تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

ٹورازم پولیس’سیاحت اور معیشت

Share Button

 

انسپکٹرجنرل پولیس گلگت بلتستان ثناء اللہ عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ٹورازم پولیس کے لئے ساڑھے سات کروڑروپے کی منظوری دے دی ہے۔آئی جی نے کہا وزیراعظم نے سیاحت کے فروغ کے لئے ٹورازم پولیس پراجیکٹ کوسراہا ہے۔پراجیکٹ کے مطابق ٹورازم پولیس کوعالمی معیار کے مطابق ٹریننگ دی جائے گی ‘گلگت بلتستان سیاحت کے حوالے سے قدرتی وسائل سے مالامال ہے وزیراعظم پاکستان گلگت بلتستان کوسیاحت کا حب بنانا چاہتے ہیں۔گلگت بلتستان پولیس نے گزشتہ سال ٹورازم پولیس کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا تھا جس کا مقصد ملک سمیت گلگت بلتستان کا ایک سوفٹ امیج اجاگرکرنا تھا۔اس حوالے سے ڈیڑھ سو سے زائد جوانوں کو خصوصی تربیت دے کر گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات بابوسر پاس’ نلتر گلگت اور ہنزہ میں شروع کیا تھا جس کو وفاقی حکومت اور وزیر اعظم نے خوب سراہا اور اس منصوبے کو مزید جاری رکھنے کی منظوری دی ہے اور آئندہ سال وفاق اس منصوبے پر فنڈنگ کرے گا۔گلگت بلتستان میں ٹورازم پولیس کا قیام ایک مثبت قدم ہے یہ تجربہ پہلے خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں بھی کیا جا چکا ہے’تھائی لینڈ میں ٹورازم پولیس کا قیام 25 سال پہلے لایا گیا تھا’ٹوارزم پولیس کے قیام سے تھائی لینڈ میں سیاحت تیزی سے ترقی کررہی ہے،ٹوارزم پولیس کا کام سیاحوں کی حفاظت اور ان کو سہولیات فراہم کرنا ہے’خیبر پختونخوا حکومت نے تو اس پولیس کی تربیت کے لیے تھائی لینڈ کا انتخاب کیا گیا’ٹورازم پولیس کے پاس رینجرز اور فوج کو طلب کرنے کا اختیار بھی ہونا چاہیے تاکہ یہ سیاحوں کی حفاظت کے لیے فوج کو بھی بلا سکے’ مری کے تمام ہوٹل اور ریستوران فوری طور پر رجسٹر ہونے چاہئیں ۔سیاح معیشت کی ہڈی ہیں’ بہت سے لوگوں کا رزق سیاحوں کے ساتھ وابستہ ہے’ لوگ آئیں گے تو لوگوں کو روزگار ملے گا’لوگوں کو یہ حقیقت ماننا ہو گی’ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا پاکستان کے اردگرد بے شمار سیاحتی مراکز کھل چکے ہیں’ ازبکستان’ ترکی’ آذربائیجان اور دبئی سستے بھی ہیں اور محفوظ بھی’ ایک فیملی جتنے پیسے پاکستان میں صرف کرتی ہے اتنی رقم میں ان چار ملکوں سے کسی ایک ملک میں تین چار دن گزار سکتی ہے’ سوات اور کاغان ویلیز بھی اب سردیوں میں کھل جاتی ہیں۔ہمارے ہاں ٹورازم کو مختلف سیکٹرز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جن میں مذہبی ٹورازم’ہیلتھ ٹورازم’ایجوکیش ٹورازم ‘سپورٹس ٹورازم ‘ایوی ایشن ٹورازم ‘کلچرل ٹورازم’ایگری ٹورازم وغیرہ۔اگر ٹورازم اور زراعت کواپنی ترجیحات میں رکھ لیا جائے تو پاکستان پر لگے گہرے زخموں پر مرہم رکھا جاسکتا ہے۔ہر غریب آدمی جو مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اْسے ریلیف مل سکتا ہے۔جس ملک میں بائیس کروڑ لوگ رہتے ہوں اور اکثریتی آبادی کاجذبہ سیاحت ہو۔لوگوں کے پاس تمام ترمشکلات کے باوجود وسائل بھی ہوں اْس ملک میں ڈالر اور روٹی کامسئلہ ہونا حیران کن ہے’دنیا کے کئی مذاہب کے مقدس مقامات پاکستان میں ہیں جن میں سکھ، ہندو، بْدھ مت قابل ذکر ہیں مگر بد قسمتی سے ہم نے اس پر پہلے توجہ ہی نہیں دی۔ایک دن دنیا کو پاکستان کا رخ کرنا ہے اور دنیا یہ مانے گی کہ ہم خوشبو کے سوداگر ہیں ۔کے پی کے کی صوبائی حکومت نے صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے خیبر پختونخوا ٹورازم ایکٹ 2019ء تیار کیا تھا جس کے تحت سیاحت کے فروغ کیلئے وزیراعلٰی کی نگرانی میں بورڈ تشکیل دیا جانا تھا، جبکہ خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی بھی قائم کی جانا تھی ، سیاحت پالیسی پر عمل درآمد کیلئے بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی بنائے جانے تھے ۔ٹورازم اتھارٹی کو سیاحتی کاروبار کے حوالے لائسنس کے اجراء کا اختیار ہوگا، جبکہ ایکٹ کی خلاف ورزی پر سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں’سیاحت حالیہ برسوں میں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتوں میں سے ایک بن چکی ہے اور اقوام متحدہ کی عالمی سیاحت کی تنظیم یو این ڈبلیو ٹی او کے مطابق 1950 کے آغاز تک ہر سال سفر کرنے والے سیاحوں کی تعداد محض 25 ملین تھی جو آج بڑھ کر 1.4 بلین بین الاقوامی سیاحوں کی سالانہ تعداد ہوچکی ہے۔ یہ 1.4 بلین مسافر ہمیشہ سفر کرنے کے لیے ایک نئی جگہ کی تلاش میں رہتے ہیں، ان میں سے کئی سیاح انوکھی جگہوں کی تلاش میں اکثر ایسی جگہوں کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہیں، مختلف عوامل اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ آیا کوئی بھی ملک سیاحتی اعتبار سے محفوظ یا غیر محفوظ کہلایا جاسکتا ہے۔ان عوامل میں سیاسی تشدد ،دہشت گردی، جنگ اور معاشرتی بدامنی جن میں نسلی تشدد ، فرقہ واریت وغیرہ شامل ہیں جو مسافروں کے لیے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔علاوہ ازیں کئی ملکوں میں اور بھی مسائل ہیں جو آپ کی پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں جن میں ملک کا ذرائع نقل و حمل کا نظام، ہنگامی خدمات اور قدرتی آفات وغیرہ بھی شامل ہیں’جن کے لیے ٹورازم پولیس کا قیام ضروری ہے۔ ملک میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری کے نتیجے میں سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کا وقار بلند ہوا بلکہ زر مبادلہ میںبھی اضافہ ہوا اس ضمن میں سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔اس کے لیے جوائنٹ وینچر اور پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کیلئے متعدد منصوبہ جات شروع کیے جا سکتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔دبئی کی طرز پر یہاں سائونڈ اینڈ لائٹس شو منعقد کیا جائے۔ غیر ملکی سیاحوں کو ویزہ کے حصول میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے مزید کام کیا جائے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاحت سے تعلق رکھنے والے تمام ادارے باہمی تعاون سے کام کریں تاکہ یہ شعبہ پاکستان کے لئے زرمبادلہ کمانے کا بڑا ذریعہ بن جائے اور پاکستان کا شمار دنیا کے بہترین سیاحتی ممالک میں ہو۔علاوہ ازیں بین الاقوامی سیاحتی میلوں’ نمائشوں اور سیمینارز میں شرکت کی جائے تاکہ دنیا بھر میں ملک کا وقار بلند ہو اور سیاحوں کی پاکستان آمد میں اضافہ ہو۔ پی ٹی ڈی سی کو سیاحتی سہولیات کی تعمیر کیلئے نلتر میں تیس کنال زمین فراہم کی گئی ہے اورایوی ایشن سے درخواست کی گئی ہے کہ گلگت، سکردو اور چترال ائیرپورٹ کی توسیع کی جائے تاکہ زیادہ فلائٹس کی آمد ہو سکے اور سیاحوں کی زیادہ تعداد ان علاقوں کی سیر کر سکے۔ٹورازم پولیس کاقیام اسلئے بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں مختلف مقامات پر سیاحوں سے بدتمیزی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں’مری میں سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات کے باعث پنجاب حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے رش والے علاقوں میںاضافی نفری تعینات کر نے کا فیصلہ کیاتھا۔ سیاحوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور اس طرح کے واقعات سے بچنے کیلئے رش والے علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی جانی چاہیے ۔سیاحتی علاقوں میں سیاحوں کیلئے ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے جانے چاہیں جہاں ان کو پیش آنے والی مشکلات کو فوری طور پر حل کیا جا سکے اور مدد فراہم کی جاسکے ۔ سیاحت عمومی طور پر شوق کے علاوہ زندگی میں سکون’آرام اور اطمینان لانے کیلئے کی جاتی ہے تاکہ اپنی مصروفیات کے جھمیلوں سے باہر نکل کر کچھ دن کے لیے ذہنی سکون حاصل کیا جا سکے لیکن اگر رقم صرف کرنے کے باوجود بھی ذہنی سکون میسر نہ ہو اور متعدد ناخوشگوار واقعات سے پالا پڑے تو کون سیاحت کے لیے آئے گا؟ لہذا ضروری ہے کہ وہ لوگ جن سے ملکی معیشت بہتر ہوتی ہے اور جن کی آمد ہزاروں لوگوں کے گھروں کا چولہا روشن کرنے کا سبب بنتی ہے انہیں تمام سہولیات کی فراہمی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھا جائے تاکہ انہوں نے اپنی مصروف زندگی سے تفریح کے جو لمحات الگ کیے ہیں وہ ان سے پورے طور پر لطف اندوز ہو سکیں۔

Facebook Comments
Share Button