تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

آئینی صوبے کے مطالبے کی تکمیل نہایت ضروری ہے

Share Button

 

سپیکر قانون ساز اسمبلی حاجی فدا ناشاد نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی مجرمانہ کوتاہیوں کے باعث بھارت گلگت بلتستان کو اپنا حصہ قرار دینے کی جرات کررہا ہے بھارت کو بھرپورجواب دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وفاق گلگت بلتستان کو سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں فی الفور آئینی صوبہ بنائے’ ہمیں متنازعہ نہیں آئینی حقوق چاہیں ہماری جدجہد آئینی صوبے کے قیام کیلئے ہے اسمبلی اجلاس میں بھارت کے خلاف پیش کی گئی قراداد مذمت پر بحث کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورے کے موقع پر آئینی حیثیت پر کوئی اعلان نہیں کیا یہاں کے عوام توقع کررہے تھے کہ وزیراعظم اپنے دورے کے موقع پر آئینی حیثیت کے معاملے پر بہت بڑا اعلان کریں گے مگر وہ ایسا کوئی اعلان نہ کرسکے جس کی وجہ سے ہمیں تھوڑی مایوسی ہوئی اور دکھ بھی ہوا وزیراعظم کی تقریر کا موضوع ہی بھارت کا غیر مناسب رویہ اور جارحانہ اقدام ہونا چاہیے تھا اور عمران خان کو گلگت جلسے سے خطاب کے دوران بھارت کو للکارتے ہوئے کہنا چاہئے تھاکہ بھارت نے گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ قرار دینے کی جرات ہی کیسے کی’ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہے تاہم افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں گلگت بلتستان کے بارے میں بھارتی حکومت کے ریمارکس کے بارے میں کچھ نہیں کہا وزیراعظم کے دورے کے اوپر کسی نے کوئی تنقید نہیں کی گلگت بلتستان کو اپنا حصہ قرار دینے کے ریمارکس کی مذمت نہ کرنے پر افسوس ہوا انہوں نے کہاکہ ہماری قربانیوں کی داستان بہت لمبی ہے یہاں کے سپوتوں نے نشان حیدر بھی حاصل کیا ہماری تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے ایسے حالات میں بھارت نے کیسے کہہ دیاکہ گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہے وفاقی حکومت کو اس معاملے میں اقوام متحدہ میں کیس دائر کرنا چاہیے۔ اپوزیش لیڈر کیپٹن(ر)شفیع نے بھارتی حکومت کے ریمارکس اور مظالم کے خلاف پیش کی گئی قراداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ صرف مذمتی قراردادوں سے کچھ نہیں ہوگا وفاق ہماری تاریخ اور کہانی سے ہی نابلد ہے ہم کافی عرصے سے آئینی حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اگر آئینی حقوق نہیں دئیے جاسکتے ہیں تو متنازعہ علاقے کے حقوق دئیے جائیں ہمیں جان بوجھ کر کشمیر کاز کا حصہ بنایا گیا معاہدہ کراچی میں ہماری کوئی رائے شامل نہیں ہے اس نام نہاد معاہدے کی آڑ میں ہمیں آئینی حقوق سے محروم رکھنا موجودہ صدی کا سب سے بڑا مذاق ہے ہمیں ہر جگہ سے مایوسی کے سوا کچھ نہیں مل رہا ہے آئینی حقوق دئیے جارہے ہیں اور نہ ہی سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کیا جارہاہے ہمارے حقوق کی راہ میں کشمیری رکاوٹ ہیں حالانکہ ہم ان کے ہر دکھ درد میں شامل ہوتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ بھارت نے حال ہی میں جو نقشہ جاری کیا ہے اس میں گلگت بلتستان کو اپنا حصہ قرار دیا ہے لیکن تاحال پاکستان کی جانب سے اس کا ٹھوس و جامع جواب نہیں دیا گیا اور ہم صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے پر بھی ہم نے کشمیریوں کو ایک ماہ تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کا خواب دکھایا لیکن تقریر ہوئے بھی تقریبا چالیس روز ہو چکے ہیں اور ہم ہنوز کشمیریوں کی قتل و غارت گری اور مشکلات کا تماشا دیکھ رہے ہیں کشمیر میں کرفیو کو تین ماہ سے زائد ہو چکے ہیں اور ہم تقریر کے مزے لیتے ہوئے یہ ثابت کر رہے کہ کوئی تیر مار آئے ہیں’ یہ بات بالکل درست ہے گلگت بلتستان کے عوام بہتر سالوں سے آئینی حیثیت کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ان کے مطالبے کو پرکاہ کے برابر بھی حیثیت نہیں دی جا رہی’ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان کو پانچویں آئینی صوبے کی حیثیت دے کر قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی کے مطالبے پر مبنی قراردادیں بھاری اکثریت سے منظور کرچکی ہے’یہاں کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔اگرچہ ایوان مذکورہ قراردادوں کی بھرپور حمایت کر چکا ہے لیکن حیرت یہ ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی کی جاتی ہے ماضی میں جے یو آئی کے رہنما حاجی رحمت خالق یہ کہہ چکے ہیں کہ علاقہ متنازعہ ہے اور آئینی صوبہ نہیں بن سکتا ہم عبوری طور پر آئین پاکستان کا حصہ ہیں اس لیے عبوری صوبہ بنا کر عبوری طور پر قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی دی جائے۔سابق قائد حزب اختلاف حاجی جانباز خان بھی علاقے کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ یہ آئینی صوبہ نہیںبن سکتا ان کا کہنا تھا کہ مرکز میں پانچ سال تک پیپلز پارٹی کی حکومت رہی اگر گلگت بلتستان آئینی صوبہ بن سکتا تھا تو اس نے اپنے دور اقتدار میں کیوں نہیں بنایا یہ قرارداد آئندہ انتخابات میں سیاست کے لیے ہے تاکہ عوام کو یہ کہا جا سکے کہ ہم نے صوبے کے لیے قرارداد منظور کی تھی لیکن مسلم لیگ نون کی حکومت نے صوبہ نہیں بنایا۔نواز خان ناجی کا موقف بھی یہی رہا ہے کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے اور صوبہ نہیں بن سکتا ہمیں عبوری آئین دیا جائے۔ فدا محمد ناشاد بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر آئینی صوبہ بن بھی جائے تو چند مہینوں کے اندر عوام اٹھ کھڑے ہوں گے کیونکہ گندم کی قیمت پچپن روپے فی کلو تک پہنچ جائے گی۔گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کے حوالے سے بحث ایک طویل عرصے سے کی جا رہی ہے لیکن یہ بیل تاحال منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے امکانات دکھائی دیتے ہیں۔اگر پیپلز پارٹی کی حکومت صوبہ بنانے کے حوالے سے مخلص ہوتی تو اس نے مرکز میں چار سال تک اپنی حکومت کی موجودگی کے باوجود صوبہ بنانے کے حوالے سے قابل ذکر اقدامات اٹھانے سے کیوں گریز کیا ۔اس نے اس دورانیے میں تسلسل سے وفاق میں اپنی جماعت کی حکومت کو یہ باور کیوں نہ کرایا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔اگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایسا نہیں کیا تو لامحالہ وہ یہ سمجھتی ہو گی کہ اس راہ میں شاید کچھ رکاوٹیں ہیں اگر واقعتا یہ رکاوٹیں موجود ہیں تو اس کے لیے کسی ایک جماعت کو قصوروار نہیں گردانا جا سکتا بلکہ غور طلب امر یہ ہے کہ ان مطالبات کی تکمیل کا ایسا متفقہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے جو مقاصد کے حصول میں معاون ہو۔اگر عالمی سطح پر کچھ رکاوٹیں پائی جاتی ہیں تو بھی اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ نون لیگ بھی حکومت میں آنے سے قبل زور و شور سے آئینی حقوق دینے کا وعدہ کرتی رہی ہے تحریک انصاف نے بھی صوبے کے خواب دکھائے تھے۔ملک بھر نئے یونٹس کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہرالقادری’ایم کیوایم کے الطاف حسین نئے صوبے بنانے کے حوالے سے پیش پیش رہے ہیں ان کا کہنا تھا ملک میں بتیس صوبے بننے چاہیں بعض حلقے ہر ڈویژن اور بعض ہر ضلع کو صوبہ بنانے کے حق میں تھے ۔اگرچہ انتظامی طور پر صوبے بنانا انتہائی ضروری ہیں لیکن پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی’بلوچستان کی تقسیم کے سلسلے میں بھی خاصی مخالفت ہے’اے این پی خیبرپختونخوا میں ہزارہ صوبہ بنانے کی مخالف ہے ۔اگرچہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کے بارے میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں کوئی اختلاف نہیں لیکن یہ بھی اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ کسی ایک بھی نئے صوبے کی تخلیق مزید صوبوں کو جنم دینے سے نہیں روک سکے گی۔ تاہم گلگت بلتستان کا معاملہ ان سے یکسر مختلف ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کے عوام کے دیرینہ مطالبے پورا کرتے ہوئے انہیں آئینی حقوق دیے جائیں تاکہ ان کی بے چینی و اضطراب کا تدارک ہو سکے۔

گلگت بلتستان کے کارپردازان کو چاہیے کہ وہ عبوری صوبے یا آزادکشمیر طرز کے سیٹ کا مطالبہ کریں تاکہ عوام کو کم از کم وہ حقوق تو حاصل ہو سکیں جو آئینی صوبے کے قریب تر ہیں۔ان حالات میں باہم الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ یاد رکھا جانا چاہیے کہ مقاصد کا حصول باہمی اتحاد واتفاق سے ہی ممکن ہو سکے گا بصورت دیگر آئینی صوبے کے مطالبے پر انہیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا کر لیں تو اس بارے میں غور کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments
Share Button

Facebook Comments
Share Button