تازہ ترین

Marquee xml rss feed

چونیاں واقعہ:وزیراعلیٰ کا ملزمان کی نشاندہی کرنیوالےکونقد انعام دینےکا اعلان جوبھی ملزمان کی نشاندہی کرے گا اس کو 50 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا، معطل افسران کی پوسٹنگ ... مزید-تبدیلی کے نام نہاد دعویداروں نے کینسر کے مریضوں کی دوائیاںبند کردی‘پرویز ملک کینسر کی دوائی نہ ملنے کیوجہ سے مرنیوالے 4 مریضوں کے قتل کا مقدمہ وزیر صحت کیخلاف درج کیا ... مزید-آئی جی پنجاب سے کینیڈین ہائی کمیشن کے تین رکنی وفد کی سنٹرل پولیس آفس میں ملاقات دوران ملاقات منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کے خلاف آپریشنز کیلئے انفارمیشن شیئرنگ کو مزید ... مزید-آئی جی سندھ سے چین کے قونصل جنرل کی ملاقات ، سیکیورٹی اقدامات سمیت باہمی دلچسپی کے امورپرتفصیلی تبادلہ خیال-اثاثہ جات کیس، خورشید شاہ کو پولی کلینک ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا-مہنگائی کی صورتحال آئندہ دو سال تک ایسی ہی رہے گی، ڈپٹی گور نر اسٹیٹ بینک-وزیراعلی سندھ کا پوری صفائی کا کام دستاویزی طریقے سے کرنے کا حکم ہر ضلع صاف کرکے ڈی ایم سی کے حوالے کرنا ہے ، ڈیم ایم سی کو چاہیے پھر صفائی کو برقرار رکھیں،مراد علی شاہ ... مزید-Careem اور MicroEnsure کے باہمی اشتراک سے انشورنس ایپ متعارف کروا دی گئی کریم اور MicroEnsure کے اشتراک سے کریم ایپ کے تمام صارفین (بشمول کریم کپتان اور مسافر) کے لیے ایسی سہولیات متعارف ... مزید-سوشل میڈیا پر اپنے خاوند کے خلاف شکایت کرنے والی فیشن بلاگر آمنہ عتیق اگلے ہی روز مردہ حالت میں پائی گئی آمنہ عتیق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر اپنے شوہر کے ناروا ... مزید-حکومت اورعوام کو تیل اورگیس کے ذخائرکی بڑی خوشخبرمل گئی گولارچی میں خام تیل اورگیس کے 2 بڑے ذخائردریافت، تیل اورگیس کے ذخائرکی تعداد 8 ہوگئی، علاقے میں تیل اور گیس کے ... مزید

GB News

قراقرم ےونےورسٹی کےلئے گرانٹ کی فراہمی کا اعلان

Share Button

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے قراقرم یونیورسٹی کیلئے فیسوں کی مدمیں ساڑھے چار کروڑ روپے گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ سابق وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹیز کو بھرپور وسائل فراہم کئے جس کی وجہ سے سابقہ وفاقی حکومت کے دور میں قراقرم یونیورسٹی کو کسی قسم کے مالی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مگر نیا پاکستان کے نعرے لگانے والے تعلیم اور تبدیلی کے نعرے لگاکر حکومت میں آئے اور تعلیم کے شعبے کو بھی نہیں بخشا۔تبدیلی سرکار سرمایہ داروں اور وڈیروں کے اربوں روپے معاف کرسکتی ہے تو اعلیٰ تعلیمی اداروں کے بجٹ میں کیوں اضافہ نہےں کرسکتی ۔انہوںنے کہاکہ قراقرم یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے فیس ری ایمبرسمنٹ سکیم کو بحال کرانے کے لیے بھی صوبائی حکومت بھرپور کوشش کرے گی۔ قراقرم یونیورسٹی ایک قومی اثاثہ ہے۔ ادارے کو مالی بحران سے نکالنے کیلئے اعلان کردہ گرانٹ کی پہلی قسط بیس دنوں کے اندر یونیورسٹی کو ادا کی جائے گی۔گرانٹ کا باقی حصہ تین مختلف قسطوں میں صوبائی حکومت ادا کریگی۔ وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی میں ہائرایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ اور سٹوڈنٹس سکالرشپ فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی۔ انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کے لئے یونیورسٹی کے ساتھ مل صوبائی حکومت معاونت فراہم کریگی جبکہ سٹوڈنٹس سکالرشپ فنڈ کے لئے تمام بینکوں اور مخیر حضرات سے تعاون لےا جائے گا۔ اس فنڈ کے ذریعے یونیورسٹی کے ناداراورغریب مگر ذہین طلباءکی بھرپور مالی معاونت کی جائیگی۔وزےر اعلی ی جانب سے فےسوں میں کمی اور قراقرم ےونےورسٹی کے مالی بحران کے حل کے لےے گرانٹ کا اعلان انتہائی مثبت قدم ہے ےہ درست ہے کہ تعلےمی اداروں کو گرانٹ کی کمی کا شکار نہےں ہونا چاہےے کےونکہ ےہاں ہمارا مستقبل پروان چڑھتا ہے‘ستم ظرےفی ےہ ہے کہ ہمارے ہاں پہلے ہی تعلےمی بجٹ بہت کم ہے اس پر مستزاد ےہ کہ اس پہ کٹ بھی لگا دےا گےا ہے‘حالانکہ ےہ کٹ حکومتی اخراجات‘وزراءکے خرچ اور بے جا مصارف پر ہونا چاہےے‘ناقص کارکردگی والے وزراءاور اراکےن کی تو تنخواہےں بھی روک دی جانی چاہےےں کجا ےہ کہ انہےں بے تحاشا مراعات کچھ نہ کرنے کے نتےجے میں دی جائےں‘بعض گونگے بہرے اراکےن تو پانچ سال اےک لفظ نہےں بولتے انہےں کس کارنامے کے تحت مراعات دی جاتی ہےں‘پوری دنےا کے تعلےمی بجٹ کا جائزہ لےا جائے تو ےہ شرمناک صورتحال سامنے آئے گی کہ ہم تعلےم پر سب سے کم صرف کرنے والے ممالک میں شامل ہےں‘وزےراعلی کی ےہ بات بھی درست ہے کہ سرماےہ کاروں اور وڈےروں کے اربوں روپے کےوں معاف کےے گئے ہےں حالانکہ ان امور کے حوالے سے مخالفت کا طوفان کھڑا کےا جاتا تھا لےکن اب وہ سارے کام خود کےے جا رہے ہےں‘قرضوں کی مخالفت کر کے قرضے لےے جا رہے ہےں‘پولےس کی صورتحال پر بڑی نقد کی جاتی تھی ےہ پہلے سے کہےں بدتر ہو چکی ہے‘ معصوم افراد تھانوں میں تشد دسے مارے جا رہے ہےں‘پولےس گردی عروج پر ہے‘مےرٹ کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے‘ پروٹوکول پہلے سے بڑھ چکا ہے‘عوام انگشت بدنداں ہےں کہ قول و فعل کا ےہ تضاد الامان و الحفےظ‘مہنگائی بلندےوں کو اس طرح چھو رہی ہے کہ لوگوں کے لےے جےنا محال ہو چکا ہے‘پٹرولےم مصنوعات تارےخ کی مہنگی ترےن سطح پر ہےں‘ کوئی شعبہ زندگی اےسا نہےں جس میں بہتری پےدا ہوئی ہو‘عوام سے قربانےاں طلب کی جا رہی ہےں لےکن خود قربانےاں دےنے سے احتراز کےا جاتا ہے‘طرز عمل میں ماضی کی بہ نسبت کوئی تبدےلی نہےں ہوئی ‘تعلےمی سہولےات کی فراہمی حکومت کی بنےادی ذمہ داری ہے‘ ےہ عوام ہی کا پےسہ ہے جو عوام پر صرف کرنے سے گرےز کےا جا رہا ہے‘ےہ توقع کی جا رہی تھی کہ موجودہ دور میں تعلےم کا شعبہ فروغ پائے گا لےکن حکومت نے آتے ہیسب سے پہلے تعلیمی بجٹ پر کٹ لگایا ہے اور14ارب روپے کی کٹوتی کردی حالانکہ مالی سال 2018‘19ءمیں وفاق کی سطح پر یہ بجٹ 57ارب روپے تھا۔حےرت ےہ ہے کہ وزےراعظم عمران خان الیکشن سے قبل ےہ کہتے رہے ہےں کہ تعلیم کے لیے قومی بجٹ کا 20 فیصد مختص کیا جائے گا۔ عمران خان نے اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹل میں 22 نکاتی تعلیمی منشور کا اعلان کےا اور کہا تھا کہ پاکستان میں دو کروڑ بیس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جنہیں اسکولوں میں لانا اولین ترجیح ہو گی۔ ہیومین کیپٹل ڈویلپمنٹ کے لیے قومی کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کا کام تعلیم کے مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی ضروریات کا جائزہ لینا ہوگا۔ تعلیمی معیار کے لیے قومی کمیشن بنایا جائے گا۔ تعلیمی میدان میں بہتری کے لیے ترقی پذیر دنیا کا سب سے بڑا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔دور دراز علاقوں میں تعلیم تک رسائی کے لیے نوجوان کاروباری طبقے کے لیے ایجوکیشن فنڈ قائم کیا جائے گا جس کا مقصد ٹیکنالوجی اور کیمونیکیشن پر مبنی سلوشنز تیار کرنا ہوگا۔ ملک میں ہر سال لڑکیوں کے اسکولوں کو سیکنڈری کی سطح پر اپ گریڈ کیا جائے گا اور سیکنڈری طلباءکے لیے ملک بھر میں ریڈیو، ٹیلی ویژن، اور آن لائن سیلف سرفنگ پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ اسکول جانے والی طالبات کو وظیفہ دیا جائے گا۔ نیشنل سٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی جو امتحانی بورڈ بنائے گی پھر یکساں مرکزی امتحانی اسکیم تشکیل دی جائے گی۔کم از کم دس تکنیکی یونیورسٹیاں قائم کریں گے وغیرہ ۔لےکن ان پراجیکٹس کو بجٹ میں ڈسکس ہی نہیں کےا گےا‘ تعلیمی وہیلتھ بجٹ پر کٹ افسوسناک ہے ۔ چیئرمین ایچ ای سی پی کہہ چکے ہےں کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ ڈیمانڈ میں پچاس فیصد کٹوتی کی گئی ہے، اگر اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سر مایہ کاری نہ ہوئی تو مستقبل تاریک ہو گا۔ پاکستان نے یونیورسٹیوں کے چھ بڑے پراجیکٹس بند کر دیے ہیں۔ ان پراجیکٹس میں نوجوان فیکلٹی پر پی ایچ ڈی کرنے پر پابندی بھی شامل ہے۔پاکستان تعلیم پرجی ڈی پی کا محض 2.14 فیصد خرچ کرتا ہے، جو جنوبی ایشیاءمیں سب سے کم ہے۔ امریکا میں تعلیمی بجٹ 17فیصد، برطانیہ میں 14.5فیصد، جاپان میں 13فیصد اور بھارت میں 3.7فیصد ہے ۔ امریکا کی ایک یونیورسٹی کا بجٹ پاکستان کے سارے تعلیمی بجٹ کے برابر ہے۔ اس وقت دنیا کی ٹاپ ٹین یونیورسٹیوں میں سے 8 یونیورسٹیاں امریکا کی ہیں۔2003ءسے 2008ءکے دور کو اعلیٰ تعلیم کا سنہری دور کہا گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے بھارت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی تھیں لیکن آج ہم دنیا میں 135ویں نمبر پر آگئے ہیں۔ بجٹ میںکمی کے باعث جامعات طلباءکی بڑھتی ہوئی تعداد، ان کے لئے اساتذہ اور انفرا سٹرکچر، سائنسی آلات، تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافے کے بوجھ تلے دبے چلے جارہی ہیں۔کم بجٹ کی فراہمی کے بعد اےچ ای سی نے ملک کی تمام سرکاری یونیورسٹیز میں تحقیق کی مد میں رقومات کم کردی ہیں اور بعض پروگرام بند بھی کردیئے ہیں۔ سائنسی آلات، غیر ملکی کانفرنسز میں شرکت کے لئے سفری اخراجات، غیر ملکی وظائف، میں کمی کردی گئی ہے۔ مزید بجٹ میں کٹوتی کے نتیجے میں کئی پروجیکٹس بند کردیئے جائیں گے۔ جس سے لامحالہ طلباءکی فیس اور مختلف سرٹیفکیٹس کے اجراءکی فیس میں اضافے ناگزیر ہو جائیں گے۔ کچھ عرصہ قبل وائس چانسلرز کمیٹی نے بجٹ میں کٹوتی کی صورت میں سرکاری یونیورسٹیوں کی فیسوں میں دس فیصد تک اضافے کا عندیہ دیا تھا۔ پیرڈاکٹر معصوم یاسین زئی کی صدارت میں منعقدہ تیئسویں وائس چانسلرز کمیٹی میٹنگ میں ایک سو سینتیس وائس چانسلرز اور ریکٹرز نے شرکت کی تھی۔ اس میٹنگ میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق بنوری اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد اصغر بھی موجود تھے۔ میٹنگ میں بتایا گیاکہ تخمینے کے مطابق اعلی تعلیمی سیکٹر کو مالی سال 2019‘20کے لیے 103.55بلین روپے کی ضرورت ہے جبکہ اعلی تعلیمی سیکٹر کے لیے58.50بلین روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔وائس چانسلرز نے حکومت کی اعلی تعلیم و تحقیق کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ حکومت کی جانب سے قابل ضرورت فنڈز کا اجرا یقینی بنایا جائے گا۔اس بات کا بھی اعادہ کیا گےاتھا کہ وسائل کا درست طریقے سے استعمال کرنے کے لیے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا اور غیر حکومتی ذرائع سے بھی فنڈز اکٹھے کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر طارق بنوری کا کہنا تھا کہ اعلی تعلیمی شعبہ کوموجودہ حکومت کی بھر پور حمایت حاصل ہے، اگرچہ حکومت کی جانب سے فنڈنگ ایک اہم جزو ہے مگر معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومتی تعاون، غیر حکومتی فنڈ ریزنگ اور وسائل کا درست استعمال تین اہم عناصر ہیں۔ جہاں تک اعلی تعلیمی شعبہ کی معاشی ضروریات کا سوال ہے یہ سیکٹر مشکل دور سے گزر رہا ہے، جامعات کو فنڈز اکٹھا کرنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان وعدوں پر عمل درآمد نہےں کےا گےا جس سے مشکلات پےدا ہوئےں‘ہم سمجھتے ہےں کہ اس سلسلے میں قانون سازی کی جانی چاہےے کہ تعلےمی بجٹ کسی قےمت پر کم نہےں ہو گا اور ہر سال اس کی شرح میں معقول اضافہ کےا جائے گا کوئی بھی حکومت تعلےمی بجٹ کم نہ کرنے کی ترمےم شدہ آئےنی شق کو کسی قےمت پر تبدےل نہےں کر سکے گی خواہ اس کے پاس دوتہائی اکثرےت ہی کےوں نہ ہو۔

Facebook Comments
Share Button