تازہ ترین

Marquee xml rss feed

ایک سال کے دوران پاکستان میں غربت میں اضا�� ن�یں بلک� کمی �وئی 40 لاکھ لوگوں کے غربت کی لکیر سے نیچے چلے جانے کی باتیں بے بنیاد �یں، عالمی بینک نے رپورٹ جاری کر دی-وزیراعظم کا کشمیریوں کے ساتھ اظ�ار یکج�تی م�م جاری رکھنے کا �یصل� مودی اب خو�زد� �ے ک� کر�یو اٹھے گا تو خون ریزی �و گی، مودی کشمیریوں کو محکوم بنانے کے لیے طاقت کا استعمال ... مزید-�ندو مذ�ب کے ت�وار�ولی،دیوالی پر عام تعطیلات،قبل ازوقت تنخوا� ادائیگی کیس ،درخواست قابل سماعت �ونے پر �یصل� مح�وظ-مریم او رنگزیب کی شا�د خاقان عباسی سے ملاقات کی درخواست منظور ، ملاقات کی اجازت دیدی گئی-جج ارشد ملک کے بیان حل�ی میں مجھ پر لگائے گئے الزامات من گھڑت اور بے بنیاد �یں، ناصر بٹ نے جواب �ائی کورٹ میں جمع کرادیا جج ارشد ملک نے میری ان سے ملاقات کی آڈیو وڈیو ... مزید-شا�د خاقان عباسی کو جیل میں س�ولیات �را�م کرنے سے متعلق درخواست پر �یصل� مح�وظ-مولانا �ضل الرحمن مذاکرات کے دروازے بند ن� کریں شیخ رشید پ�لے ج�اں کشمیر کی بات �ور�ی تھی اب مولانا کی بات �ور�ی �ے، ان سے ک�وں گا ی� وقت احتجاج کا ن�یں �ے میڈیاسے گ�تگو-۲ این ای52کی یونین کونسل نمبر 8تمیر اسلام آباد میں کی چئیرمین شپ، راج� عمران خضر ایڈووکیٹ کو ٹکٹ جاری-ا* موجود� سلیکٹڈ حکومت میں اداروں کو متنازع� بنادیا گیا،بلاول بھٹو 4سی پیک پرکام رک گیا �ے،حکومت کومزید وقت دینا ملک کی سالمیت سے کھیلنے کے متراد� �ے، وقت گیا سلیکٹڈ حکومت ... مزید-عدالتوں میں زیرسماعت سرکاری مقدمات کی مؤثر اور مکمل پیروی کریں تاک� ریاست کے م�اد کا بھرپور طریقے سے د�اع کیا جا سکے،ڈپٹی کمشنر حیدرآباد

GB News

صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی

Share Button

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، سکردو ہسپتال پر چاراضلاع کے مریضوں کا بوجھ ہے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ہسپتال کو ڈویژنل ہسپتال کا درجہ دیا جا رہا ہے جس سے ہسپتال کے بجٹ میں اضافہ ہو گا، بلتستان کے دیگر اضلاع گانچھے ، شگر ، کھرمنگ اور روندو کے ہسپتالوں کو بھی سکردو ہسپتال کے ساتھ منسلک کیا جائے گا،وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن نے کہا کہ پہلے پورے گلگت بلتستان کے ہسپتالوں میں بیڈز کی تعدادچار سو پچاس تھی اب ہم اسے بڑھا کر 2250 تک پہنچا رہے ہیں ،ہماری حکومت آنے سے پہلے گلگت بلتستان میں ڈاکٹروں کی شدید کمی تھی ، سروس سٹرکچر کا مسئلہ تھا گریڈ میں اضافہ نہیں ہوتا تھا ہم نے ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کیا ان کیلئے سروس سٹرکچر منظور کیا اور گریڈ میں بھی اضافہ کیا اب ڈاکٹروں کو گریڈ بیس تک ترقی مل سکتی ہے ،انہوں نے کہا جن ڈاکٹروں کی عمر کی حد گزر چکی ہے اور وہ مستقل نہیں ہوئے ہیں ان کو عمر کی حد میں رعایت دی جائے گی، گلگت بلتستان کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات نہ ملنے اور ڈاکٹروں کے حوالے سے شکایات آ رہی ہیں شکایت ہے کہ ڈاکٹرز ہسپتال میں موجود ادویات لکھنے کے بجائے مریضوں کو باہر سے ادویات خریدنے پر مجبور کرتے ہیں، ڈاکٹر ہسپتال میں موجود ادویات ہی لکھیں اس حوالے سے کسی بھی قسم کی شکایت نہیں آنی چاہیے۔صحت کی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات یقینا خوش کن ہیں’علاج معالجے کی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں ہر شہری کو علاج معالجے کی یکساں سہولیات میسر ہیں۔ اس کے برعکس وطن عزیز کے شہروں کی اکثریت اس حق سے محروم ہے۔ ہمارے ملک میں بنیادی اور عام بیماریوں سے بھی بے شمار اموات واقع ہو جاتی ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے ڈاکٹروں کی تعداد بھی بہت کم ہے اور جو ڈاکٹر موجود ہیں انکی اکثریت گاؤں میں جانے کو تیار نہیں ہوتی۔ گاؤں اور دیہاتوں میں اتائیت، غیرتربیت یافتہ دائیوں، نیم حکیموں اور جعلی ڈاکٹروں کی بھرمارہے۔ ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی تعداد بھی بہت کم ہے اور جو ہیں ان میں سہولیات، سازوسامان اور ادویات کا فقدان ہے۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں کی زیادہ توجہ اور دلچسپی اپنے پرائیویٹ کلینکس پر ہے۔ ہسپتالوں میں غریب اور نادار مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں اور سٹاف کا رویہ بھی بے حد ہتک آمیز ہوتا ہے۔
جعلی اور کم معیار والی ادویات کی بھرمار ہے اور مقام افسوس ہے کہ سب کچھ ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ ان تمام معاملات کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کا فعال، آزادانہ اور شفاف نظام موجود نہیں اور اگر بھول کر کوئی کارروائی کی بھی جائے تو احتجاج اور ہڑتالوں کی صورت میں بلیک میلنگ شروع کر دی جاتی ہے۔پاکستان میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کی بڑی وجوہات میں تعلیم و آگاہی کی کمی، ملاوٹ،آلودگی،گندگی،صاف پانی کا نہ ہونا، ڈاکٹروں، ادویات اور سہولیات کی کمی ہے۔سب سے بنیادی ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ عوام پر لگایا جائے۔
نیشنل ہیلتھ سسٹم کی طرز پر ہر شہری کو صحت کی یکساں اور مفت سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ پورے ملک میں ہسپتالوں کا جال پھیلایا جائے۔ گاؤں میں بھی شہروں جیسی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔ میڈیکل کالجوں میں جس کوٹے پر طلبہء کا داخلہ ہو اسی علاقے میں کام کرنے کی شرط بھی رکھی جا سکتی ہے۔ پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی ہواگر یہ ممکن نہ ہو تو سرکاری ہسپتالوں میں ہی شام کے اوقات میں مناسب فیس میں پریکٹس کی اجازت ہونی چاہیے۔ ڈاکٹروں اور عملے کو عالمی معیار کی تنخواہیں اور سہولیات دے کر مؤثرقانون سازی کے ذریعے ہڑتالوں اور بلیک میلنگ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ دواؤں کا عمدہ معیار یقینی بنانے کے لئے ملٹی نیشنل اور اچھی شہرت کی حامل چند کمپنیوں کو ہی ادویہ سازی کی اجازت ہونی چاہیے۔اتائیت و نیم حکیمی کا خاتمہ ہو۔ نگرانی اورمانیٹرنگ کا آزادانہ اور شفاف نظام ہو۔ مقامی کمیٹیاں بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ شکایات درج کروانے کے آسان اور سادہ طریقے متعارف کرانا بے حد ضروری ہے۔ اس ضمن میں کمپلینٹ باکس اور آن لائن جیسی سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔دیگر ممالک میں اتنی دیر تک کوئی مریض ڈسچارج نہیں کیا جاتا جب تک وہ مکمل صحت یاب نہ ہوجائے۔ایسے ممالک میں لوگوں کی صحت کے شعبے سے منسلک پریشانیاں بہت کم ہیں ۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر روز’ ہزار میں سے ساڑھے سات فیصد لوگ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔کچھ کا وقت بیت چکا ہوتا ہے باقی مہلک بیماریوں اور روزمرہ کے حادثات کی نظر ہوجاتے ہیں۔ناقص غذا اور ملاوٹ نے لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھول دیا ہے،جس کے باعث ہمارے اسپتال کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں اور یہاں تک کہ ایمرجنسی کی صورتحال میں بھی بہت سی جانیں صرف اسی لئے گنوا دی جاتی ہیں کہ قریب کوئی اسپتال نہیں ملا ،ملا تو اسپتال میں مریض کے لئے جگہ نہ ملی۔کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں بنیادی چیزیں صحت و تعلیم ہوتی ہیں’ یہی وجہ ہے کہ دنیا ان پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔ایسے اداروں کو تحویل میں رکھ کر ان کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے، تاکہ عوام ان سہولتوں سے محروم نہ ہو اور ملکی ترقی کی رفتار جاری رہے۔ مگر ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں بلکہ ان دو محکموں کو ہی زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں اسپتالوں کی کمی ایک المیہ بن چکی ہے،جسے ہماری حکومتیں برسوں سے نظر انداز کرتی آرہی ہیں۔ جس کی بدولت پرائیویٹ مافیا سرگرم عمل ہے اور کسی غریب کے لیے علاج کروانا یونہی ہے جیسے جائیدادیں بیچ کر زندگی کے چند سانس خریدنا۔ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی مریض بروقت بیڈ نہ ملنے یعنی اسپتال میں جگہ نہ ملنے کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے اور اس کے پیارے اپنی اس بے بسی کو دیکھ کر خود مریض بن جاتے ہیں اور برسوں خود کو ‘کوستے رہتے ہیں۔ہمارے اکثر سرکاری اسپتالوں کا تو کوئی معیار ہی نہیں اورجن چند اسپتالوں کا معیار بہتر ہے وہاں علاج کے لئے مہینوں کا وقت ملتا ہے اکثر بے چارے لوگ تو مقررہ وقت سے پہلے ہی کسی پرائیویٹ ڈاکٹر کے ہاتھوں اپنی جمع پونجی گنوا بیٹھتے ہیں اور اکثر مریض تو علاج کے مقررہ وقت سے پہلے ہی ایسی سیریس حالتِ بیماری میں پہنچ جاتے ہیں جن کا بچنا ممکن نہیں رہتا ہے۔ایسے حالات میں لوگ کریں تو کیا کریں ،جائیں تو کہاں جائیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈاکٹرز اورپیرا میڈیکل سٹاف غریب عوام کا دکھ بانٹیں اور ان کی تکالیف کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں ‘ایمانداری و پیشہ وارانہ لگن کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔
حیرت ہے کہ جہاں ملک میں صحت کی صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے وہاں ملک کے طول وعرض میں میڈیکل کالجز، میڈیکل یونیورسٹیوں، ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹیکنالوجی میں آنیوالی ترقی اور مختلف ایپس کی وجہ سے اب تشخیص اور علاج کے طریقہ کار میں بہتری آئی ہے لیکن ٹیکنالوجی کی یہ ترقی صرف پرائیویٹ ہسپتالوں تک محدود ہے جہاں سے ملک کا امیر طبقہ ہی اپنا علاج کروا سکتا ہے اسلیے ضرورت اس بات کی ہے کہ صحت کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچائی جائیں اور سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنا کر اس امر کو ممکن بنایا جائے کہ لوگوں کو صحت کے حوالے سے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Facebook Comments
Share Button