تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

احساس پروگرام:حکومت کا اہم قدم

Share Button

 

انڈر گریجویٹ اسکالر شپ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے انڈرگریجویٹ اسکالرشپ پروگرام کاآغاز کر رہا ہوں۔ احساس پروگرام معاشرے میں بڑی تبدیلی لے کرآئے گا، نوجوانوں کومواقع نہیں دیں گے تو ان کے پاس کیا راستہ رہ جائے گا، نوجوانوں کوروزگار اورترقی کے مواقع نہیں ملیں گے تو وہ جرائم کی طرف جاسکتے ہیں۔ نمل یونیورسٹی کے نوے فیصد گریجویٹس کو نکلتے ہی نوکریاں مل گئیں اور نمل یونیورسٹی میں بانوے فیصد غریب گھرانوں کے بچے اسکالرشپس پر پڑھتے ہیں، غربت ختم کرنے کے لیے نوجوانوں کومواقع فراہم کرنا ہوں گے کیوں کہ غربت کم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ غریب لوگوں کو اوپر آنے کا موقع دینا ہے۔ انڈرگریجوایٹ اسکالرشپ پروگرام کے تحت سالانہ 50 ہزار کی شرح سے چار برس میں دو لاکھ طلبہ کو وظائف دیے جائیں گے۔ اس کااطلاق تقریباً 152 سرکاری یونیورسٹیوں پر ہوگا۔وظائف پنتالیس ہزار سے کم آمدن رکھنے والے خاندان کے طلبا کو دیے جائیں گے۔ پروگرام کے تحت پچاس فیصدکوٹہ خواتین، دو فیصد معذور طلبا کے لیے ہوگا،وظائف میں کتابوں کی فراہمی، ٹرانسپورٹ، رہائش اور دیگرضروریات شامل ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں اعلی ٰتعلیم تک رسائی کو وسعت دینے کے لئے ایک بڑا قدم ہے جس کے تحت حکومت اس بات کی خواہاں ہے کہ کوئی طالبعلم مالی اخراجات کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہ سکے۔چار سال میں اسے سالانہ دو لاکھ تعلیمی وظائف تک لے جایا جائے گا اور ٹیوشن فیس اور وظیفہ اس میں شامل ہوگا۔ ضرورت مند اور کم ترقی یافتہ اور دور افتادہ علاقوں کے طلباء کی خصوصی طور پر حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ طلباء کے لئے اہلیتی معیارکسی بھی سرکاری شعبہ کی یونیورسٹی میں میرٹ پر داخلہ رکھا گیا ہے اور خط غربت سے کم آمدن والے خاندانوں کے طلباء کو ترجیح دی جائے گی۔افتتاح کے بعد طلباء آن لائن یا مکمل کوائف کے ہمراہ درخواست فارم اپنی متعلقہ یونیورسٹی کے مالی امداد کے دفتر میں جمع کرا سکیں گے۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 دسمبر 2019 مقرر کی گئی ہے۔اگر دیکھا جائے تو ہماری ساٹھ فیصد آبادی خط غربت یا اس سے نیچے ہے جن کے لئے پرائیویٹ تعلیمی ادارں کے اخراجات اٹھانا ممکن نہیں ہے۔پرائیویٹ کالجوں کی ایک سال کی فیس تیس ہزار سے لیکر سوا لاکھ روپے تک بنتی ہے پراسپیکٹس کی خریداری کے لئے بھی تین سوروپے سے لیکر ہزار روپے تک مقرر ہے وہ والدین جو ملازم پیشہ یا مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں یا یہاڑی دار ہیں وہ اپنے بچوں کو تعلیم کس طرح دلوائیں ؟کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں پرائیویٹ اداروں کی فیس ادا کرنا غریب والدین کی بساط سے باہر ہو چکا ہے جبکہ دوسری طرف سرکاری اداروں میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان میں پاس ہونے والے سارے طلباء و طالبات کو داخلہ مل سکے۔ حکومتوں نے ہمیشہ بڑے بڑے پراجیکٹ کی طرف تو توجہ دی لیکن تعلیمی اداروں کو بنانے میں خاطر خواہ توجہ نہیں دے پائے اور تعلیم کو پرائیویٹ لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جس کی وجہ سے تعلیم خدمت کی بجائے انڈسٹری چکی ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے بڑے سرمایہ دار ،کارخانہ دار جو پہلے تعلیم کو صدقہ جاریہ سمجھ کر فروغ دے رہے تھے آج انہوں نے اپنی انڈسٹریز اور دیگر کاروبار کی بجائے تعلیم جیسے شعبے کو بطور کاروبار اپنا لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرح اب تعلیم کا کاروبار بھی چین کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ان اداروں کو چلانے کے لئے بڑی بڑی ایڈورٹائزنگ کمپنی اور اشتہارات کا سہارا لیا جا رہا ہے جس کا بوجھ غریب والدین کو بھاری فیسوں کی ادائیگی کی صورت میں براداشت کرنا پڑرہا ہے۔بااثر لوگوں کا تعلیمی ادارے کھولنے کا انہیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ من مانی فیسیں لیتے ہیں اور ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس بھی نہیں ہوتا ہے کیونکہ ان پر جیسے ہی ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے ان کے بااثر ہونے کی وجہ سے چیک اینڈ بیلنس کا معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے۔مہنگائی اور غربت کی وجہ سے جو بچے تعلیمی ادارں میں داخلہ نہیں لے پاتے یا اپنی پڑھائی کے سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتے ہیں ان میں مایوسی جنم لیتی ہے جس کی وجہ سے تمام زندگی وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت کو بڑے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے کھولنے کی طرف بھرپور توجہ دینا ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ بے مہار پرائیویٹ سیکٹر کو لگام ڈالنا ہو گی تاکہ وہ تعلیم کو کاروبار کی بجائے خدمت کے جذبے کے تحت چلائیں اور فیسوں میں بڑھتا ہوا اضافہ روکا جائے اور دیگر تعلیمی ضروریات کتب سٹیشنری یونیفارم پک اینڈ ڈراپ کی سہولت جیسی سہولیات پر بھی حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے چونکہ غریب والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے انتہائی پریشان اور مایوس ہیں اوریہی مایوسی اور پریشانی انہیں اپنے بچوں کو تعلیم کے سلسلے سے ہٹا کر محنت مزدوری کی راہ پر ڈالنے کی طرف مجبور ہیں۔ایک بچہ جو سرکاری کالج میں پڑھتا ہے اس کو ایک مہینے میں تین ہزار روپے اور اگر پرائیویٹ کالج میں پڑھتا ہے تو ایک مہینے میں چار ہزار روپے سے لیکر کم از کم پندرہ ہزار تک کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔سکول کی سطح پر حکومت پنجاب بچوں کو پہلی سے لیکر دسویں کلاس تک مفت کتابیں مہیا کرتی رہی ہے لیکن کالج کی سطح پر اس طرح کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے اس پر بھی حکومت کو غور کرنا چاہیے اس سے غریب والدین کا بہت سارا بوجھ ہلکا ہو سکتا ہے۔سابقہ پرویزمشرف کے دور میں سرکاری سکولوں میں شام کے وقت پرائیو یٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت کمیونٹی کالجز کھولے گئے لیکن کمیونٹی کالجز کی پالیسی بناتے وقت اس میں کئی خامیاں چھوڑ دی گئیں اور پرائیویٹ کالجز کے اندرون خانہ دبائو پر کمیونٹی کالجز کو بند کر دیا گیا۔آج بھی پنجاب کے کچھ اضلاع میں یہ کمیونٹی کالجز شام کے اوقات میں بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں اگر کمیونٹی کالجز کے پروگرام کو بہتر انداز میں تربیت دے کر مزید بڑے شہروں تک دوبارہ شروع کر دیا جائے تو اس سے غریب والدین یا غریب طلباء کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں لاکھ خرابیاں ہوں لیکن جو ایک بات سب سے اچھی ہے و ہ یہ ہے کہ ان میں بغیر ایک خاص تعلیمی قابلیت اور خاص تعلیمی ڈگری کے ملازمت نہیں ملتی جبکہ اس کے برعکس نجی اسکول اس قانون سے ماوراء ہیں یا کم از کم وہ خود کو ایسا سمجھتے ہیں اور ان کیلئے کوئی ایسے قوانین نہیں بنائے گئے کہ وہ بھی اس سرکاری ضابطے کی پیروی کریں۔طلبا کو کاپیاں کتابیں حکومت کی طرف سے مہیا تو کی جارہی ہیں لیکن جہاں اس کے کچھ فائدے ہیں وہاں کچھ نقصانات بھی ہیں۔ فائدہ تو اس کا یہ ہے کہ اس طرح غریب بچے بھی بآسانی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں محنت کش اور مزدور طبقے کے وہ لوگ جو روز بروز مہنگی ہوتی ہوئی تعلیم کے سبب اپنے بچوں کو پڑھانے کا خواب پورا نہیں کرسکتے تھے اب ان کے لیے آسانی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں مال ِمفت دل بے رحم والی بات ہے۔اکثر تو ہوتا یہ ہے کہ ایسے علاقوں میں جہاں کم آمدنی والے غریب طبقے کی آبادی زیادہ ہے وہاں عموماً یہ چیز دیکھنے میں زیادہ آتی ہے کہ اکثر بچے کتابیں کاپیاں سال پورا ہونے سے پہلے ہی ان کے صفحات پھاڑ پھاڑ کے ضائع کردیتے ہیں اور یہ دوسروں کے کام نہیں آ سکتیں۔ بہرحال حکومت کا یہ قدم انتہائی مثبت ہے’غریب اوراہل طلباء کے تمام تر تعلیمی اخراجات حکومت کو پورا کرنا چاہیں تاکہ غریبوں پر تعلیم کے دروازے بند نہ ہوں۔

Facebook Comments
Share Button