تازہ ترین

GB News

میں 22 لوگوں کیخلاف کھیلتا تھا جس میں 11 مخالف اور 10 اپنی ہی ٹیم کے لوگ ہوتے تھے جس میں سے پتا نہیں ہوتا تھا کہ کون میچ فکسر ہے، شعیب اختر

Share Button

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر  شعیب اختر نے ایک انٹرویو میں کئی بڑے انکشافات کیے ہیں۔

سابق کرکٹر شعیب اختر دنیائے کرکٹ کا بڑا نام ہیں جو اپنی فاسٹ بولنگ کے باعث مشہور ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بے لاگ تبصروں کے باعث بھی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔

حالیہ انٹرویو میں انہوں نے پاکستان کرکٹ میں مبینہ میچ فکسنگ سے پردہ اٹھایا ہے۔ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ کیرئیر کے دوران مجھے کئی بار میچ فکسنگ کی پیشکش کی گئی، ایک بار 10 لاکھ ڈالر، انگلینڈ میں چار کنال گھر سمیت پرکشش آفر دی لیکن میں نے بُکی کو کمرے میں بند کرکے ٹھیک سے پٹائی کی۔

انہوں نے کہا کہ بکی کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے پکڑلیا تھا، جس پر اُس بکی نے سب لڑکوں کے نام دیے تھے لیکن میرا بتایا کہ میچ فکسنگ کی پیشکش پر شعیب اختر نے مجھے مارا ہے، تاہم وہ باقی سب لڑکوں کو گھیرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

شعیب اختر نے مزید کہا کہ ’میرے اردگرد میچ فکسر موجود ہوتے تھے لیکن میں نے سوچ رکھا تھا کہ پاکستان کو دھوکا نہیں دینا، میں 22 لوگوں کے ساتھ کھیلتا تھا جس میں 11 مخالف اور 10 اپنی ٹیم کے لوگ ہوتے تھے جس میں سے پتا نہیں ہوتا تھا کہ کون میچ فکسر ہے، کون کیا کررہا ہے‘۔

اس کے بعد ان کا مزید کہناتھا کہ ’محمد آصف نے مجھے بتایا کہ کون کون سے میچ فکس کیے اور کیسے کیے تو میں نے کہا کہ اُس میچ میں تو میں بھی تھا، جس کے جواب میں آصف نے کہا کہ’ سر آپ ملنگ آدمی ہیں، آپ اپنا زور لگا رہے تھے اور ہم اپنا لگا رہے تھے‘۔

اِن الفاظ کی ادائیگی کے بعد انٹرویو میں خود شعیب اختر کہتے ہیں یہ بریکنگ نیوز ہے اور پھر مسکرادیتے ہیں۔

شعیب اختر 46 ٹیسٹ، 163 ایک روزہ اور 15 ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ انہوں نے ٹیسٹ میں 178، ایک روزہ میچز میں247 اور ٹی ٹوئنٹی میں 19 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

Facebook Comments
Share Button