تازہ ترین

GB News

معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، خسرو بختیار

Share Button

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے،آئندہ2سالوں میں معاشی ترقی کی شرح5.6فیصد تک ہو جائیگی،وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران ایم ایل ون منصوبے پر باقاعدہ آغاز ہو گا،جبکہ زراعت، بونجی ڈیم کی تعمیر،آئل ریفانئری،پاکستان سٹیل ملز کی بحالی سمیت دیگر منصوبوں کی تجاویز چینی حکام کو دیں گے،سی پیک کو مزید بلندیوں پر لے کے جانا چاہتے ہیں، ملتان سکھر موٹروے اورفیصل آباد انڈسٹریل زون کا افتتاح دسمبر میں ہوگا، سی پیک نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ پورے خطے کے لیے بہتر ثابت ہو گا۔وہ اتوار کو یہاں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات مزید بہتر بنانے کیلئے وزیر اعظم چین کا دورہ کریں گے۔ ہم کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی حمایت کرنے پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہیں، وزیر اعظم کے دورہ چین میںسی پیک کے سارے منصوبے اسٹریم لائن کیے جائیں گے، چین کے ساتھ اس مرتبہ جو بات چیت ہوگی، ہمیں یقین ہے، جو معیشت کی عمارت استوار کریں گے وہ بہت پائیدار ہوگی۔وفاقی وزیر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے تمام منصوبے خصوصا شعبہ توانائی کے منصوبے فعال ہیں اور سی پیک منصوبوں سے متعلق منفی موقف کی تردید کرتا ہوں،توانائی سمیت سی پیک کے تمام منصوبے بروقت مکمل ہوں گے۔ اس وقت 4300میگا واٹ توانائی کے منصوبوں پر کام جاری ہے جو برقت مکمل ہونگے جبکہ 2500میگا واٹ کے منصوبے پاپ لائن میں ہیں،ہمارا فوکس اس وقت گوادر ہے ،گوادر میں 300میگا واٹ بجلی کا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کر گوادر ماسٹر پلان اور کوسٹل ہائی وے منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔خسرو بختیار نے کہا کہ اقتصادی ترقی میں سستی بجلی ضروری ہے اس لیے چین کے دورے میں متعدد ایسے منصوبے زیر بحث آئیں گے،وزیراعظم چین میں بونجی ڈیم کے منصوبے کی تجویز دیں گے جو 7000میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سالانہ تقریباً2ارب ڈالر کی سٹیل اور سکریب درآمد کرتا ہے۔پاکستان میں اس وقت سٹیل کی4.5ملین ڈن پیداوار ہے جبکہ ہماری طلب9ملین ٹن ہے، ملک میں اسٹیل کی ضرورت کو پوری کرنے کے لیے چین کے ساتھ بات ہوگی۔ کراچی میں اسٹیل ملز کی فعالیت سے 3ملین ٹن کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے، پاکستان کے اندر اسٹیل سیکٹر کو مزید فروغ دینا پڑے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران تیل اور گیس کی کمی پوری کرنے کیلئے نئے منصوبوں کی تجاویز بھی چینی حکام کو دیں گے، سردیوں میں گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ملک میں نئی ریفائنریز منصوبوں کی تجاویز دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کے منصوبے کو فوری توجہ کی ضرورت ہے،دورہ چین کے دوران ایم ایل ون منصوبے پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کرینگے۔دورہ چین کے دورن200ملین ڈالر کے زراعت کے لیے کوسٹ لائن کے اوپر فشریز اور لائیو اسٹاک کے منصوبے تجویز کئے جائیں گے۔

Facebook Comments
Share Button