comments
Share Button