تازہ ترین

GB News

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے بعد بلتستان یونیورسٹی

Share Button

قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی کے بعد بلتستان یونیورسٹی کے طلبہ بھی فیسوں میں اضافے کے خلاف سڑکوں پر ہیں طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف بلتستان ایک نوزائیدہ یونیورسٹی ہے اسلئے سمسٹر کی فیسیں28سے 30ہزار مقرر کر نا پسماندہ علاقے کے طلبہ کو تعلیم سے دور رکھنے کی سازش ہے فیسوںمیں اضافے سے غریب طلبہ تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گے یونیورسٹی انتظامیہ جان بوجھ کر فیسوں میں اضافہ کر رہی ہے تاکہ یہاں کے طلباء مزید تعلیم حاصل نہ کر سکیں طلبہ کا کہنا تھا کہ قراقرم یونیورسٹی کیلئے وزیر اعلیٰ نے فوری فنڈز فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے وزیر اعلیٰ صرف گلگت کے وزیر اعلیٰ نہیں پورے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ ہیں’ ہم وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد ازجلد بلتستان یونیورسٹی کیلئے بھی گرانٹ کی منظوری دیں تاکہ یہ نوزائیدہ علمی درسگاہ بحران کا شکار نہ ہو سکے انہوں نے دیگر اعلیٰ حکام سے بھی فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ یونیورسٹی کی فیسوں میں کمی کیلئے اپنا کردارادا کریں تاکہ طلبہ اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں ۔ہم انہی سطور میں اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ قراقرم یونیورسٹی میں فیسوں کے مسئلے کے بعد بلتستان یونیورسٹی میں بھی یہی صورتحال پیش ہو گی کیونکہ بلتستان یونیورسٹی کے طلباء کی جانب سے بھی زیادہ فیسوں پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا’حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت کی کفایت شعاری اور کٹوتی مہم نے تعلیمی اداروں کو بھی نہیں بخشا ایک جانب قرضے معاف کیے جا رہے ہیں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن ایچ ای سی کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے بجٹ میں کٹوتی کی جائے گی۔کٹوتیوں کو کم سے کم رکھنے کے لیے ایچ ای سی کی جانب سے مطالبے بھی سامنے آتے رہے لیکن اس کے باوجود کٹوتیوں کو کم نہ رکھا گیا۔اخراجات میں کمی سے سرکاری یورنیورسٹیوں میں جو اس وقت پروگرام چل رہے ہیں ان میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جبکہ ترقیاتی اخراجات میں 50 فیصد کٹوتی کا مطلب یہ ہے کہ کم و بیش تمام نئے پروگرامز کو مؤخر یا پھر انہیں منسوخ کرنا پڑگیا ہے۔ جو رقم ترقیاتی اخراجات کے لیے دینے کا کہا گیا اس سے زیادہ رقم تو موجودہ پروگرامز کے کام کو آگے تک جاری رکھنے کے لیے درکار ہے ۔ یوں نئی اسکیموں کے لیے تو کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہے گی۔افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے اعلانات کیے ہی کیوں جاتے ہیں جن پر عملدرآمد نہ کیا جائے اور صورتحال پہلے سے بھی بدتر ہو جائے حیرت ہے کہ موجودہ یونیورسٹیوں میں توسیع کے منصوبے اور اعلیٰ تعلیم کی سہولیات سے محروم اضلاع میں نئی جامعات کے قیام کے وعدوں کو بھی ایک طرف رکھ دیا گیا ہے حالانکہ یہ کہا جاتا رہا کہ تعلیمی بجٹ کو بڑھایا جائے گا مگر وعدوں کے ایفا نہ کرنے کے حوالے سے ماضی کی حکومتوں کے ریکارڈ بھی توڑ دیے گئے۔جن یونیورسٹیوں نے گزشتہ یا اس سے ایک برس قبل ایک سے زائد برسوں پر محیط منصوبوں کاآغاز کیا اور ان کے لیے مالی امداد اگلے چند برسوں میں آنی تھی ایسے منصوبے بھی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں یونیورسٹیاں ان منصوبوں کے لیے وسائل حاصل کرنے کی خاطر دیگر ذرائع تلاش کررہی ہیں یا پھر انہوں نے ان میں سے چند منصوبوں کو ترک کردیا ہے۔ان کے لیے ری کرنٹ بجٹ میں کٹوتیاں زیادہ مشکلات کا باعث بن رہی ہیں ۔ تعلیمی شعبے میں زیادہ تر ری کرنٹ بجٹ کا تعلق تنخواہوں سے ہوتا ہے۔
زیادہ تر سرکاری یونیورسٹیاں سبسڈی کے ساتھ تعلیم فراہم کرتی ہیں: تعلیم کی فراہمی میں زیادہ لاگت آتی ہے اور ٹیوشن فیسیں یہ خرچہ پورا نہیں کرپاتی ، یعنی اس اضافی اور بقیہ خرچے کا بوجھ ایچ ای سی ہی اٹھاتی ہے۔ لیکن اگر ایچ ای سی سے ملنے والی رقم میں کمی ہو تو کیا یونیورسٹیاں اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اپنی فیسوں میں اضافہ کرنے پر مجبور نہیں ہوں گی ایسے میں مفت تعلیم کے دعوی کہاں جائیں گے؟ یہ اقدام اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ جیسے نتائج برآمد کرسکتا ہے۔پاکستان میں اس وقت طلبا کی بہت محدود تعداد یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہے، ایسی صورت میں اگر فیسوں میں اضافہ ہوتو یہ تعداد مزید کم تر ہوجائے گی اور فیسوں میں اس اضافے سے ناگزیر طور پر غریب طلبہ کو دھچکا پہنچے گا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے نوجوانوں کیلئے مواقع میں اضافے کے کئی وعدے کیے تھے اور جو پاکستان کی آبادی میں شامل نوجوانوں کے لیے تعلیم و روزگار کے ذریعے فی کس آمدن اور معیشت میں بہتری لانے پر زور دیتی رہی ہے، کیا اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے فنڈنگ میں کٹوتی کرنی چاہیے تھی ؟
یہ بات ذہن میں رہے کہ اگر یونیورسٹیوں کو دس سے پندرہ فیصد ری کرنٹ اخراجات اور اپنے ترقیاتی اخراجات کے کچھ حصے کو پورا کرنے کے لیے فیسوں میں اضافہ کرنا پڑے تو ایسے میں یہ اضافہ اچھا خاصا ہوگا۔ چند جگہوں پر یہ اضافے پچاس سے سو فیصد بھی ہوسکتے ہیں اور پھر بھی یہ ناکافی ثابت ہوں گے۔سوال یہ ہے کہ کیا یونیورسٹیاں دیگر ذرائع سے مالی ضروریات کو پورا کرسکتی ہیں؟ عام طور پر یونیورسٹیاں فیس یا حکومت سے ملنے والی رقوم کے ذریعے پوری طرح اپنے اخراجات پورے نہیں کرسکتی ہیں۔ ان کے پاس عام طور پر ایلومنائی ، فلاح انسانی کے لیے کام کرنے والے افراد اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقین کی جانب سے حاصل ہونے والے عطیات پر مشتمل انڈوومنٹ فنڈز ہوتے ہیں جن سے ایک حد تک اخراجات کو پورا کیا جاتا ہے۔انڈوومنٹ فنڈ کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ایک باقاعدگی سے حاصل ہونے والی آمدن کا سلسلہ بن سکے جس کی مدد سے ری کرنٹ اخراجات کو پورا کرنا ممکن ہوسکے۔ اس کے علاوہ خصوصی فنڈز کو بھی قائم کیا جاتا ہے تاکہ کسی حد تک سرمایہ اور ترقیاتی اخراجات جیسے عمارت کیلئے عطیات وغیرہ کا خیال رکھا جاسکے۔پاکستان میں ایک یادو سرکاری یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر زیادہ تر جامعات نے کبھی بھی عطیات اکٹھا کرنے کے عمل کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔اعلیٰ تعلیم کی فنڈنگ میں کٹوتی کے وقت کہ یونیورسٹیوں کو خیرات کا حجم بڑھانے کا مشورہ دیا گیا تھا تاکہ وہ مالی کمی کو پورا کرسکیں۔لہٰذا اگر ایلومنائی یا فلاح انسانی کے لیے کام کرنے والوں کے ذریعے مالی ضروریات کو پورا کرنے کے بارے میں سوچا جائے تو سرکاری یونیورسٹیوں کو کچھ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہونے والی۔ فنڈنگ کے ذرائع اور مواقع کے بارے میں ذہنیت کو تبدیل کرنا ہی ہوگا۔اگر یونیورسٹیاں ذہنیت کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں اور نجی سطح پر مالی معاونت حاصل کرنے کے کام پر لگ جاتی ہیں تب بھی مطلوبہ مقاصد تھوڑے وقت میں حاصل کرنے ممکن نہیں۔ فنڈنگ مہمات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیں، جبکہ پاکستان میں فلاح انسانی کے نام پر تعلیمی شعبے میں عطیات دینے کا رجحان کچھ زیادہ نہیں پایا جاتالہٰذا یہ قلیل مدتی حل نہیں ہے۔ سرکاری یونیورسٹیاں تھوڑے وقت میں متبادل مالی ذرائع پیدا نہیں کرسکتیں ، لہٰذا انہیں اپنے پروگرامز کو محدود کرنا ہوگا یا ٹیوشن فیس میں اضافہ کرنا مجبوری ہو گی ، جس کی نوجوانوں اور حکمران جماعت کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اعلیٰ تعلیم کی فنڈنگ میں کٹوتی پر باضابطہ طور پر عمل کروانے سے قبل بہتر ہے کہ پی ٹی آئی حکومت یہ یقینی بنائے کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں؟ ان دعوئوں اور وعدوں کا جواز بھی دیا جائے جو انتخابی مہم کے دوران کیے جا تے رہے’ موجودہ صورتحال میں صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قراقرم یونیورسٹی کی طرح بلتستان یونیورسٹی کو بھی گرانٹ فراہم کرے تاکہ اس یونیورسٹی اور یہاں زیر تعلیم طلباء کے مسائل میں کمی واقع ہو یہ بات درست ہے کہ بلتستان یونیورسٹی کو نوزائیدہ ہونے کے سبب زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments
Share Button